• قومیت کا رجحان

    قومیت کا رجحان

    تحریر: جاوید کمیانہ

    دشمن ملک بھارت نے بڑی عیاری کے ساتھ پاکستان میں لسانی و مذہبی عقائد کی تقسیم پر اربوں روپے خرچ کیے اور کسی حد تک کامیاب ہوا کہ پاکستان میں سندھ کارڈ، پنجاب کارڈ اور بلوچستان میں کالعدم بی ایل اے پھر اب آزاد جموں کشمیر میں بھارتی مداخلت واضح ثبوت ہیں کہ بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی را پاکستان میں بد آمنی اور معاشی طور پر کمزور پاکستان کے لیے تمام جتن لگا رہی ہے اور ریاست فتنوں پر قابو پانے کے لیے اربوں روپے کے وسائل جھونک رہی ہے جہاں مالی و جانی نقصانات کے ساتھ ساتھ غیر یقینی کی فضا معمول بن گئی ہے۔ پاکستان کی سیکورٹی فورسز ہر سطح پر فتنہ الہندوستان اور بھارت کے اسپانسرڈ دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما ہے مگر ریاست کے علاؤہ حکومت جہاں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے وہاں ایک اہم کام حکومت اپنے ذمہ لے لے تو اس کے نتائج اگلے دس سالوں میں حاصل ہوں گے مگر دشمن کی چال ناکام بنانے کے لیے کم از کم نیک کام کی ابتدا تو کی جا سکتی ہے۔
    گزشتہ روز ہمارے دفتر میں چند صحافیوں کے ساتھ یہی موضوع زیر بحث رہا کہ نرسری سے لے کر کلاس دہم تک سلیبس میں ایک کتاب ہونی چاہیے جس میں ہر پاکستانی کو قومیت کا درس دینا چاہیے اور طفل مکتب کے ذہن میں جب مسلسل دس سال تک یہ تعویذ گھول کر پلایا جائے گا ہم بحیثیت پاکستانی قوم ہر فرد نے ڈسپلن لانا ہے اور افواج پاکستان سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ٹیکنیکل افراد کی تکریم کرنی ہے تو واضح تبدیلی آئے گی میں یہاں ایک مثال دینا چاہتا ہوں کہ معروف بھارتی ٹی وی شو میں سامعین میں بیٹھے ایک فرد نے سوال کرنا چاہا تو کپل شرما نے سوال کیا کہ آپ کیا کرتے ہیں جس کے جواب میں کہا گیا کہ سر میں ریل گاڑی چلاتا ہوں تو ہال میں موجود افراد نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں کہ مزکورہ شخص عوامی خدمت کرتا ہے مگر ہمارے ہاں کوئی پائلٹ، فنکار، گلوکار یا کوئی اہم شخصیت کسی پروگرام میں تشریف فرما ہو تو ہم پروا ہی نہیں کر رہے ہوتے اور عزت بخشی کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں حالانکہ پاکستان میں ایک سے بڑھ کر ایک ٹیلنٹ موجود ہے مگر تنگ دلی کے ساتھ حوصلہ شکنی سے کام لیتے ہیں اسی طرح ہم ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کے استعمال میں اپنی منفی پراپیگنڈہ و سرگرمیوں کو پروان چڑھاتے ہیں مگر تعمیری کام سے کتراتے ہیں۔
    گزشتہ برس بھارت نے بہاولپور و مریدکے میں جارحیت کی تو پاکستان نے دشمن کو جو دندان شکن جواب دیا اور پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل اور سفارتی گراف اوپر گیا مگر مزے کی بات یہ ہے کہ چند بھارتی فورسز کے آفیسرز معروف اداکار امیتابھ بچن کے پروگرام میں جب آئے تو شکست کی پرچھائی تمام بھارتی فوج کے آفیسرز کے چہروں پر عیاں تھی اس کے باوجود انہوں نے عوام کے سامنے جھوٹی کہانیاں سنائیں اور عوام تالیوں سے حوصلہ افزائی کر رہے تھے اس کے جواب میں ہم اپنے حقیقی ہیروز کو کبھی میڈیا پر نہیں لائے کہ عوام اپنے ان ہیروز کو سلام عقیدت ہی پیش کر سکے یہ قومیت کی ایک ادنیٰ مثال ہے کہ دشمن اپنے نام نہاد ہیروز یا فنکاروں کی زندگی میں قدر کرنا سکھاتا ہے جبکہ ہم دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود بھی پروا نہیں کرتے۔ بھارت میں پریپ کلاس سے ہی قومیت پڑھائی اور سکھائی جاتی ہے اور مدرس بھی مخلصانہ طور پر یہ فریضہ سر انجام دیں گے جبکہ ہمارے چھوڑے بڑے تعلیمی اداروں میں درس وتدریس سے وابستہ افراد اپنی من پسند سیاسی جماعتوں اور شخصیات سے متعلق محبت یا نفرت کے باعث قوم کو تقسیم کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔
    معلم کے بارے میں حکومت اسی طرح کی سخت پالیسی بنائے کہ ان کے جسمانی و ذہنی ٹیسٹ لازمی قرار دئے جائیں تو مدارس و تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دینے والے افراد کبھی بھی مذہبی و سیاسی نفرت نہ پھیلا سکیں بلکہ مدرسے میں خالصتاً اسلام کی تعلیم جبکہ تعلیمی اداروں میں بہترین تعلیم سے آراستہ کیا جا سکے۔ اس موضوع پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے کہ کہاں حکومتیں نظام کو درست کر سکتی ہیں مگر لکھنے اور بولنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا بلکہ عملی طور پر میدان میں اترنا پڑے گا تو بحثیت پاکستانی اس نیک کام کا آغاز میں ہی کرتا ہوں اور ایکس ٹویٹر پر موجود مخلصانہ کوششیں کرنے والے محب وطن پاکستانیوں کے متعدد گروپس موجود ہیں جو یہ نیک عمل کر رہے ہیں تو میں فرداً فرداً سب سے بات کرتا ہوں کہ ڈاکیا، پولیس کے سپاہی، فوج کے جوان، ہر شعبہ زندگی میں چھوٹی سے لے کر اہم پوسٹوں پر تعینات افراد کو جہاں سال بعد ایوان صدر میں تمغے سے نوازا جاتا ہے تو ہم اپنے پلیٹ فارم سے ان شخصیات کو بھی اجاگر کریں تاکہ ہر پاکستانی ان کو اپنا ہیرو سمجھے اور اپنے دل میں یہ تمنا پیدا کرے کہ ہم بھی ایک دن ملکی خدمت کے عوض یہ عزت سمیٹنے میں کامیاب ہوں۔ کچھ برسوں کی مسلسل محنت و جدوجہد کے باعث ہم کچھ فیصد عوام کے خیالات و نظریات کو تبدیل کرنے میں کامیاب جائیں گے دوسری جانب حکومت اپنی سطح پر قومیت کو پروان چڑھانے کے لیے عملی اقدامات کرے تو چند برسوں تک دشمن بھارت پاکستان میں تقسیم و نفرت کا کاروبار بند ہو جائے گا کیونکہ بھارت اگر کسی پاکستانی کو آلہ کار بنانے کی کوشش کرے گا تو منہ کی کھائے گا اور بہت جلد غیر سیاسی و مذہبی پلیٹ فارم نظر آئے گا اور میں اس پر قلم کو حرکت دینے کی جسارت کر رہا ہوں گا مگر دل مطمئن ہو گا کہ بہت سے محب وطن پاکستانی میرے ساتھ اس کاز میں عملی طور پر ساتھ کھڑے ہوں گے مجھے یقین سا ہے اور جب کسی کام کے آغاز پر یقین آپ کا ساتھی بن جائے تو اس میں خیر و برکت برستی ہے کیونکہ معاملہ ذاتی و انفرادی نہی بلکہ پاکستان کا ہے ایک قوم بننے کا ہے۔ اللہ کریم ہمارا حامی و ناصر اور مددگار ہو۔

    48 مناظر