• 9مئی واقعات راست اقدام ضروری

    تحریر: سلمان احمد قریشی

    ہماری سیاست میں تنقید کے ساتھ غیر مہذب اور بیہودہ فقروں کے استعمال نے ہمارے مزاجوں کو نہایت منفی انداز میں متاثر کیا ہے۔سیاست جو نہایت سنجیدہ کام ہے اس میں غیر سنجیدہ کردار ہماری اخلاقی پستی کا باعث بن چکے ہیں۔شیخ رشید بھی ایسی ہی سیاست کا استعارہ ہیں۔ ایک ایسا کردار جس کا کوئی سیاسی نظریہ نہیں بد زبانی، بدکلامی اور فحش بیانات کے باعث مختلف ادوار میں حکومتوں میں شامل رہے۔کمپنی کی مشہوری کے لیے سیاسی بیانات تک محدود سیاسی کردار نفرت کی سیاست میں اکیلے نہیں لیکن سر فہرست ضرور ہیں۔دوسری طرف بے نظیر بھٹو کے خلاف نازیبا فقرے بازی کی سیاست کا آغاز کرنے والے آئی جے آئی کے سیاسی کردار مسلم لیگ نواز کے اہم جزو بن گئے۔نوے کی دہائی سے سیاست میں ذاتیات اور شخصیات کو ٹارگٹ کرنا ہی سیاست ٹھہرا۔سیاسی مخالفت سے نفرت کا یہ سفر پی ٹی آئی کی مقبولیت سے اپنی انتہا تک پہنچا۔ سیاسی مخالفت اور اختلاف رائے میدان سیاست سے آگے ملکی اداروں پر تنقید سے ایک قدم آگیمنفی مہم تک جا پہنچا۔
    اس سے قبل نواز شریف مجھے کیوں نکالا مہم کے دوران ایسی باتیں کرتے رہے جو اداروں کے احترام اور تقدس کے مطابق نہیں تھے۔پی ٹی آئی اقتدار میں آنے کے لیے سیاسی مخالفین کو چورڈاکو جیسے القابات سے للکارتی رہی۔ مفاہمت کو گالی بناکر پیش کیا گیا۔ ہر وقت ہر جگہ اور ہرایشو پر دشنام درازی کے سوا کچھ نہیں کیا گیا۔ ایک لیڈر کو لیکر باقی سب کو برے القابات سے پکارا جاتا رہا۔ورکرز کے اندر اپنے لیڈر کی اندھی محبت اور تقلید کو یقینی بنانے کے لیے سیاست میں نفرت کو فروغ دیا گیا۔اس ماحول میں جب آئینی طریقہ سے تحریک عدم اعتماد کپتان کے خلاف کامیاب ہوئی توپھر کیاتھا۔۔۔ملکی ادارے بھی قاسم کے ابا اور انکے پارٹی رہنماوں کی ہٹ لسٹ میں شامل ہوگئے۔ملکی اداروں کے ساتھ خوشگوار تعلقات پر ناز کرنے والی جماعت اداروں کے خلاف مہم جوئی پر اتر آئی۔جب نفرت پھیلائی جائے تو محبت فروغ نہیں پا سکتی۔ایسی سیاست میں ایک پارٹی رہنما کی گرفتاری کو ریڈ لائن قرار دینا اچنبھے کی بات نہیں۔ ایک طرف جیل بھرو تحریک کا اعلان دوسری طرف گرفتاری پر پر تشدد احتجاج انکے دوغلے پن کی انتہا تھی۔ وہ جیل کو سسرال اور ہتھکڑی کو زیور قرار دینے والا کاغذی لیڈر بھی چھپ کر بیٹھ گیا۔
    قارئین کرام!جب تنقید کرنا، تنقید سننا اور تنقید پڑھنا عام ہوجائے۔دوسروں پر ہنسنا اور مذاق اڑانا ہمارے اجتماعی معاشرے کا جزو بن چکا ہو ایسے میں بربادی کا راستہ کھلا ملتا ہے۔ اختلاف رائے کی حامل شخصیات، افراد اور جماعتیں دشمن کے درجہ پر محسوس ہوتے ہیں۔ان حالات سے مقابلہ کے لیے لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے۔بد قسمتی سے وطن عزیز میں لیڈر نہیں صرف شخصیات کا غلبہ ہے۔شخصیت پرستی اور اندھی تقلید،ضد اور ہٹ دھرمی نے سیاست میں زہر گھول دیا جس سے ریاست اور ریاستی ادارے بھی محفوظ نہ رہے۔شخصیت اور لیڈر میں فرق ہوتا ہے۔بد قسمتی سے شخصیت کو لیڈر سمجھا گیا جبکہ ایک لیڈر کبھی اپنی ذات تک محدود نہیں ہوتا وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں جیتا اور خون کی طرح جسم میں دوڑتا ہے۔اسکے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ اور اسکے افعال صرف اسکے اپنے نہیں ہوتے۔