• مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: وزیر دفاع خواجہ آصف

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ نہ بھی ہو تو مقدس مقامات کی حفاظت ہمارا فریضہ ہے، میرا خیال ہے وہ صورتحال آگئی ہے جہاں مکہ معاہدہ نافذ ہونا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ ہمارے اوپر لاگو ہوتا ہے اور ہم اپنا فرض ادا کریں گے، تفصیلات میں نہیں جا سکتا لیکن ہم مکہ معاہدے پر عمل کے پابند ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کرجاتی ہے اور لڑائی میں توسیع ہوتی ہے تو پاکستان اور ترکیہ واشگاف الفاظ میں عملی اور سفارتی طور پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ حوثی سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں ایسی صورت میں ایران سائیڈ لے تو میری نظر میں عقل مندی والی بات نہیں ہوگی اور اس کے امکانات بھی بہت کم ہیں، ساتھ ہی پاکستان نے بھی پیغام بھجوا دیا ہے اور سعودی عرب نے بھی مطلع کیا ہے۔

    وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایک ایسی صورتحال میں جب ایران کی امریکا اور اسرائیل کے ساتھ خلیج جنگ نازک امن کے ساتھ غیریقینی کے صورت حال پر کھڑی ہے تو ایسے میں ایک اور نیا محاذ کھولنا یا توسیع دینے کے بجائے دانشمندی کا تقاضا یہی ہے اس کو بڑھایا نہ جائے اور بڑے خلفشار میں تبدیل نہ کیا جائے۔

    6 مناظر