وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغانستان میں امن سے خطے میں استحکام اور ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش کا جواب دیا جائے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں افغانستان کی صورتحال اور امن کی جانب پیش رفت کے موضوع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی صورتحال ایک انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے، دیرپا اور پائیدار حل کی ضرورت ہے، پاکستان امن، مذاکرات اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے متعدد اعلیٰ سطحی وفود افغانستان بھیجے، افغانستان کے مسئلے پر استنبول اور دوحہ میں بھی مذاکرات ہوئے، افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ سوچ سے نکل کر ذمہ دار ریاست کی سوچ اپنانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو درپیش بیشتر مسائل عسکریت پسندانہ ذہنیت کا نتیجہ ہیں، افغانستان میں تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، افغانستان میں امن سے وسطی ایشیا سے پاکستان تک تجارتی راستے کھولنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستیں افغانستان کے راستے گرم پانیوں تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں، افغانستان میں دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کے ارکان کی محفوظ پناہ گاہیں تشویش کا باعث ہیں، افغانستان میں پائیدار امن کے لیے عسکریت پسندانہ ذہنیت سے باہر نکلنا ہوگا۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغان آبادی بڑی تعداد میں نوجوانوں پر مشتمل ہے، افغان خواتین کی بڑی تعداد افرادی قوت کا حصہ نہیں، افغانستان میں آبادی کے بعض طبقات کو معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کے مواقع نہیں مل رہے، افغان عوام کے بعض طبقات کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پُرامن بقائے باہمی کے لیے خود بھی جیو اور دوسروں کو بھی جینے دو کے اصول کو اپنانا ہوگا، صرف امن ہی خوشحالی کی بنیاد بن سکتا ہے، افغان عوام اور عبوری حکومت کے درمیان بڑا خلا موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان عوام تعلیم، اجتماع، انجمن سازی اور معاشی آزادی سمیت بنیادی حقوق کے مستحق ہیں، افغان عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے میں اپنی آواز اور اختیار ملنا چاہئے، افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ ذہنیت سے نکل کر عوام کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں امن سے پورے خطے میں استحکام اور ترقی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، خطے میں امن سے تجارت کو فروغ اور سرمایہ کاری کو تقویت ملے گی، کراچی اور گوادر تک تجارتی راستہ وسطی ایشیائی ریاستوں کی دیرینہ خواہش ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن امن کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا جواب دیا گیا ہے اور دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ افغان عوام بہتر اور خوشحال مستقبل کے مستحق ہیں، افغانستان میں اتفاقِ رائے پیدا کرکے عوام کو اپنے مستقبل کے انتخاب کا حق دینا ہوگا، علاقائی امن اور تجارت کے فروغ کی خواہش پورے خطے میں موجود ہے، پاکستان افغانستان کے مسئلے کے قابلِ قبول اور دوستانہ حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔
