کوئی بھی قوم تب تک نہیں بدل سکتی جب تک اس قوم کے افراد اپنی سوچوں میں تبدیلی نہیں لے آتے۔ جس انسان کی جیسی سوچ ہو گی ویسی ہی اس کی زندگی بھی ہو گی۔ اسی طرح قوموں کی زندگی بھی بدلتی ہے، قومیں پروان چڑھتی اور تباہ بھی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالی نے قوموں کی حالت بدلنے کے بارے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ میں اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک اس قوم کے افراد خود کو بدلنے کے لیے عملی طور پر جدوجہد نہیں کرتے۔ جب کوئی قوم خود کو بدلنے کے لیے اٹھ کھڑی ہو جاتی ہے تو تب اس قوم کی تقدیر بھی بدل جاتی ہے حالات بدل جاتے ہیں، مایوسیاں ختم ہو جاتی ہیں، دن پھر جاتے ہیں اور امن و ترقی و خوشحالی آ جاتی ہے۔
لیکن ترقی و خوشحالی بھی تب ہی آئے گی جب کسی قوم کے افراد مرد آہن کی طرح ایک ہو جائیں، اتحاد قائم کر لیں، آپس کے جھگڑے بھلا کر باہمی ہم آہنگی اختیار کر کے ایک قوم ہونے کا ثبوت دیں تو تب ہی قوموں کے افراد کی تقدیریں بدلتی ہیں۔
۔۔۔
قوموں کی ترقی اور زوال میں عوام کی سوچ کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ ہم اپنی زندگی میں دوسروں کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں مگر اپنے بارے میں بہت کم سوچتے ہیں۔ ہم اپنی کوتاہیوں پر نظر رکھنے کی بجائے دوسروں کی غلطیوں اور کوتاہیوں پر نظر رکھنے میں اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔ ہمارے پاس دوسروں کے لئے سوچنے کا وقت ہے مگر اپنے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں ہے۔ ہم ہمیشہ حکمرانوں کو بھی کوستے ہیں لیکن ان سے نجات کیسے حاصل کرنی ہے اس کی طرح کبھی توجہ نہیں دی۔
۔۔۔
ریسرچ کے مطابق جب کوئی آدمی کسی سخت اور مشکل کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے اندر چھپی ہوئی قدرتی صلاحیتوں کا ظہور ہوتا ہے۔ نئی تخلیق ہوتی ہے جو انسان کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ کسی مسئلے کا بہترین حل تلاش کر سکے اور خود کو ان حالات سے نکال کر آسان ہو سکے۔ بلند اور مثبت سوچ انسان کو بلند مرتبہ اور ترقی بھی عطا کرتی ہے جبکہ پست سوچ انسان کو کمزور بنا کر غلامی کے درجے پر لے جاتی ہے۔
آج ہماری اجتماعی ناکامی اور پستی کی وجہ وہ غلامانہ سوچ ہے جو سالوں سے ہمارا پیچھا کر رہی ہے۔ ہم نسل در نسل غلامی کے تصور کو پروموٹ کرتے آ رہے ہیں لیکن نجات حاصل کرنے والے نہیں بن سکے۔ ہم اکثر اوقات باتیں تو کروڑوں کی کرتے ہیں لیکن اقدامات کچھ بھی نہیں۔ جب کوئی آدمی کسی میدان میں اپنے مقابل سے ہار جاتا ہے تو اس کی وجہ اس کی ذاتی کمزوری، ذہنی پستی، احساس کمتری، اور ناتجربہ کاری ہوتی ہے۔
۔۔۔
اگر کسی ملک میں ضرورت کی اشیاء مہنگی کر دی گئی ہوں تو عوام کا فرض بنتا ہے وہ ان اشیاء کا چند دن تک بائکاٹ کر دے وہ اشیاء واپس اپنی پہلی قیمت پر آ جائیں گی۔ آپ کے سامنے مثالیں موجود ہیں دنیا میں جو بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کی عوام اشیاء کے مہنگا ہونے پر ان کا استعمال چھوڑ دیتی ہیں اس طرح ان کمپنیوں کو وہ چیزیں دوبارہ سستی کرنا پڑتی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں عوام ایسا نہیں کرتی جس وجہ سے تاجر مافیاز روز بروز اشیاء مہنگی کر کر کے خود اربوں کے مالک بن گئے اور عوام بھوکی ننگی ہوتی جا رہی۔ اسلیے کہا گیا ہے کہ جب تک عوام اپنی سوچوں میں تبدیلی نہیں لاتی تب تک حالات نہیں بدلتے۔
۔۔۔
میں آپ کو ایک مختصر واقعہ بتاتا چلوں۔ 1845 میں آئرلینڈ کی معیشت کا انحصار آلؤوں کی فصل پر ہوتا تھا۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ظالم اور کرپٹ حکمرانوں کی بدولت آلؤوں کی فصل بہتر طور پر نہ ہونے کی وجہ سے آئرش لوگ بھوک سے مرنے تک پہنچ گئے۔ پھر ملک سے کچھ نوجوان اٹھے اور عوام کو غفلت کی نیند سے جگایا اور انقلاب کی راہ ہموار کی۔ احتجاج جلسے جلوس نکالے، عنقریب الیکشن کا وقت ا گیا تو عوام نے موجودہ حکومت کو اپنے ووٹ کے زریعے شکست فاش کر کے پارلیمنٹ سے باہر نکال دیا اور آئرلینڈ کے حالات بدل گئے۔
۔۔۔
مارٹن لوتھر کنگ کا قول ہے کہ ”کوئی شخص تمھاری پیٹھ پر سواری نہیں کر سکتا جب تک وہ جھکی ہوئی نہ ہو“ یہی حقیقت ہے کہ ہم اپنی غلامانہ سوچ کے ذریعے اپنے اوپر مسلط عیاش اور کرپٹ حکمرانوں کو یہ موقع فراہم کر رہے ہیں کہ وہ ہم کو مغلوب کیے رکھیں، ہم پر حکمرانی کرتے رہیں۔ جب ہم اپنی سوچ بدلیں گے تب ہمارا ملک بھی بدلے گا۔ ملک ترقی کی راہ پر چلے گا، معاشرے میں امن ہو گا، لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں ہوں گی۔ اور یہ سب تب ممکن ہو گا جب عوام خود کو حالات کے بھنور سے نکالنے کے لیے متحد ہونے کا پختہ عہد کر کے عملی طور پر اقدامات اٹھا لے۔
قوم کی سوچ!
