• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    [t4b-ticker]

  • دعا زہرا کا کیس

    دعا زہراکا کیس
     28اپریل، 2022 کو یہ کیس رپورٹ ہوتا ہے
    کراچی کے علاقہ گولڈن ٹاؤن کی رہائشی دعا زہرا کمسن بچی کی گمشدگی کی رپورٹ درج ہوتی ہے پولیس رپورٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد بہت سے ایسے سوالات نے جنم لیا ہے جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ۔ دعا زہراکا کیس ہے کیا۔۔۔؟دعا زہرا اور ظہیر کا آن لائن گیم سے تعلق بنا جو آگے چل کر محبت میں تبدیل ہوا اور پھر دعا اپنا گھر چھوڑ کر لاہور پہنچ گئی، جہاں اس نے ظہیر سے اپنی مرضی سے نکاح کرلیا اوردعویٰ کیا کہ وہ بالغ ہے اور اس پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ یہ سننے میں ایک رومانوی فلم یا ناول کی کہانی ضرور لگ رہی ہوگی لیکن یہ کیس جتنا سادہ نظر آرہا ہے اتنا ہے نہیں۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑکی کے منظرِ عام پر آجانے کے بعد اب اس کیس کا ڈراپ سین ہوگیا۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو کہانی اب شروع ہوئی ہے کیوں کہ اس واقعے نے بہت سے ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جس سے گتھیاں الجھتی جارہی ہیں۔ دعا نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے ظہیر سے شادی کی ہے وہ بالغ ہے اپنا فیصلہ خود کریں سکتی ہے۔ اس پر ظہیر کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہے اور نہ اغواء کر کے لایا گیا ہے اور وہ اسی کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔ لاہور کی سیشن کورٹ نے بھی دعا زہرا کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اسے تنگ نہ کیا جائے۔دعا زہرا کے والد سید مہدی کاظمی بتاتے ہیں کراچی پولیس ٹیم دعا کو لانے کے لیے لاہور گئی تھی جس پر انہیں امید تھی کہ دعاواپس اپنے گھر آ جائے گی لیکن اس کے بیان کی وجہ سے اس کی واپسی ممکن نہیں ہوسکی۔ دعا کے والد اب قانون کا سہارا لیتے ہوئے لاہور کی سیشن کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔سید مہدی کاظمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ دعا 18 برس کی نہیں ہے تو ان کے کیس میں اب بھی دم ہے۔اس معاملے پر سندھ کی وزیر برائے بہبود و خواتین شہلا رضا کہتی ہیں انہوں نے دعا زہرا کے کیس کے لئےان کی قانونی ٹیم ہر پہلو سے کیس کا جائزہ لے رہی ہے۔ شہلا رضا کا کہنا تھا کہ لاہور کی عدالت اور جج  صاحب کو تھوڑا اندازہ لگانا چاہیے تھا کہ ان کے سامنے جو لڑکی کھڑی ہے اس کی عمر کیا ہے۔
    ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے کیوں کہ لڑکی کم عمر ہے۔شہلا رضا کے مطابق اب تک دعا زہرا کی گمشدگی کا مقدمہ درج تھا لیکن اب چوں کہ نکاح نامہ اور لڑکی کا عدالت میں بیان سامنے آگیا ہے تو ہم نے دعا کے اہل خانہ کو کہا ہے کہ وہ ایک نئی ایف آئی آر درج کرائیں جس میں یہ بتایا جائے کہ لڑکی کو ورغلا کر گھر سے نکالا گیا ہے۔ انہوں نے فیڈرل شریعت کورٹ کے 2021 کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 18 برس سے کم عمر میں شادی نہیں ہوسکتی۔ ان کے بقول یہ شادی خلافِ شریعت ہے۔سپریم کورٹ کے  معزز وکیل  کے مطابق پاکستان میں صرف سندھ ہی ایک ایسا صوبہ ہے جہاں کم عمری کی شادی کے خلاف قانون موجود ہے جس کی رو سے اٹھارہ برس سے کم عمر لڑکا یا لڑکی کی شادی ممکن نہیں۔ اگر اس قانون کے خلاف جا کر شادی کرائی جائے تو اس میں فریقین (والدین، رشتے دار، گواہان، نکاح خواں) کو تین سال کی سز ا ہوسکتی ہے۔ تاہم بلوچستان اور پنجاب میں شادی کی عمر کی حد 16 برس ہے۔لاہور کی عدالت کے فیصلے کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھا جاسکتا ہے  کہ پاکستان میں بعض جج فقہ کو قانون سے بالاسمجھتے ہیں اور پھر اپنے ایمان کی رو سے فیصلے دیتے ہیں جب کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نکاح خواں بھی شادی کے لیے بلوغت کو اہم سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ نکاح ہو گیا ہے اور لڑکی بلوغت کے اعتبار سے بالغ ہے۔ بطور وکیل میرایہ قانونی نقطہ نظر ہے دعا زہرا کے کیس میں اگر اسکی  عمر چودہ سال کی ثابت ہوجاتی ہے تو یہ شادی تو پنجاب میں بھی جائز نہیں ہو گی جہاں عمر کی حد 16 برس مقرر ہے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر لاہور کے سیشن کورٹ کا فیصلہ چیلنج کر دیا جائے اور لڑکی بعد میں یہ بیان دے کہ اس نے یہ اقدام کسی دباؤ میں آکر لیا ہے جس میں اس کی مرضی شامل نہیں تو پھر تنسیخِ نکاح کے لیے لڑکی کو مقدمہ دائر کرنا پڑے گا۔ کچھ مذہبی حلقے بلوغت کو بنیاد بنا کر اس کا حوالہ دیتے ہیں وہ قوانین سے متصادم ہے۔ ان کے بقول ہم بلوغت کو بچے کی جسمانی تبدیلی مانتے ہیں یہ اس کی ذہنی بلوغت نہیں ہے، اس لیے شادی کی اٹھارہ برس حد رکھی گئی ہے۔ دعا زہرا کیس میں بھی کافی ایسے پہلو نکلتے ہیں دعا زہرا اور اس طرح کے متعدد کیسز سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون کی بالادستی کی وجہ سے عدالتوں اور پولیس کو نہ چاہتے ہوئے بھی ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا پڑتی ہے۔ کچھ قانونی سوال ہیں لڑکا لڑکی کی عمر قانونی لہٰذا سے کتنی ہے؟ عمر کے ثبوت کے بغیرنکاح کیسے ہوگیا ؟ کیا عورت عمر کے ساتھ ساتھ ذہنی اعتبار سے بھی بالغ ہے؟ کیا واقعی ہی والدین اس کی حق تلفی کر رہے ہیں؟ اس کیس میں عدالت نے قانونی تقاضوں کو نظر انداز کر کے دعا زہرا کے نکاح کی توثیق کی ہے

    189 مناظر