• اسحاق ڈار کے بیانات اور آئی ایم ایف معاہدہ

    تحریر: سلمان احمد قریشی

    پاکستان اور بین الا قوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان3ارب مالیت کا سٹاف لیول معاہدہ ہوگیا ہے۔آئی ایم ایف شرائط پر حکومت پاکستان عوام پر مزید اضافی بوجھ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔بجلی اور گیس مزید مہنگی ہوگی۔پٹرولیم لیوی میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 3 سے 5 روپے فی یونٹ تک مزید اضافے کا امکان ہے۔گیس مزید مہنگی کرنے سے متعلق فیصلہ بھی جلد متوقع ہے اور اوگرا نے گیس اوسط 50 فیصد تک مہنگی کرنے کی تجویز بھی حکومت کو بھجوا رکھی ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کے پاس پٹرول اور ڈیزل پر لیوی میں 10 روپے فی لیٹر تک اضافے کی گنجائش ہے، اس وقت پٹرول اور ڈیزل پر لیوی 50 روپے ہے۔شہباز شریف کی موجودہ اتحادی حکومت پہلے ہی بجلی اور گیس صارفین پر 1300 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ ڈال چکی ہے۔ حکومت نے بجلی صارفین پر ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ ڈالا جب کہ گیس صارفین پر 310 ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالا گیا ہے۔شہباز حکومت اب تک بجلی کی قیمت 11 روپے 30 پیسے فی یونٹ مہنگی کرچکی ہے اور بنیادی ٹیرف میں 7 روپے 91 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ صارفین پر 3 روپے 39 پیسے فی یونٹ بجلی کا اضافی سر چارج بھی عائد کیا گیا تھا جب کہ صارفین نے سہ ماہی اور ماہانہ ایڈجسٹمنٹ میں اضافے کا بوجھ الگ برداشت کیا۔ گیس کے نرخوں میں 112 فیصد تک اضافہ کر چکی ہے۔مہنگائی کا نیا طوفان آنے والا ہے۔
    آئی ایم ایف معاہدہ پر خوشیاں منائیں یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ شروع کردیں لیکن عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہی ہونیجارہا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اسے لمحہ فخریہ نہیں بلکہ لمحہ فکریہ قرار دیا ہے۔
    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف سے معاہدے کو عید الاضحیٰ کے موقع پر ’پاکستان کے لیے بڑی خوشخبری‘ قرار دیا۔انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ وہ وزیر اعظم کو مبارک باد دیتے ہیں جن کی ذاتی وابستگی اور مداخلت بشمول آئی ایم ایف کے ایم ڈی سے متعدد بار بات کرنے سییہ معاہدہ ہوا۔انہوں نے اس معاہدے کو دیوالیہ ہونے کے خلاف بہترین انشورنس قرار دیا اور کہا ’اب انشاء اللہ ڈیفالٹ کے بادل چھٹ جائیں گے، ڈالر کی ذخیرہ اندوزی دھیرے دھیرے کم ہو جائے گی، اور کاروباری ماحول میں ایک نئی امید اور ولولہ آئے گا۔
    قارئین کرام!ملکی معاشی صورتحال میں نشیب و فراز آتے رہے ہیں مگرافسوسناک بات یہ ہے کہ ہماری معیشت کو نشیب کا زیادہ اور فراز کا کم سامنا نصیب ہوا۔رواں سال کے دوران تجارتی خسارے میں اضافہ کے ساتھ روپے کی بے قدری، برآمدات اور درآمدات میں عدم توزان کے ساتھ تمام عوامل شامل ہیں اورزرمبادلہ کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔یہ ایسی کوئی چونکا دینے والی باتیں نہیں کیونکہ گزشتہ کچھ عرصے کی صورتحال کے پیش نظر توقع بھی اسی کی تھی۔اصل چونکا دینی والی خبر تو یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر صرف اسحاق ڈار کریں گے۔اپنی صحت خراب کرتے ہوئے پاگلوں کی طرح وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کام کیا ایسا کہنا ہے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کا، انکی بات پر یقین ضرورکرلیتے لیکن صحافی شاہد قریشی کے ساتھ اسحاق ڈار کا نامناسب اور ہتک آمیز رویہ کسی اور طرف اشارہ کرتا ہے۔
    حالیہ معاہدہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، آٹھ ماہ کی تاخیر سے آئی ایم ایف کی طرف سے فنڈز کے اجرا سے پاکستان کو کچھ سہولت مل جائے گی جو ادائیگیوں کے توازن کے شدید بحران اور زرمبادلہ کے کم ہوتے ذخائر کا سامنا کر رہا ہے۔آئی ایم ایف کے مشن چیف نیتھن پورٹر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو حالیہ دنوں میں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں گذشتہ سال آنے والا تباہ کن سیلاب اور یوکرین میں جنگ کے بعد اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے شامل ہیں۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے 215 ارب روپے اضافی ٹیکس پر اتفاق ہوا ہے۔وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نییقین دہانی کروائی ہے کہ آئی ایم ایف سے طے شدہ ذمہ داریاں پوری کی جائیں گی۔موجودہ آئی ایم ایف معاہدہ 2019ء میں عمران خان کے دور حکومت میں ہواتھا۔2021ء کے اختتام اور 2022ء کے آغاز پر حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ بحال کرنے کے لیے جائزہ رپورٹ پر دستخط کیے جس میں روپے کی قدر، اضافی ٹیکس عائد کرنے اور پیٹرول پر لیوی عائد کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ مگر عمران خان کی حکومت فارغ ہوگئی۔نئی حکومت کے قیام کے بعد مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ بنے۔اپنی ہی جماعت کی ناراضی انہیں لے ڈوبی اور وزیر خزانہ کے طور پر اسحاق ڈار نے ملکی معیشت کی باگ ڈور سنبھال لی۔میاں نواز شریف کی رشتہ داری اور مریم نواز کے اصرار پر اسحاق ڈار کو پاکستان لاکر وزارت خزانہ پر بٹھایا گیا۔انہوں نے ایک مرتبہ پھر معیشت کو آئی ایم ایف اہداف سے الگ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ وہ آئی ایم ایف کو پاکستان کے لیے سہولت دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔لندن سے پاکستان آمد کیساتھ ہی ڈالر کوقابو کرنے کے دعوے کیے گے۔اسحاق ڈار کہتے تھے مجھے آئی ایم ایف سے ڈیل کرنا آتا ہے۔ّوہ دعویٰ کررہے تھے کہ وہ آئی ایم ایف کو ایک نہیں تو دوسری شرط پر راضی کرلیں گے،بہت کوششیں ہوئیں۔ ایک وقت میں اسحاق ڈار یہ بھی کہتے رہے کہ میں نے آئی ایم ایف کی منتیں نہیں کرنی نہیں آتے تو نہ آئیں۔وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے بغیر زندہ رہنا سیکھنا ہو گا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر آئی ایم ایف کا قرضہ نہ بھی ملے تو پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔معاشی ماہرین نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیان کو غیر حقیقی قرار دے دیا تھا۔اسحاق ڈار کو1998ء میں ایٹمی تجربات کے بعد میاں نواز شریف نے وزیر خزانہ بنایا۔ مگر اس وقت بھی وہ معیشت کو مشکلات سے نہ نکال سکے اور 1999ء میں مارشل لا لگ گیا۔ اس کے بعد اسحاق ڈار کو 2008ء کی کابینہ میں شمولیت کا موقع ملا جس میں انہوں نے بجٹ کی تیاری اور آئی ایم ایف پروگرام کا بنیادی خاکہ مرتب کیا اور وزارت سے علیحدہ ہوگئے، اسحٰق ڈار سال 2013ء میں قائم ہونے والی مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں وزیر خزانہ بنے اور انہوں نے کامیابی سے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام مکمل کیاتھا۔آج پاکستان وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ آئی ایم ایف کے سہارے ہی معیشت بہتر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔سوال صرف یہ ہے کہ وزیر خزانہ اپنا کام کرنے کی بجائے سیاسی بیان بازی کیوں کرتے آرہے ہیں جب کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں تو پھر مکمل یکسوئی کے ساتھ ہی کام کرنا بہتر ہے۔
    آئی ایم ایف دو چیزوں پر زور دیتا ہے ایک یہ کہ ان لوگوں سے ٹیکس وصول کیا جائے جو ٹیکس ادا کرسکتے ہیں اور دوسرا یہ کہ پبلک سیکٹر اور پرائیویٹ سیکٹر معیشت میں اپنا حصہ ڈالیں۔اب ٹیکس اصلاحات ہوں یا دیگر اقدامات حکومت کا زور صرف عوام پر ہی چلتا ہے اس لیے غریب مزید مشکل حالات سے دوچار ہونگے اور وزیر خزانہ کے بیانات دلکش اور صورتحال کے برعکس ہی ہونگے۔عزیزداری کی وجہ سے وزارت خزانہ اسحاق ڈار کا حق اور مشکلات عام آدمی کا مقدر ہیں اس لیے ہمیں تو بہتری کی صورت نظر نہیں آتی۔

    282 مناظر