پنجاب کی سرزمین برصغیر کی تاریخ کا جھومرہے۔ اس قدیم خطے پر کئی راجوں مہاراجوں اور بادشاہوں نے حکومت کی ہے۔ ہزاروں سالوں سے آباد یہ خطہ کئی ایسے تاریخی واقعات اور عظیم سلطنتوں کی گواہی دیتا ہے جو آج بھی زبان زد عام ہیں۔ قبل از مسیح کے کئی راجوں مہاراجوں کے نام آج بھی اس خطے کے تاریخی کرداروں میں شامل ہیں۔ انہی مہاراجوں میں پنجاب کی اس دھرتی کے ایک تاریخی کردار راجا پورس کا بھی ذکر ملتا ہے جس نے جہلم کے مقام پر فاتح عالم سکندر اعظم کے ساتھ ایک مشہور ترین جنگ لڑی تھی۔
پنجاب کی تاریخ کا عظیم اور بہادر جنگجو راجہ پورس کون تھا، اس کا قبیلہ کیا تھا، اسکا دور کونسا تھا، اس بارے میں مورخین میں کافی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ مختلف تاریخی حوالوں میں پورس نام کے کئی پس منظر بتائے جاتے ہیں۔ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ راجہ پورس “پورادا” کے قدیم راجپوت خاندان سے تھا۔ پورادا پنجاب کے علاقے کی ایک ریاست تھی جو دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان پھیلی ہوئی تھی۔ بعض مورخین راجہ پورس کو گجر ذات سے جوڑتے ہیں اور حوالہ دیتے ہیں کہ گجرات میں موجود گجر ذات کے “پوڑ” یا “پوریا” گوت کا تعلق پورس سے ہے لیکن یونانی تاریخ دانوں نے اس دعویٰ کو رد کیا ہے۔
یونانی مورخ ارین (Arrian) لکھتا ہے کہ پورس ایک بہادر جٹ حکمران تھا اور سکندر اعظم کا سامنا بہادر اور نڈر جٹ قوم سے ہی ہوا تھا۔ کچھ مورخین کے مطابق پورس یا پوروس، لفظ “پاؤرا” سے نکلا ہے جو کہ ایک قدیم قبیلہ تھا۔ ہندوؤں کی مذہبی کتاب رگ وید میں اس قبیلے کو پوروا کہا گیا ہے۔ اسی قبیلے کا ذکر ہندووں کی مقدس مذہبی کتاب مہابھارت میں بھی ملتا ہے۔ یہ قبیلہ قبل مسیح کے دور میں ٹیکسلا اور اردگرد کے علاقوں میں رہائش پذیر تھا اور مہاراجا پورس کا تعلق اسی قبیلے سے تھا۔
حضرت عیسیؑ کی پیدائش سے 327 برس قبل یعنی آج سے تقریبا 2300 سال پہلے کا پنجاب اپنی ثقافت، عسکری اور جغرافیائی برتری کے کمال پر تھا۔ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس وقت سلطنت ایران کو اپنے روایتی حریف سلطنت روما کے مقابلے کے لئے پنجاب کی مدد درکار تھی۔ پنجاب کے جنگجوؤں، دیو ہیکل ہاتھیوں اور تیز رفتار شہسواروں کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اسی دور میں راجا پورس کو اپنی خود مختار حکومت قائم کرنے کا موقع ملا۔ راجا پورس کے عروج کے دور میں پنجاب مختلف قسم کے ریاستی تنازعات ، تحریکوں اور جنگجو قوموں کی پیش قدمی کا اکھاڑا بنا ہوا تھا۔ ٹیکسلا اور اردگرد کے علاقوں میں ایرانی سلطنت کا سورج غروب ہورہا تھا۔ مورخین کے مطابق انہی غیر یقینی حالات میں مختلف قبائلی سردار پنجاب میں اپنی خود مختار حیثیت بنانے میں مصروف تھے۔
’’پوروا‘‘یا ’’پاورا‘‘ قبیلے کے سردار راجا پورس نے بھی اس صورت حال میں چناب اور جہلم کے درمیان اپنی آزاد اور خود مختار حکومت قائم کر لی۔ امبھ خاندان کا سردار راجا امبھی جو کہ راجا پورس کا حریف تھا اس نے مشرقی گندھارا یعنی ٹیکسلا میں اپنی حیثیت مضبوط کر لی۔ اسی طرح مختلف راجوں نے راجا پورس کی سلطنت کے قرب و جوار میں اپنی حکومتیں قائم کر لیں۔ دوستو اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ راجا پورس کی سلطنت کوئی اتنی وسیع و عریض نہیں تھی یعنی صرف دریائے جہلم اور دریائے چناب کے درمیان کا علاقہ ہی اس کے پاس تھا۔
شہنشاہ دارا سوم ایرانی سلطنت کے آخری شہنشاہوں میں شمار ہوتا ہے جس نے سکندر اعظم کے ساتھ تین مشہور جنگیں لڑیں لیکن یونانیوں کی جنگی حکمت عملی کے باعث تینوں جنگیں ہار گیا۔ ایرانی ، شامی اور حبشی مورخین کے مطابق تین بار شکست کے بعد دارا سوم نے ایک ہندوستانی بادشاہ “فور” سے مدد کی درخواست کی۔ مورخین کے مطابق یہ ہندوستانی بادشاہ فور دراصل راجا پورس ہی تھا۔ راجا پورس نے اس درخواست کا فوری جواب دیتے ہوئے شہنشاہ دارا کو ہاتھیوں کا ایک دستہ مدد کیلیے بھیجا۔ سکندر اعظم کو شہنشاہ دارا کی ان جنگی تیاریوں کا علم ہوا تو تقریباً 330 قبل مسیح ایک بار پھر پوری قوت کے ساتھ شہنشاہ دارا کی فوجوں پر حملہ کر دیا۔ دارا کی فوجیں اس حملے کا مقابلہ نہ کر سکیں اور سکندر اعظم کا حملہ کامیاب رہا۔ شہنشاہ دارا اس جنگ میں قتل کر دیا گیا اور اس جنگ کے بعدا یرانی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا۔ ایرانی مورخین کے مطابق چونکہ راجا پورس نے شہنشاہ دارا کی مدد کی تھی اس لئے سکندر نے ایرانیوں کو شکست دینے کے بعد قصد کر لیا کہ وہ ہندوستان پر چڑھائی کرے گا۔
فاتح عالم سکندراعظم جو اس وقت ایران ،مصر اور عراق پر اپنا مکمل تسلط جما چکا تھا، ہندوستان پر قبضہ کرنے کی غرض سے 327 قبل مسیح اپنی فوجیں لے کر بڑھا۔ سکندر اعظم افغانستان سے ہوتے ہوئے درہ خیبر کے راستے سے ہندوستان پہنچا اور ٹیکسلا کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ راجا پورس کی ہمسایہ ریاست ٹیکسلا کا راجا امبھی جو پہلے سے راجا پورس کا حریف تھا اس نے سکندر اعظم کو اپنی مدد کی یقین دہانی کروائی اور یونانی فوجوں کو ہاتھیوں کا ایک دستہ بھی فراہم کیا۔ سکندر اعظم نے اپنے لشکر کیساتھ ٹیکسلا میں راجا امبھی کے ہاں ایک مہینے تک قیام کیا۔ اسی دوران سکندر اعظم نے راجا پورس کے پاس اطاعت کی غرض سے ایک ایلچی بھیجا۔ اس موقع کو ایک یونانی مورخ یوں بیان کرتا ہے:
“سکندر نے یہ سوچ کر کہ دیگر بادشاہوں کی طرح پورس بھی اس کا نام سن کر رعب میں آجائے گا، اس کے پاس اپنا ایک سفیر بھیجا اور پیغام دیا کہ میری اطاعت قبول کرکے اپنی سلطنت کی سرحدوں پر آکر مجھ سے ملاقات کرو۔ پورس نے جواب دیا: ہاں میں ضرور ملاقات کروں گا لیکن یہ ملاقات میدان جنگ میں ہتھیاروں کے سائے میں ہوگی۔”
