• ایران جنگ کی وجہ سے شکست ہوئی: وینس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی اعتراف

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں ایران جنگ ان کی جماعت کی شکست کی بڑی وجہ بنی۔
    اس سے قبل نائب صدر جے ڈی وینس نے ریپبلکن پارٹی پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ غیر مقبول جنگ کے انتخابی نتائج پر اثرات کو تسلیم کرے۔

    وائٹ ہاؤس میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جے وینس کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایران جنگ کی وجہ سے ہمیں شکست ہوئی؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ بات بڑی حد تک درست ہے کیونکہ جنگ کی وجہ سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں دوبارہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے تو بھی ایران کے خلاف کارروائی کریں گے کیونکہ یہی واحد راستہ ہے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے حامی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانے کے امکان کو بھی مسترد کر دیا، جب ان سے ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ وزیر دفاع کو تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں؟ تو ان کا کہنا تھا کہ نہیں، میرے خیال میں وہ اچھا کام کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ ریپبلکن پارٹی کی وسط مدتی انتخابات میں شکست کی وجہ بنی، ان کے اس بیان کو 2028 کے صدارتی انتخابات سے پہلے خود کو اس غیر مقبول جنگ سے الگ کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
    جے ڈی وینس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل بیان میں کہا کہ ہماری شکست کی وجہ جنگ ہے، صدر ٹرمپ نے بھی گزشتہ رات یہی بات کہی تھی۔

    ان کا اشارہ ٹرمپ کے اس بیان کی طرف تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران جنگ شکست کی ایک وجہ تھی، تاہم ان کے بقول یہ جنگ پھر بھی ضروری تھی۔

    وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ریپبلکنز کی ہار کے بعد بھی صدر ٹرمپ ہی ہیں۔

    وائٹ ہاؤس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تصویر کے ساتھ یہ پیغام جاری کیا، جس میں ٹرمپ اوول آفس میں صدارتی میز کے پیچھے غصے میں دکھائی دے رہے ہیں۔

    تصویر پر لکھا گیا تھا، ’عوام کے لیے اطلاع، ٹرمپ اب بھی آپ کے صدر ہیں۔

    اسی طرح مزید ’اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ‘ بھی لکھا گیا، یہ وہ جملہ ہے جو اکثر صدر ٹرمپ اپنے سوشل میڈیا پیغامات میں استعمال کرتے ہیں۔

    خیال رہے کہ اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر لی تھی، جس سے ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگا۔

    کانگریس کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں جانے سے ٹرمپ کی امریکی سیاست پر گرفت کمزور ہو گئی ہے، اب ڈیموکریٹس قانون سازی کر سکتے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کر سکتے ہیں اور ان کی جانب سے اہم عہدوں پر تقرریوں کو روک سکتے ہیں۔

    21 مناظر