انتخابات میں تاخیر ذمہ دار کون۔۔۔۔؟
انتخابات میں تاخیر ذمہ دار کون۔۔۔۔؟
تحریر:سلمان احمد قریشی
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کر دیا۔ اب عام انتخابات 90 دن کے اندر نہیں ہو سکتے۔ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق ملک بھر میں نئی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ادارے پر لازم ہے کہ وہ نئی حلقہ بندیاں کرے جس کی 14 دسمبر کو حتمی اشاعت کی جائے گی۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سے بھی معاونت طلب کر لی۔ حلقہ بندیوں سے متعلق انتظامی امور 31 اگست تک مکمل کیے جائیں گے جبکہ ملک بھر میں 8 ستمبر سے 7 اکتوبر تک حلقہ بندیاں کی جائیں گی۔ یکم سے 4 ستمبر تک حلقہ بندی کمیٹیوں کو تربیت دیا جائے گا۔ حلقہ بندی کمیٹیاں 21 اگست تک قائم کر دی جائیں گی۔ حلقہ بندیوں کے خلاف اپیلیں 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک کی جا سکیں گی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن کمیشن 10 نومبر سے 9 دسمبر تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات پر فیصلے کرے گا، حلقہ بندیوں کیلیے 4 ماہ کا وقت مختص کیا گیا ہے، الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن نئی حلقہ بندیاں کرنے کا پابند ہے۔ الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ 2023 میں الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں۔ قارئین کرام! نگران سیٹ اپ آ چکا ہے، آئینی تقاضا تو یہی ہے کہ 90 دن میں عام انتخابات کے انعقاد کو ممکن بنایا جائے۔ الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری بھی یہی ہے لیکن ایسا ہونے نہیں دیا جا رہا۔ انتخابات کب ہونگے اس پر بھی مختلف آرا ہیں۔ سیاسی قیادت حکومتی امور نگران حکومت کے سپرد کر کے الگ ہو چکی ہے۔ اب خدشات ہیں، اندازے ہیں یا مطالبات ہیں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن کا کہنا ہے کہ تاریخ میں چاچے مامے فارغ ہوتے دیکھے ہیں، ن لیگ میں عوامی لوگ الیکشن چاہتے ہیں اور کھمبے والے الیکشن سے ڈرتے ہیں۔ پی پی پی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن نے نجی نیوز چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انتخابات کے حوالے سے کہا کہ انتخابات میں زیادہ تاخیر یا کوئی اور سسٹم لایا گیا تو سیاسی طاقتیں اکٹھی ہوں گی، لگتا ہے کسی کو نوابزادہ نصراللہ والا کردار ادا کر کے سیاسی قوتوں کو اکٹھا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسوقت نوابزادہ نصراللہ والا کردار صرف آصف زرداری ادا کر سکتے ہیں، آصف زرداری واحد شخصیت ہیں جن کی ہر جماعت دوسری سے ضمانت مانگتی ہے، مستقبل میں کسی کو اکٹھا کر کے اتحاد کرنا ہوا تو اس کا محور آصف زرداری، نوازشریف ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہر صورت الیکشن مانگے گی اور کافی لوگ انکے ساتھ مل جائیں گے، سیاستدان کچھ آرام کریں، غیر سیاسی نگراں سسٹم لایا گیا ہے ہمیں اعتراض نہیں، اس سے پہلے بھی بڑے ٹیکنوکریٹ، امپورٹڈ وزیراعظم آئے لیکن بہتری نہیں آئی۔ پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ ابھی سیاسی قیادت خاموش ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو اکٹھا ہونے میں وقت نہیں لگتا، اب اس ملک میں سیاست نہیں مینجمنٹ ہو رہی ہے۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے الیکشن کمیشن کے انتخابات سے معزولی کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا گزشتہ روز کا فیصلہ ماورائے آئین ہے، الیکشن کمیشن اگرانتخابات ہی نہیں کرا سکتا تو اسے بند کر دینا چاہیے۔ سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ سی سی آئی میں نگراں وزیراعلیٰ پنجاب اور کے پی کے فیصلہ نہیں کر سکتے، اس جرم میں گزشتہ مخلوط حکومت بھی شامل ہے جس نے التوا میں مدد کی۔ انھوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل فیصلے کے تحت الیکشن نہ کرانا غیر آئینی ہے، جب انتخابات وقت پر نہیں ہونگے تو جمہوریت ڈی ریل ہو گی۔ اگر جمہوریت ڈی ریل ہو گی تو میڈیا کی آزادی خطرے میں ہو گی اور بنیادی انسانی حقوق غصب ہوں۔ پی پی پی کے رہنما فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ 90 روز میں الیکشن ہوں، ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ اپنا موقف اتحادی جماعتوں کے سامنے بھی رکھیں گے۔ الیکشن کمیشن اپنا اسٹاف بڑھا کر حلقہ بندیاں 2 ماہ میں مکمل کر لے۔ ملک میں معاشی بحران ہے۔ نہیں پتہ کہ راجا ریاض کس کو بڑا کہہ رہے ہیں۔
سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کا کہنا ہے بڑوں کا فیصلہ ہے انتخابات فروری میں ہونگے۔ کاغذ پنسل لے کر میری بات لکھ لیں کہ سترہ فروری سے ایک ہفتے پہلے یا پندرہ فروری کے ایک ہفتے بعد انتخابات ہو جائیں گے یہ میری طرف سے بریکنگ نیوز ہے اس میں اگر کوئی کمی ہو تو میں ذمہ دار ہوں۔ میں سیاسی ورکر ہوں میں جانتا ہوں الیکشن فروری میں ہونے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے بارے میں کچھ نہیں کہتا انتخابات سے متعلق بتا چکا ہوں پھر دہرائے دیتا ہوں کہ پندرہ فروری سے دو چار دن پہلے یا دو چار دن بعد انتخابات ہو جائیں گے اس میں کسی کو ابہام ہے تو اپنی غلط فہمی دور کر لے۔ چند دن پہلے راجہ ریاض نیکہا تھا اگر انتخابات ملک کی خاطر ملتوی بھی ہو جائیں تو کوئی بات نہیں ہے اس سوال کے جواب میں راجہ ریاض نے کہا کہ میں اب بھی اسی بات پر کھڑا ہوں۔ یہ گفتگو سابق اپوزیشن لیڈر کر رہے ہیں اسکے بعد انتخابات کے انعقاد کا آئین میں درج مدت کے دوران ہونا خواہش ہو سکتا ہے اس پر عمل نہیں ہو گا۔ اب یہ سیاسی قیادت کا امتحان ہے کہ وہ کس طرح آئین کو پامال ہونے سے بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ صورتحال واضح ہو چکی ہے۔
صوبہ پنجاب اور کے پی کے کی صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے انعقاد کے آئینی تقاضہ اور عدالتی حکم پر عملدآمد نہ ہونے کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے گا۔ پی پی پی نے صوبہ پنجاب میں اپنے امیدوار تو فائنل کیے لیکن حکومت پر انتخابات کے لیے زور نہیں دیا، شہباز شریف کی جماعت انتخابات سے انکاری رہی۔پی ٹی آئی کے چیرمین کی انا اور مسلم لیگ ن کی خواہشات سے ملک میں جمہوریت کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔اب انتخابات وقت مقررہ پر نہیں ہونگے۔ ملک پہلے ہی سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے اس سے اب کیسے نکلا جائے یہ سیاسی قیادت کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے۔ اقتدارکی خواہش نے ملک کو دلدل میں پھنسا دیا ہے اس سے نکلنے کا واحد حل انتخابات کا انعقاد ہے۔ لیکن اس پر کوئی حتمی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ راجہ ریاض بڑوں کے فیصلہ کی بات کرتے ہیں اس سے یہ واضح ہے اب سیاستدان انتخابات کے انعقاد کے لیے جدوجہد کریں گے تو پاکستان میں جمہوریت بچ سکتی ہے، موجودہ حالات میں سیاسی قیادت نے اپنے ہاتھ سے جمہوریت کا گلا دبا دیا ہے۔ جمہوریت کی بحالی اور عوام کی خوشحالی اب بیانات سے ممکن نہیں اس کے لیے نئے میثاقِ جمہوریت کی ضرورت ہے۔ اپنی نااہلی اور ناکامی اسٹیبلشمنٹ پر ڈالنے سے راستہ نہیں نکل سکتا۔