سکندر اعظم نے راجا پورس کا یہ جواب سنا تو غصے میں اپنی تمام فوجوں کو یکجا کرکے جہلم کی طرف چڑھائی کردی لیکن دریا کی طغیانی نے اس کا راستہ روک لیا۔ دوسری جانب راجا پورس بھی اپنی تمام فوج کو اکٹھا کرکے دریا کے کنارے خیمہ زن ہوگیا۔
یونانی مورخین کے مطابق اس معرکے میں میں راجا پورس کی فوج یونانیوں کی نسبت بہت زیادہ تھی۔ ایک یونانی مورخ لکھتا ہے کہ راجا پورس کی فوج میں پچاس ہزار پیادے، تین ہزار شہسوار، ایک ہزار بگھیاں اور 130 ہاتھی موجود تھے۔ جبکہ دوسری جانب سکندر اعظم کی فوج میں 15 ہزار سپاہی، 5300 شہسوار اور 86 ہاتھیوں کے علاوہ کئی درجن منجنیقیں بھی شامل تھے۔
یونانی ذرائع کے مطابق یہ جنگ جس مقام پر ہوئی تھی وہ دریائے جہلم کے کنارے ایک مقام تھا جس کو آج “مونگ” کہتے ہیں۔ یہ علاقہ موجودہ پاکستان کے ضلع منڈی بہاؤالدین کا حصہ ہے۔ 326 قبل مسیح میں ہونے والی اس جنگ میں دونوں فوجوں کے درمیان دریائے جہلم حائل تھا اور دونوں طرف ایک بے چینی سی تھی۔ سکندر کو پورس کے ہاتھیوں سے خطرہ تھا کیونکہ اس کی فوجوں کو ہاتھیوں کے خلاف جنگ لڑنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ لیکن دوسری جانب اسے اپنی مسلسل فتوحات کا نشہ بھی تھا۔ سکندر اعظم کسی صورت بھی یہاں سے واپس جانے کے لئے تیار نہیں تھا۔ سکندر نے وہیں پر بیڑا تیار کروایا اور بالکل سامنے سے دریا پار کرنے کے بجائے سترہ میل آگے کا مقام چنا۔ دوستو یہ مقام منگلا ڈیم کے قریب پڑتا ہے۔ یہ مقام ڈھونڈنے کے بعد سکندر نے کچھ ہفتے انتظار کیا اور ایک طوفانی رات دریا پار کرے کنارے کے دوسری جانب اپنی فوجوں کے ساتھ اتر گیا۔ دوسری جانب پورس کی فوجیں بھی اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔ سکندر جہاں اترا وہاں پورس کی فوج کا ایک دستہ موجود تھا جس کی کمان پورس کے بیٹے کے ہاتھ میں تھی۔ لیکن یہ دستہ سکندر اعظم کا مقابلہ کرنے میں بری طرح ناکام ہوگیا اور راجا پورس کا بیٹا ماراگیا ۔ پورس کو اس کی خبر ہوئی تو وہ اپنے لشکر کو لے کر اس مقام کی طرف بڑھا۔ دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں اور ایک گھمسان کا رن پڑا۔ تاہم اس جنگ میں پورس کے ہاتھی آگ کے گولوں کے خوف سے بدمست ہوگئے اور پیچھے کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔
ایک یونانی مورخ اس بارے میں لکھتا ہے:
“یونانیوں نے ہلکے نیزوں سے ہاتھیوں کو ایسے کاری زخم لگائے کہ وہ بلبلا اٹھے حتی کہ مہاوتوں کے لئے انہیں کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا۔ زخم خوردہ ہاتھی پلٹے اور اپنے سپاہیوں کو کچل دیا۔”
آٹھ گھنٹے جاری رہنے والی اس لڑائی میں سکندر کا پلڑا بھاری رہا۔ پورس کی فوج کے تین ہزار سوار اور بارہ ہزار پیادے مارے گئے جبکہ نو ہزار قیدی بنا لیے گئے۔ مورخین کے مطابق سکندر کی فوجوں کا نقصان صرف ایک ہزار جانوں کا ہوا کا ہوا۔ پورس جو ساڑھے چھ فٹ قد کا اونچا مظبوط اور توانا آدمی تھا ۔ آخری وقت تک لڑتا رہا ۔ مگر آخر کار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گر پڑا اور گرفتار ہو گیا ۔
