نیپال اور تبت کی سرحدی علاقے میں اچانک آنے والے سیلاب سے تباہی کے بعد ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی، 4247 افراد لاپتہ ہیں۔
تریشولی 3 اے پن بجلی منصوبے میں امدادی کارکنوں نے اتنا بڑا سوراخ بنانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے ذریعے اندر داخل ہو کر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش شروع کی جا سکتی ہے، تاہم اب تک اندر سے کوئی جواب نہیں ملا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق 3,655 نیپالی شہری اور 592 غیر ملکی لاپتہ ہیں، ان میں 933 پن بجلی منصوبوں کے کارکن جبکہ 102 نیپالی فوجی، پولیس اہلکار اور کسٹمز افسران بھی شامل ہیں۔
ہر روز درجنوں لاشیں مل رہی ہیں اور نیپال میں تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد اب 903 ہو گئی ہے، جو اتوار کو 781 تھی، تاہم چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں ہلاکتوں کی تعداد فی الحال 16 ہے جبکہ 546 افراد لاپتہ ہیں۔
شگاتسے کے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں کو اب تک کوئی شخص زندہ نہیں ملا۔
نیپال کی وزارتِ تعلیم کے مطابق سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ تین اضلاع میں کم از کم 19 سکول متاثر ہوئے ہیں۔
وزارت کے مطابق کم از کم نو سکول مکمل طور پر تباہ اور سات دیگر کو جزوی نقصان پہنچا ہے، جبکہ کئی تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور طلبہ کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
وزارتِ تعلیم و کھیل کی تازہ ترین جائزہ رپورٹ کے مطابق 200 سے زائد طلبہ لاپتہ ہیں جبکہ تقریباً 20 طلبہ سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔
