
اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق ہوگئے
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آگ گائنی وارڈ کی ایم سی ایچ وارڈ کے تیسرے فلور پر لگی، آگ لگنے کے وقت نرسری میں 15 بچے تھے، لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچا سکی۔
ہسپتال دستاویز کے مطابق جاں بحق بچوں کی شناخت سامنے آ گئی، آگ کی زد میں آ کر بہادر نامی شہری کے جڑواں بچے بھی دم توڑ گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیوں نے آگ پر قابو پایا جس ک بعد کولنگ کا عمل جاری ہے، آگ لگنے کی وجوہات کا تاحال تعین نہیں ہو سکا، خواتین سمیت 19 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔
پمز ہسپتال میں بچوں کے وارڈ کیلئے تعینات پورا ٹیکنیکل سٹاک کو معطل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب واقعہ کی انکوائری کیلئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی، ضلعی انتظامیہ نے انکوائری کمیٹی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، کمیٹی میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی اور ایس پی سٹی کو شامل کیا گیا، اسسٹنٹ کمشنر آئی نائن اور ڈی جی سی ڈی اے بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ آئیسکو اور پمز ہسپتال کے افسران کو بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا، انکوائری کمیٹی تحقیقات کے بعد 24 گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی۔
چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی علی ناصر رضوی پمز ہسپتال پہنچے، دونوں نے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔
عینی شاہد خاتون کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیم بہت دیر سے پہنچی، نرسری میں ہمارے سامنے بچے چل گئے ہیں، ہم بچوں کو لے کر بھاگ گئے کچھ سمجھ نہیں آیا، ہمارا سامان بھی اندر رہ گیا ہے لیکن ہم اپنے بچوں لے کر دوڑ گئے۔
صدر مملکت اور وزیراعظم نے پمز ہسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے اندوہناک واقعے میں 14 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ نومولود بچوں کی المناک اموات انتہائی دلخراش اور ناقابل تلافی نقصان ہے، واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حکام کو فوری تحقیقات کی ہدایت کی اور کہا کہ بچوں کے ساتھ اس نوعیت کا واقعہ ناقابلِ تلافی ہے، واقعے کے محرکات کا تفصیلی جائزہ لے کر ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
وزیراعظم نے جاں بحق بچوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اس اندوہناک سانحے پر دل رنجیدہ ہے اور وہ غمزدہ والدین کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی جاں بحق بچوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ تحفیقات کے بعد پتہ چلے گا واقعہ لاپرواہی سے ہوا یا ڈیوٹی پر کوئی موجود تھا یا نہیں،۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پمز ہسپتال آتشزدگی واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ تمام ہسپتالوں میں آگ بجھانے والے آلات کی موجودگی اور فعالیت یقینی بنائی جائے۔
41 مناظر