سنگاپور کیسا ملک ہے؟
۔۔۔
دنیا میں بہت سے ممالک بہت سے شہر ایسے بیں جو خوبصورتی کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہیں۔ سفائی ستھرائی میں اُنکا کوئی ثانی نہیں ہے۔ وہاں کے منتظم اربابِ اختیار خود اتنے ذمہ دار قانون کے پابند ہیں کہ وہ زرا بھی غلط اور غیر قانونی چیز برداشت نہیں کر سکتے۔ اسی طرح سنگاپور کی صفائی ایک ایسی چیز ہے جس کی ترویج حکومت نے شعوری طور پر کی ہے۔ اگر سنگا پور کے شہریوں سے آپ یہ بات کریں گے کہ اُن کا ملک شاید دنیا کا سب سے صاف ستھرا ملک ہے تو وہ عاجزانہ انداز میں اس کو لیں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے رہنماؤں نے صفائی کا اتنا اعلیٰ معیار حاصل کرنے اور سنگاپور کا عوامی تشخص برقرار رکھنے کی ہر ممکن سعی کی ہے۔ ڈولنڈ لو سنگا پور میں پبلک پالیسی سکالر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سنگاپور کی صفائی ایک ایسی چیز ہے جس کی ترویج حکومت نے شعوری طور پر کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صفائی کے دو مطلب ہیں ایک جسمانی یا ماحولیاتی صفائی اور دوسرے صاف حکومت اور معاشرہ، جہاں کرپشن کو بالکل برداشت نہیں کیا جاتا۔
۔۔۔
سنگاپور کا ایئرپورٹ آپ کو غیر معمولی نہیں لگے گا لیکن چانگی پہنچ کر آپ کو سنگاپور کا ایک الگ تجربہ ہوتا ہے۔ میں جب بھی ہوائی جہاز سے باہر قدم رکھتا ہوں تو ٹھنڈک اور آرکڈ چائے کی خوشبو کے سرد جھونکے مجھ سے آن ٹکراتے ہیں۔ سنگاپور کا ایئرپورٹ آپ کو غیر معمولی نہیں لگے گا لیکن چانگی پہنچ کر آپ کو سنگاپور کا ایک الگ تجربہ ہوتا ہے۔ پاسپورٹ کنٹرول ڈیسک کی جانب جاتے اور معطر ہوا سے گزرتے ہوئے، آپ صاف شفاف دیواروں، صاف پانی، انسانی اور روبوٹ کی شکل میں کام کرتا عملہ دیکھیں گے اور اعلیٰ ٹیکنالوجی سے لیس واش رومز بھی جہاں آپ کو فیڈ بیک والی سکرینز دکھائی دیتی ہیں۔
اگر آپ ایئر پورٹ کی عمارت سے باہر نکلیں اور یہ توقع کریں کہ باقی کا سارا شہر اسی طرح صاف ستھرا اور منظم ہو گا، تو آپ کو مایوسی نہیں ہو گی۔ سنگا پور کو عالمی طور پر اس کے صاف ستھرے راستوں، خوبصورت پارکس اور کوڑے کرکٹ سے پاک گلیوں کے طور پر جانا جاتا ہے۔ لیکن صفائی یہاں فقط جمالیات کی تقاضوں سے بھی آگے کی شے ہے۔ اس چھوٹے سی شہری ریاست میں، جس نے فقط 56 سال پہلے آزادی حاصل کی ہے، صفائی دیگر سماجی ترقی کے اصولوں کے ساتھ ساتھ اہم ہے۔
۔۔۔
ملائشیا سے الگ ہونے کے بعد سنہ 1965 میں اس وقت کے صدر لی کوان یو کے اس ریاست کے لیے بہت سے ارادے اور مقاصد تھے اور ان میں سے ایک مقصد یہ بھی تھا کہ تیسری دنیا میں ان کا ملک سب سے سرسبز خطہ بنے۔ انھوں نے کہا تھا کہ نیا آزاد ریاستی شہر بیرونی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا چاہتا ہے۔ لُو کہتے ہیں کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ یہ چیزیں سنگا پور کو جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر حصوں سے ممتاز کریں گے عملی طور پر دیکھیں تو صفائی حاصل کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ معیاری سیورج سسٹم ہو، ڈینگی اور بیماریوں سے نمٹنے کے لیے پروگرام بنایا جائے، دریائے سنگا پور کو آلودگی سے پاک کرنا، جزیرے میں بڑے پیمانے پر درخت لگانا اور ہر جگہ کھانے پینے کے ٹھیلے لگانے والوں کے لیے ڈھکے ہوئے فوڈ سٹریٹ پوائنٹس بنانا۔
۔۔۔
