Site icon Meritnews

نفرت کی سیاست اورملک کے پیچھے لوٹتے قدم

تحریر: سلمان احمد قریشی

سیاست اور قیادت کے حوالے سے پاکستان ہمیشہ ہی ایک انتہائی عجیب ملک رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ پاکستان کو دولخت کرنے کے ذمہ داروں کو بھی کوئی سزا نہیں سنائی گئی۔جسٹس حمود الرحمن کمیشن نے سانحہ مشرقی پاکستان کے بارے میں اپنی رپورٹ 8جولائی1972 کو پیش کی جو 93صفحات پر مشتمل تھی۔کمیشن نے اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور افواج پاکستان کے نمائندوں سمیت 213شہادتیں قلم بند کرکے پاکستان ٹوٹنے کی ذمہ داری یحیی خان اور انکے ساتھی جرنیلوں پر ڈالی لیکن وزیراعظم بھٹو نے جرنیلوں کے خلاف عوامی سطح پر نفرت پھیل جانے کے خدشہ کے پیش نظررپورٹ نہ شائع کروائی اور نہ ہی اس کی روشنی میں یحیی خان اور دوسرے جرنیلوں کے خلاف کوئی کاروائی کی۔دوسری طرف سیاسی میدان میں بھٹو سے شکست خوردہ سیاستدان آج تک بھٹو پر ہی الزام تراشی میں مصروف ہیں۔حقائق جانتے ہوئے بھی اپنی سیاسی دکانداری بھٹو مخالفت پر ہی سجائے ہوئے ہیں۔اس حوالہ سے ایک اخباری سرخی ”ادھر تم ادھر ہم ” کو بنیاد بناکر سمجھتے ہیں کہ بس یہی دلیل کافی ہے۔مزید بات کریں گے تو ڈھاکہ اجلاس میں شرکت کرنے والے ایم این ایز کو بھٹو کی دھمکی جو ڈھاکہ اجلاس میں گیا اس کی ٹانگیں توڑ دونگا کا ذکر بطور خاص کرتے ہیں۔اکثریت شیخ مجیب الرحمن کی تھی تو بھٹو نے اسے اقتدار نہیں دیا۔ایسا کرنے سے ملک ٹوٹ گیا۔ملک خداداد پاکستان اتنا کمزور تھا کہ ایک پارٹی جسکی اکثریت بھی نہیں تھی اور اقتدار پر قبضہ بھی نہ تھا اسکے رہنما نے ملک توڑ دیا۔اسے الزام لگانے اور دہرانے والوں کی کمال کی سیاسی مخالفت کہیں یا بدنیتی قرار دیں کہ اس وقت اقتدار پر قابض ڈکٹیٹر کا نام لینا گوارا نہیں کرتے۔سیاسی مخالفت میں حقائق کو چھپانے میں 52سال صرف کردیے اور حاصل جمع یہ کہ ایک شہر کی میئر شپ بھی جیت نہیں سکتے۔ ”ادھر تم ادھر ہم ”اس سرخی کے خالق عباس اطہر نے متعددبار اس کا اعتراف کیا کہ یہ بھٹو کے الفاظ نہیں تھے۔ انہوں نے خود یہ سرخی بنائی تھی جو صرف روزنامہ آزاد میں شائع ہوئی تھی۔کسی قومی اخبار میں یہ سرخی شائع نہیں ہوئی۔ دوسری بات بھٹو نے تو حمود الرحمن کمیشن رپورٹ ملکی مفاد میں شائع نہیں کی تھی جنرل ضیا الحق نے ایک قتل کے مقدمہ میں بھٹو کو پھانسی دی وہ ملک توڑنے کے الزام میں بھٹو کو ختم کرسکتے تھے۔بھٹو کو سانحہ پاکستان کا مجرم ثابت کرنا اتنا آسان ہوتا تو ایسا ضرور کرتے لیکن حقائق دنیا پر آشکار تھے۔ بھٹو اور مجیب صرف میدان سیاست کے کردار تھے طاقت کا سرچشمہ نہیں تھے۔ بنگالی بھی ایک نعرہ سے آزادی یا علیحدگی کی راہ پر نہیں چل نکلے۔ اس کے پیچھے ایوب خان اور اس سے پہلے حکمرانوں کا ہوس اقتدار تھا۔ ان تمام حقائق کو کیسی بے دردی سے بدلنے کی کوششیں کی گئیں۔
