• مکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے: برطانوی خبر ایجنسی

    برطانوی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کے اعلیٰ حکام جلد ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے، ایرانی عہدیدار نے بھی دورے کی تصدیق کر دی ہے۔
    برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے، ملاقات میں علاقائی تعاون اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کریں گے، ترکیہ کے انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کی بھی اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔

    یہ مجوزہ ملاقات ایران اور تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر پہلا رابطہ ہوگا، جب سے سعودی عرب کو یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا ہے۔

    ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان ایران آئیں گے، ترک انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن بھی تہران آئیں گے۔

    علی باقری کے مطابق تینوں ممالک کے رہنما ایرانی حکام کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس میں شرکت کریں گے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سیکرٹری محسن رضائی سے ملاقات میں دورے سے آگاہ کیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ایران، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب خطے کی سکیورٹی کے لیے تعاون کر سکتے ہیں۔

    دوسری طرف قطر کے مصالحت کاروں کا وفد تہران پہنچ چکا ہے، قطری وفد ایرانی حکام کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطالبات پہنچائے گا۔

    قطری نشریاتی ادارے کے مطابق ایران اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی اور اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبات پر زور دے رہا ہے۔

    خیال رہے کہ میثاقِ مکہ میں شامل ممالک کے وزرا نے رواں ماہ کے اوائل میں ریاض میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا تھا، جس میں انہوں نے سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔

    یہ تنازع امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران خطے میں عدم استحکام کا ایک بڑھتا ہوا سبب بن گیا ہے، اس کے نتیجے میں امریکی اتحادی سعودی عرب وسیع تر جنگ میں دباؤ کے ایک اہم مرکز کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    ترکی، پاکستان اور سعودی عرب نے اگست میں مشترکہ دفاعی معاہدۂ مکہ پر دستخط کیے تھے، اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    41 مناظر