مشیر بلا ضمیر
مشیر بلا ضمیر
تحریر۔ جاوید کمیانہ
ہر سیاسی جماعت اور ان کے سربراہان کے گرد کچھ مشیران کا حصار ضرور ہوتا ہے وہ عوامی طور پر منتخب یا حتی کہ غیر منتخب انداز میں سیاست کے ایوانوں میں براجمان ہوئے ہوتے ہیں۔ اس سے قبل خان صاحب کی حکومت میں بھی مشیروں کا ایک ریلا امڈ آیا تھا اور اس حکومت میں بھی مشیروں کا جم غفیر نظر آتا ہے۔ ان مشیروں کا پہلا مرحلہ ذرائع ابلاغ میں نمایاں مقام حاصل کرنا ہوتا ہے تاکہ تاثر قائم ہو سکے کہ بڑا زبردست بولتا ہے اور مخالفین کو آڑھے ہاتھوں لیتا ہے۔ بعد ازاں دوسرے مرحلے میں یہ پارٹی قائد کے گرد ہالہ سا بنا لیتے ہیں مگر یہاں اس مشیر کے پہلے سے موجود بیج میٹ اس سرکل میں شامل ہونے پر خوش نہیں ہوتے اور اب قائد محترم کی چاپلوسی اور جوتے پالش کا مقابلہ شروع ہو جاتا ہے ویسے آجکل آصف علی زرداری جیسے زیرک سیاستدان کے نزدیک بھی یہ ہالہ بن چکا ہے جس پر میں الگ سے ایک آرٹیکل لکھوں گا، خیر ان چند مشیروں کا اندرونی ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے اور ہر فرد دوسرے کو موجودہ منصب سے فارغ کروانا چاہتا ہے۔اب ان کے کارناموں کا ذکر کرتے ہیں کہ پہلے میاں نواز شریف کے مشیران نے ان کو غلط مشوروں سے نوازا اور نتیجہ کیا نکلا کہ میاں نواز شریف اور مرحوم پرویز مشرف کے درمیان ٹھن گئی اور میاں صاحب کو دس سال کے لیے نہ صرف اقتدار بلکہ سیاست سے ہی کنارہ کشی کر کے جان بچانے کے لیے بیرون ملک مسکن بنانا پڑا اور وہ مشیر جو ہر وقت سیاسی قائد میں ہوا بھر بھر کر پھٹنے والا کر دیتے تھے وہ دوسری سیاسی جماعتوں میں چلتے بنے۔
اب جب عمران خان کی حکومت کو گھر بھیجا گیا تو اسی طرح ان مشیروں کے ایک گروہ نے ان کو صبح و شام غلط مشوروں سے نوازنا شروع کر دیا کہ جیسے جیسے آپ اپنے جلسوں میں اسٹیبلشمنٹ کو میر جعفر و میر صادق کے القابات سے نواز رہے ہیں اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں دباؤ محسوس ہو رہا ہے اس دباؤ کو اور بڑھائیں جب دوسرے فریق کی جانب سے کوئی درعمل نہ آیا تو ان لوگوں نے خان صاحب کو کہنا شروع کر دیا کہ اب اسٹیبلشمنٹ آپ کے پاؤں پڑے گی خبریں آ رہی ہیں کہ وہ مزاکرات کی میز پر آنا چاہ رہے ہیں بس آپ کام کھینچ کر رکھیں۔ اور پھر منظم منصوبہ بندی کی گئی کہ اگر خان صاحب گرفتار ہوتے ہیں تو کونسی فوجی عمارتوں و سرکاری املاک کو نشانہ بنانا ہے طے پایا گیا۔ حالانکہ نواز شریف و شہید محترمہ سمیت تمام قائدین سیاسی اسیر رہے مگر خان صاحب کی گرفتاری کے درعمل میں ہونے والا ہنگامہ خیز احتجاج ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔ نتیجہ کیا نکلا کہ عمران خان زمان پارک میں تنہا بیٹھا اس وقت کو کوس رہا ہے اور وہ مشیر یا چھپے اور بھاگے بیٹھے ہیں اور باقی حسب معمول دوسری سیاسی جماعتوں میں چھلانگیں لگا گئے ہیں کچھ دن شرمندہ شرمندہ پھریں گے بعد ازاں اپنے سابقہ محبوب قائد کے خلاف زبان درازی کا سلسلہ شروع کر دیں گے کیونکہ ان کے کون سے ضمیر زندہ ہوتے ہیں۔ ان کی نوکری کا سلسلہ یہیں سے شروع اور یہاں ہی اختتام پزیر ہوتا ہے۔