• پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال مُلک

    پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال مُلک!
    ۔۔۔
    پاکستان کو سونے کی چڑیا یوں ہی نہیں کہا گیا کیونکہ پاکستان دنیا میں بے پناہ جغرافیائی اہمیت کا حامل ملک ہے ۔ پاکستان دنیا میں موسموں کے لحاظ سے بہترین ملک ہے۔ کاروباری و جنگی لحاظ سے پاکستان پر دنیا کی تین ، چار بڑی سپر پاورز انحصار کرتی ہیں۔ آدھی دنیا کا کاروبار پاکستان کی مرہون منت ہے۔ جنوبی ایشیا کے ممالک روس، چائینہ، بھارت بھی پاکستان کے زمینی و فضائی راستوں کے محتاج ہیں۔ پاکستان کی سمندری حدود خلیج فارس کے ساتھ ملتی ہیں۔ یہ چین اور جنوبی ایشیا کا گیٹ وے ہے۔ پاکستان روس، وسطی ایشیائی ریاستوں اور افغانستان کو بحر ہند اور بحیرہ عرب کے گرم پانیوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔
    ۔۔۔
    پاکستان تیل کی دولت سے مالامال خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔ یہ جنوبی ایشیاء اور جنوب مغریی ایشیا کے درمیان پل ہے۔ پاکستان درہ خیبر کے ذریعے افغانستان تک اور شاہراہ قراقرام کے ذریعے چین تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ کراچی ایک بہت بڑی بندرگاہ اور دنیا بھر کے بحری جہازوں میں ایندھن بھرنے کا ایک بڑا اڈہ ہے۔ جبکہ پاکستان کو دوسرا ساحل گوادر پوری دنیا کی آبادی کو دوحصوں پر تقسیم کرتا ہے۔ گوادر کا ساحل بحرہند کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ اگر چین کو تیل حاصل کرنا ہو تو اسے آبنائے ملاکا کے ذریعے بہت لمبا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور یہ وہ علاقہ ہے جو امریکہ اور انڈیا کے زیرتسلط ہے۔ چین کو تیل اپنے مغربی علاقوں تک لانے کے لیے ہزاروں میلوں کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔
    ۔۔۔
    لیکن گوادر کی بندرگاہ نہ صرف یہ فاصلہ بہت کم کروا دے گی بلکہ چین کو امریکی اور انڈین سے محفوظ راستہ بھی مل جائیگا۔ گوادر میں نیول بیس کے ذریعے چین کو مشترق وسطی کے ساتھ تجارت کرنا آسان ہو گا۔
    امریکہ اس خطے میں ہمیشہ سے پاکستان پر انحصار کرتا رہا ہے چاہے وہ روس کے خلاف سرد جنگ ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ۔ امریکہ کی اس علاقہ میں دلچسپی اس وجہ سے ہے کہ وہ ابھرتی ہوئی عالمی طاقت چین اور جوہری صلاحیت کے حصول کی جدوجہد میں مصروف ایران اور افغانستان کا راستہ روکنا اور بھارتی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ سیکورٹی اور بزنس امریکہ کے دو بڑے مفادات ہیں جبکہ پاکستان بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہے بالخصوص القاعدہ آپریشنوں کے بعد امریکی دانشور بار بار اعترف کر چکے ہیں کہ پاکستان کی مدد کے بغیر وہ اس خطے میں بے بس ہیں۔
    ۔۔۔
    پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے۔ پاکستان کے پاس دنیا کا سب سے بڑا اور بلند و بالا پہاڑی سلسلہ ہے جس کی پگھلنے والی برف سے پورا پاکستان سیراب ہوسکتا ہے۔ پاکستان کا دریائے سندھ پورے پاکستان کے عین درمیان میں پاکستان کے لمبائی کے رخ پر بہتا ہے جس سے پورے پاکستان کو سیراب کیا جا سکے۔ پاکستان میں اتنے زیادہ مقامات پر ڈیم بنانے کی گنجائش ہے کہ پاکستان کم از کم ایک کروڑ کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کر سکتا ہے اور دنیا میں پانی ذخیرہ کرنے والا سب سے بڑا ملک بن سکتا ہے۔ ان میں کٹزارا ڈیم بھی شامل ہے جو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ڈیم ہو گا۔ جس کے بعد ہمارے تمام دریاؤں میں سارا سال پانی رواں دواں رہے گا اور پاکستان پر کبھی خشک سالی نہیں آئے گی۔
    ۔۔۔
    پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ موسم ہیں۔ سردی، گرمی، بہار، خزاں، اور دیگر دیسی مہینوں کے حساب سے ہر مہینے کا الگ درجہ حرارت رکھتا ہے جس سے پاکستان میں دنیا کی سب سے زیادہ مختلف اقسام کی اجناس پیدا کی جاتی ہیں۔ اگر پاکستان اپنی زمین سے صحیح معنوں میں پیداوار حاصل کرے تو پورے ایشیاء کی ضروریات پوری کر سکتا ہے اور صرف صوبہ پنجاب پورے پاکستان کی خوراک پوری کر سکتا ہے۔ پاکستان چاہے تو اتنی بجلی پیدا کر سکتا ہے کہ اپنے ساتھ ساتھ چین، انڈیا اور افغانستان کی بھی بجلی کی کل ضرورت پوری کر سکتا ہے۔ پاکستان کی بجلی کی کل ضرورت تقریباً 18 تا 20 ہزار میگاواٹ ہے۔ اگر پاکستان پانی سے بجلی بنانے پر توجہ دے تو پاکستان سستی ترین 59 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے۔
    ۔۔۔
    چین، انڈیا اور امریکہ جیسے ممالک اپنی آدھی بجلی کوئلے سے بناتے ہیں۔ دنیا میں کوئلے کے سب سے بڑے ذخائر پاکستان میں ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں کوئلے سے نہ ہونے کے برابر بجلی بنائی جا رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف صحرائے تھر میں موجود کوئلے سے پاکستان سالانہ ایک لاکھ میگاواٹ بجلی بنا سکتا ہے اور پاکستان کو سو سال تک کسی دوسرے ذریعے سے بجلی بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ پاکستان میں ہوا کے ذریعے بجلی بنانے کے بھی بہت وسیع مواقع ہیں۔ صرف پاکستان کے صوبہ سندھ میں ہوا کے ذریعے 55 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ڈنمارک جیسا ملک اپنی بجلی کی آدھی ضروریات ہوا سے پوری کرتا ہے۔
    ۔۔۔
    امریکہ میں کوئلے کے کل معلوم ذخائر 246 ارب ٹن ہیں۔ جبکہ روس میں 157 ارب ٹن ہیں۔ مطلب کہ پاکستان 185 ارب ٹن کوئلے کے ذخائر کے ساتھ امریکہ کے بعد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور روس تیسرے نمبر پر۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں موجود کوئلے کی قیمت سعودی عرب میں موجود تیل کی قیمت کے برابر ہے۔ سندھ میں پایا جانے والا کوئلہ اسی بیلٹ کا ہے جو حیدر آباد دکن میں پائی جاتی ہے جو کسی دور میں سب سے زیادہ ہیرے پیدا کرنے والا ملک تھا۔ اس لیے اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ سندھ میں کوئلے کی کان کنی کے دوران ہیروں کے ذخائر دریافت ہوں۔
    ۔۔۔
    پاکستان میں ریکوڈک کے مقام پر سونے اور تانبے کے دنیا کے پانچویں بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ریکوڈک میں 2 ارب ٹن تانبا اور 54 ملین ٹن سونا ہے۔ صرف سونے کی قیمت تقریباً 2 ٹریلین امریکی ڈالرز ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کے پاکستان پر ٹوٹل قرضہ 91 بلین امریکی ڈالر ہے۔ دنیا میں معدنی نمک کے سب سے بڑے اور وسیع ذخائر پاکستان میں پائے جاتے ہیں۔ ماربل پتھر کے بہت بڑے ذخائر ہیں جو انڈیا کے ماربل سے اچھی کوالٹی کے ہیں۔ ماربل کو فروخت کر کے پاکستان کی ذرائع آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
    ۔۔۔
    اِسی طرح پاکستان میں سیروسیاحت کے لحاظ سے دنیا کا بلند ترین پہاڑی سلسلہ موجود ہے۔ خوبصورت آبشاروں کا سلسلہ ہے۔ ساحل سمندر کراچی کا نظارا ہے۔ جزیرہ استولہ ہے۔ اس کے علاوہ شاہی قلعہ، باشاہی مسجد جیسی پرانی عمارتیں موجود ہیں اور دیگر خوبصورت مقامات ہیں جن پر پاکستان کی گورنمنٹ پیسہ خرچ کر کے سیاحت کے فروغ کے لیے وسیع پیمانے پر فائدہ حاصل کر کے پاکستان کی معیشت کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی پاکستان کی خیر فرمائے۔ آمین۔

    197 مناظر