• سیاست ضد اور اناء کی بھینٹ چڑھ گئی

    تحریر: سلمان احمد قریشی

    فرانسیسی مصنف پال جینٹ کا کہنا ہے کہ علم سیاسیات عمرانی علوم کا وہ حصہ ہے جو ریاست کی بنیادوں اور حکومت کے اصولوں سے تعلق رکھتا ہے۔”لغت میں سیاست کے معنی حکومت چلانا اور لوگوں کی امر و نہی کے ذریعہ اصلاح کرنا ہے۔فن حکومت اور لوگوں کو اصلاح سے قریب اور فساد سے دور رکھنے کو سیاست کہتے ہیں۔1947 ء میں جب پاکستان وجود میں آیا تھا تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے جمہوریت کو پاکستان کی بنیاد قرار دیا تھا اور اس عزم اور وعدے کے ساتھ قیام پاکستان کی جدوجہد کو منزل مقصود تک پہنچایا تھا کہ پاکستان ایک جمہوری ریاست ہوگی۔قیام پاکستان کے بعداس عزم کے ساتھ وطن عزیز میں سیاست کا آغاز ہوا تھا کہ پاکستان جمہوری ریاست اور فلاحی معاشرے کا عملی نمونہ دکھائی دے گا،لیکن قیام پاکستان کے بعد سے اب تک جمہوریت کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔عوام سیاستدانوں اور مقتدر حلقوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش میں سینڈوچ بنے ہوئے ہیں۔
    گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی میدان میں جو گہما گہمی نظر آ رہی ہے اور جس طرح سیاست دان ایک دوسرے پر ہر قسم کی الزام تراشی کر رہے ہیں جس سے تقریباً تمام اداروں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ احتسابی عمل جس کے بے شمار تقاضے تھے، اُس کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔ سیاست دانوں نے نہ صرف یہ کہ ماضی سے کچھ نہیں سیکھا، بلکہ سقوط ڈھاکہ جیسے عظیم قومی سانحے سے بھی کچھ سیکھنے کی کوشش نہیں کی۔گزشتہ چالیس برسوں میں مختلف حکمرانوں نے قوم اور قومی خزانے کے علاوہ ملکی سالمیت اور اتحاد کے ساتھ جو سلوک کیا وہ اظہر من الشمس ہے اُس کے باوجود بیشتر سیاست دان اپنے تحفظ اور بقا کے لئے اپنے جیسے دوسرے سیاست دانوں کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ملک میں قانون اور انصاف کی حکمرانی نہیں ہو سکی تو ہم سب بحیثیت قوم اس کے ذمہ دار ہیں۔
    قارئین کرام! رواں صدی کے ابتدائی سالوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کے جنون میں مبتلا نواز شریف کو یہ سبق ملا کہ سیاست کرنے کے لیے سیاسی طاقتوں کے ساتھ چلنے میں ہی بھلائی ہے۔جلاوطن رہنماوں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت ہوا۔اس وقت دور اندیش سیاسی تجزیہ کار کہتے تھے۔اس ”میثاق جمہوریت“ کی اصلیت اس وقت سامنے آئے گی جب دونوں لیڈر ملک میں ہوں گے۔اقتدار ان کے سامنے ہوگا اور دونوں کی یکساں دسترس میں ہوگا۔ تب پتہ چلے گا کہ ”میثاق جمہوریت“ کا کون سا جملہ ان میں سے کس کو یاد رہ گیا ہے اور کون سا لندن اور دوبئی کی فضاؤں میں تحلیل ہو چکا ہے۔ ا محترمہ بے نظیرتو شہید ہوگئیں۔معاملہ پی پی پی اور نواز لیگ کے درمیان تھا حسب روایت نواز لیگ نے صبر کا دامن چھوڑتے ہوئے اقتدار کے لیے میمو گریٹ سامنے لے آئی۔ ایک بار پھر الزامات اور کردار کشی شروع ہوگئی۔ اس ماحول میں عمران خان کے لیے جگہ بنی اور وہ اس سے بھی شدید نفرت اور الزام تراشی کو بنیاد بنا کر میدان سیاست میں آگے بڑھتے گئے۔ میثیاق جمہوریت پر اگرعمل ہوجاتا تو مفاہمت کی سیاست گالی نہ بنتی۔ شہباز شریف کے زداری کو لاڑکانہ، کراچی اور لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنے کے دعووں نے عمران خان کی سیاست کو نئی روح بخشی۔ پی پی پی اور نواز لیگ دونوں جماعتیں اگر دستور کی پاسداری کرتیں، ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرتیں، ایک دوسرے کا احترام کرتیں، ایک دوسرے کو جمہوری اصولوں کے مطابق آگے آنے کا موقع دیتیں اور اقتدار میں آنے کی صورت میں ٹرم پوری ہونے تک اس کے لیے مشکلات کھڑی نہیں کرتیں اور سب سے بڑھ کر عوام کے لیے کچھ کرتیں تو تیسری پارٹی کے آگے آنے کے امکانات محدود رہتے۔
    2013کے الیکشن تو جیسے تیسے نواز لیگ نے جیت لیے لیکن عمران خان کی عوامی مقبولیت دھرنا سیاست سے پروان چڑھی اور وہ سخت زبان کے استعمال اور الزام تراشی کے ایسے عادی ہوئے کہ 2022میں وہ اداروں کو بھی سیاسی مخالفین کی طرح مخاطب کرنے لگے۔جمہوری طرز عمل کے زریعے عدم اعتماد سے عمران خان اقتدار سے ہٹائے گئے وہ دن اور آج تک پی ٹی آئی کسی جمہوری اصول کو ماننے اور کسی سے بات کرنے پر تیار ہی نہیں ہوئی۔عمران خان کو 2022 کے لانگ مارچ سے انتظامیہ اور مقتدر حلقوں کی سوچ میں تبدیلی کا اندازہ نہیں تھا۔عمران خان اپنی ”مطلق العنانیت” کے جنون میں سوچ کی اس تبدیلی کو روندتے ہوئے انقلاب برپا کرنے کے لئے 20 لاکھ عوام کے ذریعے اسلام آباد فتح کرنے کا دعوی کر بیٹھے۔لیکن ان کی سوچ کے غبارے سے ابتدائی مرحلے میں ہی ہوا نکل گئی جب انہیں 10 ہزار کا مجمع اکٹھا کرنے میں بھی کامیابی نہ ہوئی۔ پنجاب اور کے پی کے کی اسمبلیاں تحلیل کردیں اور انتخابات کے لیے دباو ڈالتے رہے۔ عمران خان سیاسی بصیرت اور صبر کا مظاہرہ کرتے تو 9مئی کا دن ایسا نہ ہوتا۔ پاکستان کے لیے ایک سیاہ دن جب ایک سیاسی جماعت کے کارکن سرکاری املاک پر ٹوٹ پڑے ایسے مناظر دیکھنے میں آئے جن کا ذکر کرتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ پاکستان میں وہ کچھ ہوا جو دشمن 75سال میں نہ کرسکا۔ ایک فرد کو قانون اور اداروں سے بالاتر قرار دیا گیا۔ ایک شخص ریڈ لائن ٹہرا اور پاکستان کے لیے جانیں دینے والوں پر انگلیاں اٹھائی گئیں۔ انتخابات کا مطالبہ آئینی ہے اور اس پر عمل کرنا شہباز حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن موجودہ حکومت بھی آئین اورجمہوریت کی بالادستی سے زیادہ عمران خان کو نیچا دکھانا چاہتی تھی لہذا الیکشن کی تاریخ تو نہ دی گئی لیکن دونوں پلڑے برابر کرنے کے لیے عمران خان کی گرفتاری ضروری تھی۔ اس لیے ایسا ہی کیا گیا۔ عمران خان اور اتحادی حکومت میں شامل چند کرداروں کی ذاتی اناء اور ضد جب زیادہ مقدم ہو جائے پھر قانون کا احترام کیسا۔۔۔؟ اور کیسی سیاست وہی ہوتا ہے جو ہم نے 9 مئی کے دن پاکستان میں دیکھا۔ عسکری اداروں پر الزام تراشی اوران کو بد نام کرنا جتنا برا فعل ہے اتنا ہی ان اداروں کے پیچھے چھپ کر سیاست کی خواہش، ستم ظرفی سیاست ضد اور اناء کی بھینٹ چڑھ گئی۔اس لئے سیاسی قیادت کو چاہیئے کہ ان دونوں کاموں سے اجتناب کرے اور سیاسی معاملات کو سیاسی پلیٹ فارم پہ ہی حل کرے تا کہ آئندہ ایسی نازک صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    206 مناظر