اس کامطلب یہ بھی تھا کہ قومی سطح پر عوامی صحت کی مہم کی اپیل کی جائے کہ سنگا پور کے شہری اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ صدر لی کوان یو نے سنہ 1968 میں کہا تھا کہ کمیونٹی کی صفائی کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ لوگ بھی اپنی شہری ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں۔ اب وہاں کوڑا کرکٹ کے خلاف ہر سال ایک دن منایا جاتا ہے۔ لی کی تقریر میں قومی سطح پر سنگاپوریوں میں قومی تفاخر کے ایک نئے احساس کو جنم دینے کی کوشش کی گئی۔ انھوں نے اجتماعی طور پر باہمی رابطہ کاری کے جذبے کے ساتھ اپیل کی جسے وہ قومی مقاصد کے حصول کے لیے بہت ضروری سمجھتے تھے۔
۔۔۔
جیسے ہی ریاستی شہر کی ماحولیاتی صورتحال بہتر ہوئی سنگا پور نے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور سیاحوں کو یہاں آنے کی ترغیب دی جس سے غیر معمولی معاشی نمو ہوئی۔ آج کل سنگا پور پرسنل سکیورٹی، بلند معیار زندگی اور عالمی شہروں کی رینکنگ میں سب سے اُوپر ہے۔ اس کے علاوہ عالمی فری مارکیٹ اکانومی میں یہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ مسابقت پذیر ملک ہے۔ اس کے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ سے زیادہ کہیں بھی آپ کو اس قوم کی جدید زندگی کے آثار نہیں ملیں گے جہاں چمکدار اور اونچے دفاتر کے ٹاورز ہیں، ہزاروں بین الاقوامی کمپنیوں کے ہیڈ کوارٹرز کا مسکن۔ یہ مستقبل کی مثالی دنیا ہے جس کا خواب اس کے بانی وزیراعظم ہی دیکھ سکتے تھے۔
اس ملک کی ان کامیابیوں کے باوجو غیر ملکی میڈیا کے انٹرویوز میں یہاں چیونگم چبانے پر پابندی کے متعلق بات سے سنگاپور کی بدنامی ہوتی ہے۔ سنہ 1992 میں یہاں قانون پاس ہوا تھا جس کا مقصد عوامی مقامات پر چبا کر پھینک دی جانے والی چیونگم کی صفائی پر اٹھنے والے اخراجات سے نمٹنا تھا۔ مگر اب چیونگم کھانےکی اجازت ہے۔ اگر آپ اپنے بیگ میں آدھی کھائی ہوئی چیونگم کو غلطی سے لے آئے ہیں تو آپ کو جیل میں نہیں ڈالا جائے گا، مگر اب بھی یہاں چیونگم فروخت کرنا منع ہے۔
سنگا پور میں سخت پابندیاں لگانے کے بجائے حکومت عام طور پر معاشی مراعات دیتی ہے اور سوسائٹی کی مدد کرتی ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے حالیہ کاربن ٹیکس کو متعارف کیے جانے والی پالیسی کے بارے میں بتایا جس کا مقصد کاربن اخراج کو روکنا اور صاف توانائی کے متبادل ذرائع کو استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ وہاں کی صاف چمکدار بلند عمارتیں، کشتی کی شکل کے ہوٹل، انسان کے پانی پر بنائے ہوئے راستے، یہاں کی اصل روز مرہ زندگی کی تصویر پیش نہیں کرتے۔ جہاں کم ہی سیاح جاتے ہیں، تو وہاں مکمل طور پر پبلک ہاؤسنگ سٹیٹ، صاف ستھرے عوامی پارکس اور احتیاط سے لگائی ہوئی ریڑھیاں ہیں جہاں گندگی بالکل نہیں ہے۔
آج سنگاپور ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے۔ وہاں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہر سہولت میسر ہے۔ عوام پڑھی لکھی شعور ذمہ دار ہے۔ کوئی کسی کا نقصان نہیں کرتا نا وہ اپنے ملک کا نقصان کرتے بلکہ اپنے وطن کے چپے چپے کی حفاظت کرتے ہیں اسی لیے سنگاپور ایک خوبصورت ملک ہے۔ وہاں ہر شخص قانون کا پابند ہے نہ ان لوگوں میں کوئی خودغرضی و اناپرستی کا عنصر شامل ہے۔ اسی لیے وہ عوام اور وہ ملک خوشحال اور مضبوط ہیں۔
سنگاپور کیسا ملک ہے؟