سیاسی شخصیت کی غلطیوں کا بوجھ وہ لوگ بھی اٹھاتے ہیں جو اپنے خواب اپنی امیدیں اس شخص سے وابستہ کرلیتے ہیں۔9مئی کو بھی ملک عزیز میں ایسا ہی ہوا۔ مقبول جماعت کے کارکن اور رہنما نامعقول کردار میں نظر آئے۔ایسے مناظر دیکھنے میں آئے جنہیں دیکھ کر آنکھیں دھندلاجاتی ہیں۔زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں۔9مئی کے کرداروں کے پیچھے کون تھا۔۔؟ اس میں کون کون ملوث ہیں اس کا تعین ضروری ہے۔ پی ٹی آئی بطور جماعت ذمہ دار نہیں لیکن اس جماعت سے وابستہ کچھ رہنماوں کا کردار شرانگیز اورنفرت پھیلانے والا ضرور رہا۔اس لیے جمہوریت کے استحکام اور قانون کی بالادستی کے لیے 9مئی میں ملوث کرداروں کے بارے نرم رویہ قابل قبول نہیں۔شرپسندوں کو فوجی عدالتوں کے ذریعے سزائیں دینا ضروری ہیں۔تاکہ سیاسی شخصیات سیاست کرسکیں اور سیاست اور تشدد پسندی میں تمیز بھی برقرار رہے۔
    9مئی جیسے دلخراش مناظر ہم نے 75 سال میں پہلے نہیں دیکھے تھے۔ان واقعات میں مجموعی طور پر 2.5بلین روپے کا نقصان ہوا۔شرپسندوں نے وہ کچھ کیا جو دشمن بھی نہیں کرسکا۔دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے ماحول میں ہمارے ہاں احتجاج کی آڑ میں سرکاری املاک کانقصان کیاگیا۔چیرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد فوجی تنصیبات، شہدا کی یادگاروں اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کی پاکستانی عوام کی جانب سے شدید مذمت سامنے آئی ہے، اور اکثریت نے حکومت سے ذمہ داروں کیخلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے،اس بات کا انکشاف ”اپسوس” پاکستان کے سروے میں ہوا، جس میں ملک بھر سے 1ہزار سے زائد افراد نے حصہ لیا، یہ سروے 18سے 21 مئی 2023کے درمیان کیاگیاتھا،سروے میں 93 فیصد پاکستانیوں نے9مئی کے واقعات کی شدید مذمت کی اور انہیں افسوسناک قرار دیا،اپسوس کے مطابق 80فیصد پاکستانیوں نیحکومت سے 9مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔
    سیاسی رہنماؤں کو احتجاج اوراپنے مطالبات منوانے کے حوالے سے لوگوں کی تربیت کرنی چاہئیے۔کسی بھی جماعت یا گروہ کی طرف سے املاک کا نقصان قطعی جائز نہیں ہوسکتا چاہے کوئی سی بھی دلیل لے آئیں۔یہ تشدد ہے اورجو چند لوگ ایسا کرتے ہیں وہ درحقیقت جنونیت اور دہشت گردی ہے۔ احتجاج سب کا حق ہے مگر مدلل اور غیرمتشدد طریقے سے کیا جائے تو بہتر ہے۔عوامی راج کے نام پر مسلح افواج اور شہدا کی تذلیل راست اقدام نہیں۔ایسی سوچ کو معاشرہ میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا یہ ردعمل بھی نہیں ہوسکتا۔یہ ایک گھناونی سازش تھی۔9مئی کیمناظر کا دفاع اب خود پی ٹی آئی کے ذمہ داران کے لیے بھی مشکل ہو چکا ہے۔ خاص طور پر جناح ہاوس اور مختلف مقامات پر فوجی ہیروز کی یادگاروں کی توہین کے واقعات پر پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والے حلقوں کا اس تشدد کا دفاع کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ان واقعات کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کو بھی پاکستان کے مروجہ فوجداری قوانین کے علاوہ پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قانون کے کٹہرے میں لایا جانا ضروری ہے۔یہ ملکی سا لمیت کا معاملہ ہے اسے سیاست کی نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا اور نہ ہی اس پر سیاست کرنا مناسب ہے۔

    232 مناظر