یونانیوں نے لکھا ہے کہ پورس کی فوج نے میدان جنگ میں خوب بہادری کا ثبوت دیا۔ سکندر راجہ کی دلیری سے بہت متاثر ہوا۔ گرفتار کرنے بعد اس نے راجا پورس سے پوچھا کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے تو راجا پورس نے تاریخی جواب دیا کہ میرے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ کے ساتھ کرتا ہے۔ سکندر اعظم راجا پورس کی جوانمردی کا قائل ہوگیا اور راجا پورس کو سزا دینے کے بجائے نہ صرف اس کی سلطنت اُسی کو بخش دی بلکہ کچھ اورعلاقے بھی راجا پورس کو دے دئیے۔
سکندر اعظم کو پنجاب میں جو مشکلات پیش آئیں اس کے بعد سکندر کی فوجیں مزید کسی معرکے کے لئے تیار نہیں تھیں۔ سکندر کی فوج نے دریائے ستلج سے پار اُترنے سے صاف انکار کردیا جس کے باعث سکندر کو مجبوراً فارس کی طرف لوٹنا پھرنا پڑا۔ چنانچہ وہ اپنے لشکر کو ساتھ لے بلوچستان کے راستے سے واپس گیا۔
راجا پورس کے بارے میں زیادہ تر معلومات یونانی مورخین نے ہی دی ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کسی مقامی یا ہندوستانی ماخذ سے سکندراعظم کی ہندوستان آمد کا ذکر بھی نہیں ملتا ہے۔ اگر یونانی مورخین نہ ہوتے تو شائد ہمیں کبھی علم ہی نہ ہو پاتا کہ سکندر نے کبھی ہندوستان پر حملہ کیا تھا۔
سکندر اعظم راجا پورس سے جنگ کرنے کے بعد واپس پلٹ گیا اور کہا جاتا ہے کہ واپسی پر ہی 323 قبل مسیح بابل کے مقام پر اس کی موت ہوگئی۔ جبکہ دوسری جانب راجا پورس کی موت کے متقاہ کافی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر مورخین کا خیال ہے کہ سکندر سے جنگ کے بعد راجا پورس اورہندوستان کی پہلی باقاعدہ سلطنت موریا کے پہلے راجہ چندر گپت موریہ نے بہت سی مہمات میں حصہ لیا. ان کے خیال میں راجا پورس مزید کئی سال زندہ رہا اور جنگ جہلم کے تقریبا 9 سال بعد 317 قبل مسیح اس کو سکندر اعظم کے ایک جانشین یونانی جرنیل نے قتل کردیا تھا۔ ایک قدیم عہد نامے میں یہ بھی لکھا ہے کہ راجا پورس کو سکندر کی واپسی کے کچھ ہی عرصہ بعد زہرکےذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔
یونانی مورخین کے مطابق جنگ جہلم میں راجا پورس کو شکست ہوئی لیکن کئی ہندوستانی مورخین اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سکندر اعظم جیسا ظالم بادشاہ اتنے جنگی نقصان اور تقریبا ایک سال کی اس مہم کے بعد راجا پورس کو نہ صرف معاف کردیتا ہے بلکہ اسے مزید سلطنت بھی دے دیتا ہے، یہ بات حقیقت کے برعکس لگتی ہے۔ کچھ مورخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ راجا پورس کے متعلق ساری تاریخ یونانیوں نے لکھی اس لئے انہوں نے سکندر اعظم کو فاتح قرار دیا جبکہ اصل میں سکندر اعظم کو شکست ہوئی تھی۔ بہرحال حقیقت جو بھی ہے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ راجا پورس کے ساتھ ہونے والی یہ جنگ سکندر اعظم کی آخری جنگ ثابت ہوئی۔
