• ہزار خواہشیں

    تمہیں دیکھنے کی اور دیکھتے رہنے کی
    تمہارے ساتھ چلنے کی چلتے رہنے کی
    ھلکی رم جھم میں تمہارا ہاتھ پکڑ کر تمہیں محسوس کرنے کی ہزار خواہشیں ہیں
    ننگے پیر چلنے کی چلتے چلتے تم سے چار قدم پیچھے ہٹنے کی پھر تمہیں آواز دے کر بہت مان سے لاڈ سے
    کھڑوس کہنے کی واپس بلانے کی
    ہزار خواہشیں ہیں
    کسی انجان جگہ پر کسی پتھر پہ بیٹھ کر
    کسی فضول بات پر تم سے بحث کرنے کی تمہیں الجھانے کی تمہارے الجھے بالوں کو ہاتھوں سے سلجھانے کی ہزار خواہشیں ہیں
    کسی دریا کے کنارے ٹھنڈی ہری گھاس پر بیٹھ کر
    گپیں لڑانے کی
    شفاف پانی کو تمہارے چہرے پہ اڑانے کی
    ہزار خواہشیں ہیں
    پھیلی دھند کی چادر ہو ٹھٹھرتی شام ہو اور کہیں سے بوجھل بادل جھوم کے آئے ہوں
    اور یخ بستہ ہواؤں نے ڈھیرے جمائے ہوں
    ایسے میں تمہارے سنگ عادت یہ پرانی ہو
    دو کپ چائے کے ہوں ساتھ بارش کی روانی ہو
    ااااووووووف ہزار خواہشیں ہیں
    ذرا سی بات پہ یوں
    کبھی جو ہم خفا ہوں گے
    تو مجھ کو روٹھنے نہیں دینا
    فورا منا لینا
    کہ چاہتوں کے رشتوں میں
    دوریاں جب بڑھ جائیں تو
    بے وجہ خیالوں کے داخلے نہیں رکتے
    بے وجہ سوالوں کے قافلے نہیں رکتے
    کچھ یقین سا ہے مجھ کو
    کہ جب تک ہواوں میں یہ بات پہنچے گی
    تم مجھ کو منا لو گے
    ہزار خواہشیں ہیں
    ہزار خواہشیں ہیں

    حسن

    267 مناظر