قارئین کرام! کراچی کی میئر شپ حاصل کرنے میں ناکامی پر آجکل جماعت اسلامی کو مجیب الرحمن بہت یاد آرہے ہیں اور انہیں مظلوم بناکر پیش کیا جارہا ہے۔اہل دانش جو تاریخ کو سطحی یا ذاتی پسند کی بجائے حقیقی سیاق وسباق میں پڑھنے اور پرکھنے کی خواہش اور اہلیت رکھتے ہیں، تلخ ترین حقائق کو جرات کے ساتھ تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں جانتے ہیں بنگلہ دیش کیوں بنا۔1971ء الیکشن کے نتائج کوتسلیم نہ کرنے والی وجہ بہت ہی سطحی ہے۔1952میں اس پر شدید احتجاج اور فسادات میں بنگالیوں نے ہلاک ہونے والوں کو اولین شہدا کا خطاب دیا تھا۔آزادی کے فورا بعد ہی مسلم لیگ زبردست زوال کا شکار ہوئی اور قومی یکجہتی کی بنیادیں ہل گئیں۔پاکستان میں حکومتوں کو توڑنے کا سلسلہ تو قیام پاکستان کے آٹھ روز بعد ہی شروع ہوگیا تھا جب صوبہ سرحد میں کانگریس کی حکومت کو ملک دشمن اور غدار قرار دے کر ختم کیا گیا اسکے بعد 20اپریل 1948ئکو وزیراعلی سندھ محمد ایوب کھوڑو کی حکومت بدانتظامی، بدعنوانی اور کرپشن کے 62الزامات کے تحت ختم کی گئی۔گورنر جنرل غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین اور محمد علی بوگرہ کی حکومتیں ایسے ہی الزامات کے تحت ختم کیں اور آج تک ہر برطرف حکومت پر یہی الزامات دہرائے جاتے ہیں۔1953میں پہلی بارملک غلام محمد کے مارشل لا کو جائز قرار دیا گیا اس کے بعد یہ سلسلہ کہاں رکنے والا تھا۔خواجہ ناظم الدین کی حکومت کے خاتمے میں جگتو فرنٹ کا اہم رول تھا۔یہی مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کیخلاف پہلا باقاعدہ اتحاد تھا اسی متحدہ محاذ نے 21نکاتی پروگرام کا اعلان کیا تھا جس کا اصل مقصد مشرقی پاکستان کی آزادی تھا۔وزیراعظم محمد علی بوگرا نے اس محاذ سے بچنے کے لیے انتخابات ملتوی کیے۔انتخابات ہوئے تو مشرقی پاکستان اسمبلی کی 309نشستوں میں سے حکومتی جماعت صرف 9نشستیں حاصل کرسکی اور متحدہ اتحاد نے 223نشستیں حاصل کیں۔12اپریل 1954ئکو جگتو فرنٹ نے مشرقی پاکستان میں پہلی غیر مسلم لیگی حکومت قائم کی جس میں شیخ مجیب الرحمن بھی وزیر تھے۔اس حکومت کی تشکیل کے بعد ہی بنگالی اور غیر بنگالیوں میں فسادات پھوٹ پڑے۔تمام تر کوششوں کے بعد 29فروری 1954ء کو جگتو فرنٹ کی وزارت اس الزام پر ختم کی گئی کہ اگر وفاق بروقت اقدام کرکے اسمبلی ختم نہ کرتا تو ایک سازش کے تحت مشرقی پاکستان الگ ہوجاتا۔اسوقت 37اراکین اسمبلی گرفتار ہوئے تھے۔ان اراکین میں شیخ مجیب الرحمن بھی شامل تھے۔5فروری1966ئکو ہی پاکستان کی چار جماعتوں نیشنل عوامی پارٹی، کونسل مسلم لیگ، عوامی لیگ اور جماعت اسلامی نے نیشنل کانفرنس منعقد کی جس میں عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن اپنے مشہور زمانہ چھ نکات کا اعلان کیا تھا۔تمام شرکاء نے بیک زبان اس کو مسترد کردیا۔ جس پر وہ کانفرنس سے یہ کہتے ہوئے اٹھ کے چلے گِئے کہ ”مشرقی پاکستان اب زیادہ دیر تک غلام نہیں رہے گا اور جلد آزاد ملک بن کر ابھرے گا”۔
مجیب الرحمن نے 1966ء میں آزاد بنگلہ دیش کی بات کی۔۔متحدہ پاکستان کا کوئی بھی حامی 6نکات کو قبول نہیں کرسکتا تھا۔6نکات پاکستان کے خلاف سازش تھی جسکی تخم ریزی بہت پہلے ہوچکی تھی۔سیاسی جماعتوں اور سرگرمیوں پر پابندیوں کے باعث ایوب خان کو بڑی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یحیی خان آئے تو فیصلہ کن مرحلہ آگیا۔ 1971کے انتخابات کے بعد مجیب الرحمن کی ہٹ دھرمی اور طے شدہ ایجنڈے، یحیی خان کی عیاریوں کانتیجہ بنگلہ دیش کی صورت میں سامنے آیا۔بھٹو کا کہنا تھا ”میرے پاس دو نکات یا پانچ نکات نہیں بلکہ صرف ایک نکتہ ہے اور وہ ہے ”غربت اور استحصال کا خاتمہ اور ملکی سالمیتی کو برقرار رکھنا”۔بھٹو کے نزدیک قومی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد میں التوامحض انکی ذات تک وابستہ نہ تھابلکہ اجلاس سے پہلے آئین سازی اور مستقبل کی صورت میں قومی سطح پر اتفاق رائے کا ہونا بھی ضروری تھا۔”ہم ڈھاکہ اس لیے جانا نہیں چاہتے تھے کہ عوامی لیگ کے پہلے سے تیار شدہ آئین کی توثیق کرکے واپس نہ آجائیں۔بنگلہ دیش کے حوالہ سے 160اور81نشستوں والی سطحی باتوں میں کم علمی سے زیادہ بددیانتی کا عنصر شامل ہے۔ آج کراچی کی میئر شپ کے لیے مجیب الرحمن کے ساتھ حافظ نعیم الرحمن کی تصاویر لگاناسیاست نہیں بلکہ نفرت اور تقسیم کو فروغ دینا ہے۔ ایک سیاستدان کے طور پر بھٹو سے بھی بہت سی خطائیں سر زد ہوئی ہونگی لیکن مجیب الرحمن کے مقابلہ میں بھٹو پاکستان کا ہیروہے۔ ہمیں سیاسی مخالفت کرنے میں تھوڑی احتیاط کرنی چاہیے۔ نعیم الرحمن کو مجیب الرحمن سے جوڑنے سے اجتناب ضروری ہے۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ سیاسی نشیب وفراز سے عبارت ہے۔75سالہ تاریخ میں پاکستان نام نہاد اسلامی نطام کی داعی اور جمہوریت کے علمبرداروں کے نرغے میں بے بس و لاچارنظرآتا ہے۔ملک اس وقت شدید اقتصادی و معاشی مسائل سے دوچار ہے۔مگر صد افسوس کہ یہ طبقہ آج بھی اپنے مفادات اور اقتدار کی ہوس میں مدہوش ہے اورتاریخ کے غلط حوالے پیش کرتے آرہے ہیں۔

Exit mobile version