وزیراعظم شہباز شریف سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ملاقات کی، وزیراعظم نے مکالمے اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا
وزیراعظم نے امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی میں پاکستان کے کردار سمیت علاقائی امن و استحکام کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا، انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل اور کشیدگی میں اضافے کی روک تھام کیلئے مکالمہ اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔
شہباز شریف نے مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا، وزیراعظم نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، معاہدے کو یکطرفہ طور پر التوا میں رکھنے کا بھارت کا فیصلہ کسی قانونی بنیاد کا حامل نہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی اور افغان سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر شدید تشویش ہے، ان گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات کی ضرورت ہے۔
شہباز شریف نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ان کی ریاست کے قیام کے حق کیلئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عملدرآمد کیلئے پاکستان کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے انتونیو گوتریس کا خیرمقدم کرتے ہوئے مکالمے اور تنازعات کے پرامن حل کیلئے سیکرٹری جنرل کے اصولی عزم کو سراہا اور عالمی امن و سلامتی کیلئے ان کی نمایاں خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے مؤثر، جامع اور نمائندہ اقوام متحدہ کیلئے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب کثیرالجہتی نظام کو اہم چیلنجز درپیش ہیں، اقوام متحدہ کا مؤثر کردار مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہئیں، تنازعات کی روک تھام، تنازعات کے پرامن حل اور قیام امن کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے امن مشنز کیلئے پاکستان کے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا اور عالمی امن و سلامتی کے قیام کیلئے پاکستان کی مسلسل خدمات کو بھی اجاگر کیا۔
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ اور عالمی امن و سلامتی کیلئے پاکستان کی دیرینہ خدمات کو سراہا، جن میں اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کا اہم کردار اور سلامتی کونسل میں اس کی تعمیری شمولیت شامل ہے۔
انتونیو گوتریس نے مکالمے، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے فروغ کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا اور کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصولوں کیلئے پاکستان کے مسلسل عزم کا خیرمقدم کیا۔
بعد ازاں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔
