Site icon Meritnews

سرکاری املاک پر حملہ اور فوجی عدالتیں

تحریر: سلمان احمد قریشی

پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن اور متحدہ طلبا محاذ پاکستان کی نمائندگی کے لیے آل پاکستان یوتھ آرگنائزیشنز کے وفد کے ساتھ 9 مئی کے افسوسناک واقعات کی مذمت اور اپنی مسلح افواج سے اظہار یکجہتی کے لیے جناح ہاؤس لاہور کا دورہ کیا۔9مئی سے اب تک مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور وفد نے جناح ہاوس کا دور کیا اور تمام افراد سانحہ 9 مئی پر اس افسوسناک کاروائی کو دہشت گردی قرار دیتے ہیں۔ملک بھر میں اس واقعہ پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے خبردار کیا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانا دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے اور ایسے لوگوں کے خلاف سختی سے نمٹا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ میں ملک دشمن عناصر کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ اپنی سرگرمیوں سے باز آ جائیں ورنہ ان کو آئین اور قانون کے مطابق قرار واقعی سزا ملے گی۔ کسی کو ملک کے خلاف سازش نہیں کرنے دیں گے۔
قارئین کرام! 9مئی جیسے دلخراش مناظر ہم نے 75 سال میں پہلے نہیں دیکھے تھے۔ ہمارے ہم وطنوں نے وہ کچھ کیا جو دشمن بھی نہیں کرسکا۔دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے ماحول میں ہمارے ہاں احتجاج کی آڑ میں سرکاری املاک اور غریبوں کا نقصان کیاجاتا ہے جو شرعی اور قانونی ہر لحاظ سے ناجائز ہے۔سیاسی رہنماؤں کو احتجاج اوراپنے مطالبات منوانے کے حوالے سے لوگوں کی تربیت کرنی چاہئیے۔کسی بھی جماعت یا گروہ کی طرف سے املاک کا نقصان قطعی جائز نہیں ہوسکتا چاہے کوئی سی بھی دلیل لے آئیں۔یہ تشدد ہے اورجو چند لوگ ایسا کرتے ہیں وہ در حقیقت جنونیت اور دہشت گردی ہے۔ احتجاج سب کا حق ہے مگر مدلل اور غیرمتشدد طریقے سے کیا جائے تو بہتر ہے۔پاکستان میں احتجاج کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی سیاسی تاریخ ہے۔سیاسی حکومتوں کے خلاف احتجاج، مارشل لا کے خلاف سیاسی تحریکیں سب ہماری تاریخ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف احتجاج ہوا، عام شہریوں نے خود سوزی کی لیکن کسی نے سرکاری املاک کو آگ نہیں لگائی۔ جمہوریت کے نام پر مسلح افواج اور شہدا کی تذلیل ایسا فعل ہے جو قابل برداشت نہیں۔ہم ان شہدا کے خاندان اور وطن عزیز کی حفاظت پر مامور اپنے محافظوں کو اس گھناونے فعل پر جواب نہیں دے سکتے۔ ایسی سوچ کو معاشرہ میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا یہ ردعمل بھی نہیں ہوسکتا کیونکہ کوئی محب الوطن ایسا سوچ بھی نہیں سکتا کہ شہدا وطن کی بے حرمتی کرے۔
سانحہ 9مئی اتنا سادہ نہیں کہ اسے چند لوگوں کی غلطی یا ردعمل سمجھ کر نظر انداز کیا جاسکے۔شر پسندوں نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچا کر ناقابل معافی جرم کیا ہے۔نجی اور سرکاری گاڑیوں کو جلایا گیا، سوات موٹر وے کو جلایا گیا، سرکاری حکام کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، حساس املاک اور عمارات پر دشمن کی طرح حملے کیے گئے۔جناح ہاوس لاہورکو نذر آتش کیا گیا۔افواجِ پاکستان کے خلاف چند سو مسلح افراد کیجتھے نے انتہائی گھٹیا اور مذموم حرکت کی، شہدا اور غازیوں کی یادگاروں کی بے حرمتی کرکے پوری قوم کے دل کو زخمی کیا گیا اوراس کے بعد بھی یہ مذموم مہم اب تک جاری رکھنے کی کوشش کی۔ریاست پاکستان، نظریہ پاکستان اور افواج پاکستان تو تمام پاکستانیوں کو اپنی جان سے عزیز ہے۔وطن عزیز کے محافظ ہماری آزادی کے ضامن ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کسی سیاسی جماعت کے ہمدردوں نے فوجی مقتدرہ کے خلاف صرف زبانی کلامی تنقید کرنے کی بجائے بظاہر عملی طور پر حملہ کیا۔اس حملہ میں بہت سے ایسے مناظر بھی دیکھنے میں آئے جن کا دفاع اب خود پی ٹی آئی کے ذمہ داران کے لیے مشکل ہو چکا ہے۔ خاص طور پر لاہور کے کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر حملے کے دوران ہونے والی لوٹ مار اور مختلف مقامات پر فوجی ہیروز کی یادگاروں کی توہین کے واقعات پر پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والے حلقوں کا اس تشدد کا دفاع کرنا مشکل ہو چکا ہے۔لاہور میں واقع جناح ہاؤس جہاں کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ تھی اور جسے 9 مئی 2023 کو مشتعل ہجوم نے نذر آتش کر دیا تھا۔ان واقعات پر فوری ردعمل دیتے ہوئے پاکستان کی فوجی قیادت کی طرف سے یہ پالیسی بیان سامنے آیا تھا کہ ایسے واقعات کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کو بھی پاکستان کے مروجہ فوجداری قوانین کے علاوہ پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔عام آدمی بھی 9مئی کے واقعات میں ملوث شرپسندوں کے خلاف کاروائی فوجی عدالتوں کے تحت چاہتا ہے کیونکہ یہ دہشت گردی ہے ریاست پر حملہ ہے۔
فوجی عدالتیں پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے تحت قائم کی جاتی ہیں اور فوج کے حاضر سروس افسران ہی ان عدالتوں میں بطور جج بیٹھتے ہیں۔یہ عدالتیں آئین پاکستان کے آرٹیکل 175 کے تحت قائم کردہ عام عدالتی ڈھانچے سے باہر کام کرتی ہیں۔پاکستان میں فوجی عدالتوں میں عام افراد کے مقدمات سنے جانے کا آغاز لاہور میں 1953 میں فسادات کے بعد لگائے جانے والے مارشل لا سے ہوا جس کے بعد خصوصی فوجی عدالتیں لگا کر سزائیں سنائی گئیں۔یکم جنوری 2015 کو ملک کی تاریخ میں پہلی بار دستوری بندوبست کرتے ہوئے دو سال کے لیے 21ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف درج مقدمات کو بھی فوجی عدالتوں کے سپرد کر دیا گیا۔2017 میں دوسری بار 23ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کو مزید دو برس کے لیے یہ اختیار دے دیا گیا۔فوجی عدالتوں کے ذریعے انصاف کی فراہمی پر سوال اٹھا نا بنتا ہی نہیں۔قانون کی حکمرانی کا مطلب یہی ہے کہ آپ قانون اور عدالت میں اپنے حقوق کی جنگ لڑیں،سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانا سراسر دہشت گردی کا عمل ہے، طاقتور اور کمزور سب قانون کے سامنے برابر ہیں۔ یہی درس اسلام کا ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

Exit mobile version