• سلطان محمود غزنوی اور خاندان غزنویہ ۔ ۔ ۔ قسط نمبر 10

    والئی ملتان حمید لودہی امیر ناصرالدین سبکتگین کے ساتھ اخلاص رکھتا تھا اس کی خدماتِ شائستہ بجالاتا تھا۔ پوتا ابوالفتح داﺅد بھی اپنے دادا کے طریقہ پر چلتا تھا اور سلطان کی اطاعت کرتا تھا۔ مگر جب بلدہ بھٹیز کے محاصرہ میں سلطان مصروف تھا تو اس نے خارج ازعقل حرکات شروع کیں۔ صلاحِ وقت دیکھ کر سلطان محمود غزنوی اس سال تو کچھ بولا نہیں‘دوسرے سال میں سلطان محمود غزنوی کو اس کی خبر ہوئی کہ ابوالفتح قرمطی اپنی خباثتِ نفس سے ملتان کے باشندوں کو قرمطی بنانا چاہتا ہے تو بندگانِ خدا کو الحاد اور زندقہ سے بچانے کے لئے اس نے حکم دیا کہ مسلمانوں کا لشکر تیار ہو۔ وہ یہ لشکر لیکر ملتان کی طرف برسات میں روانہ ہوا۔ بارش سے دریا چڑھے ہوئے تھے اس سے سلطان کے ساتھیوں کو دشواریاں پیش آئیں۔ سلطان نے ہند کے راجہ آنند پال سے درخواست کی کہ وہ اس کو پنے ملک میں سے گزرنے دے۔ راجہ نے درخواست کو منظور نہ کیا اور مقابلہ کے لئے کھڑ ہوا جس کا نتیجہ اُس کے حق میں زہر ہوا۔ پھر اس کا یہ ارادہ بنا کہ اوّل آنند پال کا جھگڑا چکائے اور نیچا دکھائے۔ باوجود اس کہ جنگلوں پر راجہ کا بڑا اقتدار تھا مگر سلطان نے درختوں کو کاٹنا‘آگ لگانا اور آدمیوں کو کا قتل عام ایسا شروع کیا کہ راجہ کمین گاہوں میں بھاگنے دوڑنے لگا۔ جہاں جہاں یہ راجہ بھاگ کر جاتا وہیںاُس کے تعاقب میں سلطان جاتا۔ راجہ کے ملازموں کو یا تو جنگل اور درون کے درندے شکار کرتے یا بھاگ کر کشمیر میں پناہ لیتے۔سلطان نے درون تک تعاقب کیا تو آنند پال کشمیر بھاگ گیا۔ جب ابوالفتح والئی ملتان نے راجہ آنند پال کا یہ حال دیکھا کہ اس طرح سلطان کے آگے بھاگیا پھرا تو اس نے جانا کہ میری حقیقت کیا ہے کہ میں سلطان سے برسرِ مقابلہ آسکوں اس لئے اس نے یہ ارادہ کیا کہ جتنا مال ہے‘ اس سب کو ہاتھیوں پر لاد کر سراندیپ چلا جاﺅں اور سلطان کے لئے ملتان خالی چھوڑ جاﺅں مگر سلطان کب اس کو فرصت دیتا تھا‘ اس نے ملتان کا محاصرہ کیا۔ابوالفتح متحصن ہوا۔ سات روزتک محاصرہ رہا۔ ابوالفتح نے منت سماجت کر کے ان شرائط پر صلح کرلی کہ بیس ہزار درہم سرخ سال نذر دیا کروں گا اور الحاد سے احتراز کرکے حکام شرعی کو جاری کروں گا۔ سلطان نے ان شرائط کو اس کئے منظور کرلیا کہ ارسامان جاذب حاکم ہرات نے قاصد دوڑا کر سلطان کو خبر دی تھی کہ لشکر ایلک آ پہنچا ہے اور خرابی مچا رہا ہے۔ اس سبب سے سلطان جلد غزنی کو روانہ ہوا۔ مہمات بھٹنڈہ(وادی ہند) راجہ سکھ پال کے حوالہ کر گیا۔
    ہر مذہب کا یہ قاعدہ ہمیشہ چلا آتا ہے کہ جتنی مدت اُس پر گزرتی ہے اتنی اس کی تفریق ہوتی ہے‘یعنی بدعتی فرقے نئے نئے پیدا ہوتے جاتے ہیں۔ مذہب اسلام بھی اس قاعدہ سے متشنٰی نہ تھا۔ اس میں بھی بدعتی فرقے پیدا ہونے شروع ہوئے‘نعض فرقوں نے وہ بدعات اختراع کیں کہ اصل اسلام کا حصّہ ان کے مذہب میں تھوڑا ہی باقی رہا۔ ان بدعتی فرقوں میں سے فرقہ قرمطی ہے‘وہ فرقہ اسمعیلیہ کی ایک شاخ سے گو ان دونوں فرقوں کے مسائل میں فرق ہے مگر مو¾رخ اپنی لاعلمی سے ایسا ان کو خلط ملط کرتے ہیں کہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی مراد کس فرقہ سے ہے۔

    389 مناظر