• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    اشتہارات
  • محترمہ بی بی شہید کی شخصیت

    جو عوامی لیڈر عوام کے دلوں پر صدیوں تک راج کرتے ہیں وہ اپنی زندگی کے ایام کانٹوں کی سیج پر گزارتے ہیں اگر وہ سکوں کی نیند سو جائیں تو امر نہیں ہوتے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی زندگی کی داستان بھی کچھ ایسی ہی رہی زمانہ جوانی میں اپنے باپ شہید ذوالفقار علی بھٹو پر بنے جھوٹے مقدمات کی پیروی میں گزار دی اور ضیاء الحق کی آمریت کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر مقابلہ کیا مگر باپ کی جان بخشی کے لیے قدم لرزے نہ ارادوں میں لغزش آئی حتی کہ باپ کو قبر میں اتارنے کے بعد بھی سیاسی جد وجہد میں کمی نہ آئی۔کارکن شہید اور پابند سلاسل کیے گئے اذیتوں کے دور سے گزرے مگر مصمم ارادے کے ساتھ آگے بڑھتی گئیں اور اسلامی ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم کا رتبہ پا لیا۔اب محسوس ہوا ہو گا کہ زندگی کی بہاریں شروع ہونے والی ہیں اور رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئیں۔پھر اسی آمر کی باقیات نے ان کے شوہر آصف علی زرداری کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کر کے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا اور محترمہ کمسن بچوں کے ہمراہ جیلوں کی یاترا میں مصروف ہو گئیں۔بارہ سال جیل کاٹنے کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری جیل سے رہا ہوئے بعد ازاں تمام مقدمات میں باعزت بری ہوئے مگر وہ کم عمر طفل باپ کی شفقت کے اس دور سے محروم رہے مگر محترمہ نے حالات کا بہادری سے مقابلہ کیا اور ایک بار پھر ملک کی وزیر اعظم بننے کا شرف حاصل کیا بدقسمتی سے ایک بار پھر ایک آمر نے جمہوریت پر شب خون مارا اور محترمہ کو ملک بدر کر کے ملک پر قابض ہوا جو اس وقت زندگی موت کے درمیان لٹک کر بیرون ملک زندگی کے آخری ایام گزار رہا ہے۔
    بالآخر شہید محترمہ نے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھے جہاں فقید المثال استقبال ہوا وہاں کارساز کے مقام پر ان کے سینکڑوں کارکن خون میں لت پت ہوئے اور بی بی شہید محفوظ رہیں مگر کسی کو علم نہ تھا کہ ظالم دشمن پیچھا کر رہا ہے آخر کار تاک میں لگے بزدل دشمن حملہ اور ہوا جس میں وہ جانبر نہ ہو سکیں اور ستائیس دسمبر 2007 کو جام شہادت نوش کیا۔محترمہ شہید عالمی سطح کی سیاسی لیڈر تھیں جنہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔پاکستان اور ملک سے باہر ایک کارکن سے لے کر عالمی لیڈرز ان کی مثبت جمہوری اقدار کے معترف ہیں وہ چاہتیں تو معاہدہ کر کے ملک سے باہر رہ کر سیاست کر سکتی تھیں اور اپنے بابا شہید کی زندگی بھی بچا سکتیں تھیں مگر ذوالفقار علی بھٹو شہید نے پھانسی کے رسے کو چوم کر جھولنا اور بی بی شہید نے موت کو گلے لگا کر اپنے ملک کی سرزمین کو ترجیح دی۔اس دور میں شاید پلیٹ لیٹس کم ہونے کا رواج عام نہ تھا وگرنہ وہ بھی علاج کے بہانے ملک سے باہر بیٹھ کر نام نہاد سیاسی لیڈر بن سکتی تھیں مگر وہ بزدل سیاسی لیڈد نہیں عوامی لیڈر تھیں اس لیے آج بھی ان کے سیاسی مخالفین ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔وہ آج بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں پر راج کر رہی ہیں۔۔۔۔۔

    127 مناظر