Site icon Meritnews

مستقبل کا سیاسی نقشہ

تحریر:سلمان احمد قریشی

جلد یا بدیر انتخابات کا اعلان تو ہونا ہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انتخابات کے اعلان سے موجودہ سیاسی بحران ختم ہوجائے گا اورکونسی جماعت سرفہرست ہوگی۔آئندہ حکومت کس جماعت کی ہوگی؟ یہ سوال جتنا سادہ ہے اسکا جواب اتنا ہی پیچیدہ ہے۔9مئی کو سڑکوں پر جوقابل افسوس مناظر دیکھنے کو ملے ان مظاہروں کی وجہ سے عوامی سطح پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔مقبولیت کے دعویدار عمران خان کی جماعت کی بنیادیں ہل کر رہ گئیں۔بڑے بڑے نام جماعت سے لاتعلقی کا اعلان کرچکے ہیں۔پی ٹی آئی کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔سب سے زیادہ غور طلب امر یہ ہے کہ سیاسی استحکام کیسے حاصل ہوسکتا ہے جس کی اس وقت وطن عزیز کو شدید ضرورت ہے۔ یقینی طور پر آگے کا راستہ کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ انتخابات کے حوالے سے کسی ضابطہ اخلاق اور انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرنے پر اتفاق کرنا یقیناً مشکل ہوگا۔مستقبل کے حالات کا تقسیم کے ایسے ماحول میں کہ جہاں جذبات غالب ہوں، کسی قسم کے سیاسی اصول و قانون پر اتفاق پیدا ہونا مشکل ہی نظر آتا ہے تاہم حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔کیا انتخابات میں حصہ لینے والی تمام ہی جماعتیں اس بات پر یقین کریں گی کہ انہیں یکساں مواقع دستیاب ہونگے۔۔۔؟ یہ بہت اہم سوال ہے۔حکومت چلانے اور جمہوری نظام کے انتظام کے حوالے سے رواداری اور ‘دوسروں ‘ کو برداشت کرنے کا طرز عمل اپنانا ضروری ہے۔مفاہمت کی پالیسی جسے مک مکا قرار دیا گیا اب اس کے بغیر آگے بڑھنا ممکن ہی نہیں۔گزشتہ دو دہائیوں میں ہونے والے انتخابات سامنے ہیں۔کوئی بھی جماعت پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔منقسم مینڈیٹ اور معلق پارلیمنٹ کے نتیجہ میں محض مسائل ہی رہے۔آئندہ بھی پاکستان میں اتحادی حکومتوں کے امکانات ہیں۔مکمل طاقت کا حصول اور اکیلے حکومت کرنے کا خیال غلط ہے.عمران خان اس خوش فہمی میں مبتلا رہے کہ وہ کامیاب رہیں گے۔دوسری آصف علی زرداری تمام تر تنقید کے باوجود مفاہمت کی پالیسی پر قائم رہے۔ کمال حکمت اور خاموشی سے میدان سیاست میں مصروف عمل رہے۔ بلوچستان سے پی پی پی میں سیاسی شخصیات کی شمولیت کا سلسلہ شروع ہوا اور اب تمام سیاسی رہنما آصف علی زرداری سے تعلق جوڑ رہے ہیں۔پی ٹی آئی سے علیحدگی اختیار کرنے والے پی پی پی میں شامل ہورہے ہیں۔ جہانگیر ترین گروپ یا نئی پارٹی موثر ثابت نہیں ہوسکتی کیونکہ پاکستان کی سیاست کا مرکز ہمیشہ رہنما ہی رہے۔ جہانگیر ترین یا کوئی دوسری شخصیت سحر انگیز نہیں جو عوام میں مقبولیت حاصل کرسکے۔ آج بھی ووٹ بینک نواز شریف، عمران خان اور آصف علی زرداری کا ہے باقی سب پریشر گروپس ہیں۔ سرائیکی بیلٹ کے بعد اب سنڑل پنجاب پی پی پی کا ہدف ہے۔ پیپلز پارٹی لاہور میں جلسہ کرنے جارہی ہے اور آصف علی زرداری نے لاہور میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ اس حکمت عملی کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے۔آئندہ بھی پی پی پی میں سیاسی شخصیات کی شمولیت جاری رہے گی۔ مسلم لیگ نواز پی ٹی آئی کی مشکلات سے سیاسی فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔ مہنگائی اور عمران خان کے خلاف سخت رویہ سے شہباز شریف محدود ہی رہیں گے۔ قائد نواز شریف کی جلاوطنی بھی پارٹی کے لیے ایک مشکل سوال ہے۔تمام تر سہولیات اور آسانیوں کے باوجود نواز شریف کی واپسی آسان فیصلہ نہیں۔پی ٹی آئی کے ووٹرز کے غم و غصہ کا براہ راست اثر نواز لیگ پرہی ہوگا۔ایک طرف مہنگائی اور دوسری طرف حکومتی فیصلوں کا بوجھ شہباز شریف کو ہی اٹھانا پڑے گا۔ بلاول بھٹو نے وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھال کر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ملکی سیاست میں سب سے بہتر پوزیشن میں بلاول بھٹو ہی ہیں جونواجوان قیادت اور بہتر چوائس کے طور پر سرفہرست ہیں۔کراچی میں بھی پی پی پی میئر شپ حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ سندھ کے ساتھ بلوچستان اور اب کے پی کے اور پنجاب میں بھی پی پی پی کی پوزیشن بہتر سے بہتر ہورہی ہے۔ تادم تحریر پی پی پی واحد جماعت ہے جو بہتری کے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ مسلم لیگ ن جمود کا شکار ہے جبکہ پی ٹی آئی تتربتر ہورہی ہے۔ آئندہ سیاسی نقشہ میں کسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنے میں بھی آصف علی زرداری سب سے زیادہ موثر ہیں۔سیاست میں مفاہمت کے بادشاہ کے طور پر مشہور آصف علی زرداری نے بہت محتاط انداز میں سیاسی شطرنج پر چالیں چلی ہیں۔ اب ایسی بساط بچھائی جاچکی ہے جس میں فائدہ پی پی پی کو ہی ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ شطرنج میں چالیں بدلی جاتی ہیں بادشاہ نہیں بدلے جاتے۔ آج سیاست کے بادشاہ آصف علی زرداری ہیں۔ انکی سیاست سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن پی پی پی کی سیاسی پیش قدمی سے انکار ممکن نہیں۔آئندہ انتخابات میں ایک نہیں دو پارٹیاں ہی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہونگی اور آصف علی زرداری کلیدی حیثیت اختیار کرجائیں گے۔ اتحادی حکومت کا سب سے بہتر تجربہ انہی کے پاس ہے اس لیے قرین قیاس ہے کہ وہ بلاول بھٹو کے لیے راستہ بنانے میں کامیاب رہیں گے۔ نظر یوں آرہا ہے کہ نہ تو عمران خان کی مشکلات کم ہونگی اور مسلم لیگ ن بھی سکتہ کی حالت میں ہی انتخابی عمل میں جائے گی۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ قوتوں کے پاس مستقبل کے سیاسی نقشے کا خاکہ موجود ہو۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ مستقبل میں اس خاکے میں حقیقت کا رنگ بھر جائے۔
نئے سیاسی نقشے کے خط و خال نمایاں ہو رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کی جو سیاسی صورت حال ہے، اسے معروضی طور پر یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تین بڑی سیاسی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی تاحال زیادہ موثر ہیں اور ہوں گی۔ دیگر سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتیں بھی اہم سیاسی کردار کی حامل ہیں۔ وہ سیاسی کردار پریشر گروپ کے طور پر بڑے فیصلوں کا محرک تو بن سکتا ہے مگر خود مضبوط کن نہیں ہے۔ سیاسی توازن پی پی پی کے حق میں ہے۔

Exit mobile version