تحریر:سلمان احمد قریشی
پنجاب کے شہر جڑانوالا میں توہینِ مذہب کے الزام کے بعد ہونے والے پُرتشدد واقعات کی رپورٹ کے مطابق مسیحی برادری کے 86 مکان اور 19 چرچ توڑے اور جلا دیے گئے۔جڑانوالہ میں مسیحی برادری کی عبادت گاہوں اور مکانوں پر مشتعل ہجوم کے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تفصیلی رپورٹ حکومت پنجاب کو جمع کرا دی۔
قارئین کرام! پُرتشدد انتہا پسندی کا مطلب ہے کہ کوئی بھی فرد یا تنظیم کسی نظریاتی عقیدے کے حل کے لیے، یا کوئی بھی سیاسی، فرقہ وارانہ، سماجی، نسلی اور مذہبی مسئلے کے لیے طاقت کا استعمال کرتا ہے، تشدد کو ہوا دیتا ہے یا ایسے کسی بھی فعل کا ارتکاب کرتا ہے یا کسی ایسے شخص یا تنظیم کی حمایت، حوصلہ افزائی کرتا ہے، یا اسے فروغ دیتا، اکساتا، بھڑکاتا، وکالت کرتا یا جواز پیش کرتا ہے، تو اس کی قانون کے تحت اجازت نہیں۔ پاکستان میں ہم یہ جو انتہا پسند نظریہ دیکھتے ہیں صدر ضیائالحق کے دور میں قومی سطح پر وارد ہوا۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جو چھوٹی سے چنگاری سے بار بار بھڑک اٹھٹی ہے۔ قومی سطح پر کئی بار کوششیں کیں گئیں لیکن یہ غضبناک روئیے ختم نہیں ہو سکے۔ حقیقت میں اس نظریہ کا کوئی جوابی بیانیہ پیش نہیں کیا جا سکا۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کے مذہبی عقاعد کے خلاف معتدد واقعات کا تسلسل سے رونما ہونا بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے جو ملک میں پُرتشدد واقعات کو جنم دیتا ہے۔ اس کے ساتھ قانون کے احترام اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے ملک میں توہینِ مذہب کے مرتکب افراد کو سزا دلوانے کی بجائے قانون کو ہاتھ میں لینے کی حمایت بھی موجود ہے جو ان واقعات کو جنم دیتی ہے۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ان کے قاتل کی حمایت اور اس پر سیاست سے معاشرہ مزید تشدد کا شکار ہوا۔ توہینِ مذہب کی کوئی بھی حمایت نہیں کرتا لیکن اس پر، پُرتشدد ردِعمل دینے اور ظالمانہ اقدام اٹھانے والوں کو ہیرو قرار دینے کی روش نے تشدد کو فروغ دیا۔ الزام پر فرد یا ہجوم اپنی عدالت لگا لیتا ہے اور دینِ اسلام اور ملکِ پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتا ہے لیکن ایک طبقہ ایسے کرداروں کی حمایت کرتا ہے اور اسے مذہبی عقدیت سے جوڑا جاتا ہے۔ ایسے رویوں کی اسلام میں گنجائش ہے نہ قانون اس پر خاموش رہ سکتا ہے۔ اس کے باوجود یہ رویہ فروغ پاتا گیا۔ سزا یا طاقت کا استعمال اس مسئلہ کا حل نہیں اسکا ایک ہی حل ہے کہ متبادل بیانیہ پیش کیا جائے اور سیاسی مصلحت کا شکار نہ ہوا جائے۔ انتہا پسندی اب کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں در آئی ہے۔
ملک کی مقبول سیاسی جماعت پی ٹی آئی سے قلم کاروں کی اکثریت کو شکوہ رہا کہ اس کے کارکنان ذرا سے اختلافِ رائے کو بھی برداشت نہیں کرتے اور اپنے نقطہ نظر سے اختلاف کرنے والوں پر مغلظات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ ہمارے نوجوان تہذیب کے دائرے سے نکل ر ہے ہیں اسکی وجہ تبدیلی کے خواب اور جنت کے آسان راستے کا بیان ہے جو مذہبی جماعت کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ جڑانوالہ میں 16 اگست کو مبینہ توہینِ مذہب کے بعد مظاہرین نے ایک مسیحی بستی کا گھیراؤ کر کے وہاں توڑ پھوڑ پر کئی ممالک کی حکومتوں کی جانب سے اس واقعے کے حوالے سے دفترِ خارجہ حکام سے سوال کیا گیا۔امریکہ سمیت مختلف ممالک کی جانب سے میسحی کمیونٹی کے خلاف عدم برداشت رویے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ یورپی یونین کی سفیر رائنا کوئنکا نے بھی بیان جاری کیا اور کہا کہ جڑانوالہ سے پریشان کن رپورٹس مل رہی ہیں۔ ہم امن و امان کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ برطانیہ کے وزیرِ مملکت خارجہ برائے ایشیا طارق احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ پنجاب کے شہر جڑانوالہ میں مسیحی برادری کے خلاف تشدد سے پریشان ہیں ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پاکستان کے تمام شہریوں کو ظلم و ستم کے خوف کے بغیر عبادت کرنے کی آزادی ہونی چاہیے. ترجمان دفترِ خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ ایسی عدم برداشت اور پُرتشدد کارروائیاں پاکستانی معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہیں۔ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں جو ہم نے پہلے کہا ہے۔ فیصل آباد کا واقعہ ایک افسوس ناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے جس نے پاکستان بھر کے مسیحیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ پاکستان کی قیادت اور پورے پاکستانی معاشرے کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے لیے راہ ہموار کی جا چکی ہے۔ حکومتِ پاکستان اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گی جب تک ان مذموم کارروائیوں کے ذمہ داروں کو پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا آئی ایس پی آر انٹرن شپ پروگرام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جڑانوالہ کا واقعہ انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ برداشت ہے، نوجوان سچ، آدھا سچ، جھوٹ اور غلط معلومات کا فرق سمجھیں۔
نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ جڑانوالہ کے علاقے عیسیٰ نگری پہنچے اور گرجا گھر کی از سرِ نو تعمیر کا جائزہ لیا، بعد ازاں تقریب میں متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا اور امدادی چیک تقسیم کیے، انہوں نے تمام متاثرین کو گلے سے لگایا۔ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ سانحہ جڑانوالہ ہمارے سماج میں موجود ایک مرض کی نشاندہی کرتا ہے، یہ انسانی رویہ ہے جو شیطان کی طرح روپ دھارتا ہے، انتہا پسندی ایک رویہ ہے جس کا کسی مذہب اور فرقے سے کوئی تعلق نہیں، بطور امتی ہم مسیحی بھائیوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ ہمارا رویہ الفاظ سے زیادہ عمل سے نظر آئیگا، انسانیت کے دشمنوں کا متحد ہو کر مقابلہ کریں گے، کوئی معاشرہ عدل و انصاف کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا، اقلیتوں کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے، سانحہ جڑانوالہ کا پتہ چلا تو میں دل سے دکھی ہوا، اقلیتوں کے جان و مال پر کوئی بھی شخص یا گروہ حملہ آور ہو گا تو ریاست مظلوم کے ساتھ ہو گی۔پاکستان پیپلز پارٹی کا وفد بھی جڑانوالہ گیا۔ پی پی پی رہنماوں کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے بارے میں جو بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ آپ مکمل شہری نہیں ہیں نہ صرف قائداعظم کینظریات کیخلاف ہے بلکہ ہمارے آئین قانون اور مذہب کے بھی خلاف ہے۔ جڑانوالہ کے چرچ میں سینٹر شیری رحمان کے ساتھ نئیر بخاری، رانا فاروق سعید، فیصل کریم کُنڈی، ندیم افضل چن، عمران اٹھوال اور پاسچر ولسن موجود تھے۔
ہم اس پیارے دین کے پیروکار ہیں جس میں محبت، احترام، رواداری سکھایا گیا ہے اور بے شک انتہا پسندوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا. اور ہم ان سے بلکل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہیں. اس واقعے نے پاکستان میں رواداری اور باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے بین المذاہب مکالمے کو بھی زندہ کیا ہے۔ حکومتی سطح پر ہمیشہ بہتری کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں، اب یہ عوامی سطح پر قائدین کی ذمہ داری ہے کہ تشدد کے بیانیہ کے خلاف متحد ہو جائیں اور جناح کا پاکستان دنیا کے سامنے لائیں۔ ایسا پاکستان جہاں مذہب، عقیدہ یا قومیت کی بنیاد پر تفریق نہ ہو۔ تشدد، نفرت، اشتعال اور توہینِ مذہب کا تصور نہ کیا جا سکے۔ ایسے معاشرہ کی تشکیل حکومتی اقدامات اور بیانات سے ممکن نہیں، ان واقعات سے بچنے کا واحدحل قومی بیانیہ کی تشکیل اور اسکی ترویج ہے۔