• ارشد شریف قتل کیس: سپریم کورٹ کا ایس جے آئی ٹی بنانے کا حکم

    اشتہارات
  • ملازمین کی برطرفی سے متعلق نظرثانی اپیل پر فیصلہ ‏محفوظ، جمعے کو سنایا جائیگا

    سماعت کے موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ سرکاری محکموں میں تقرریوں کے لیے ‏اشتہار، ٹیسٹ اور میرٹ، شفافیت کے لیے ضروری ہیں۔ عدالتی فیصلے موجود ہیں کہ سرکاری ‏محکموں میں نوکریوں کی بندر بانٹ نہ ہو۔ اٹارنی جنرل ‏نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2010 کے قانون ‏کو خلاف ضابطہ برطرفیاں واپس لینے کے قانون کے طور پر پڑھا جائے، اس انداز میں ‏قانون کو دیکھنے سے اسے برقرار ‏رکھا جا سکتا ہے، ملازمین 1997 والی سطح پر بحال ‏ہوجائیں گے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ موجودہ کیس کا رنگ بدل چکا ہے، اب یہ مقدمہ ‏نظر ثانی کا نہیں، ازسر نو سماعت کا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا ‏کہ یہ تعین کہیں نہیں ہوا کہ ‏ملازمین کی بھرتیاں قانونی تھیں یا نہیں، استدعا ہے کہ نظرثانی درخواستیں منظور کی جائیں۔ ‏جسٹس سجادعلی شاہ نے کہا آپ مفروضوں پر ‏بات کر رہے ہیں، متعلقہ ادارے ہی اس حوالے ‏سے اصل صورتحال بتا سکتے ہیں۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ حکومتی ‏تجاویز کا جائزہ ضرورلیں گے۔ ‏لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق ملنے چاہییں۔ فیصلہ وہی ہوگا ‏جو آئین، قانون اور عوام کے مفاد میں ہوگا۔ ہم ‏سمجھتے ‏ہیں عدالتی فیصلے سے بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوئے۔ یقینی بنائیں گے کوئی چور دروزاے سے ‏سرکاری ملازمت میں داخل نہ ہوسکے۔ سماعت کے بعد عدالت عظمی نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    86 مناظر