Site icon Meritnews

دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں

دنیا بھر میں کشمیری آج بھارت کا یوم آزادی بطور یوم سیاہ منا رہے ہیں، اس موقع پر بھارت نے مقبوضہ وادی میں پابندیاں مزید سخت کرکے جگہ جگہ نفری تعینات کر دی ہے۔
آج دنیا بھر میں جموں و کشمیر پر غیر قانونی بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا جا رہا ہے، بھارت نے 27 اکتوبر 1947ء کو کشمیریوں کی مرضی کے خلاف ریاست پر غاصبانہ قبضہ کیا، 79 برسوں میں 5 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنا پیدائشی حق مانگ رہے ہیں، عالمی برادری سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

کشمیر میڈیا سیل کے مطابق بھارتی انتظامیہ کی جانب سے بھارتی یوم آزادی پر مقبوضہ علاقے میں پابندیاں مزید بڑھا دی گئیں، سری نگر اور دیگر قصبوں میں حساس مقامات پر بھارتی فوجی، پیرا ملٹری اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔

بھارتی فورسز نے اہم شاہراہوں پر اضافی چیک پوسٹیں قائم کی ہیں، بھارتی فورسز نے مزید ناکے بھی لگا دیئے، گاڑیوں، مسافروں اور راہگیروں کی سخت تلاشی لی گئی، بھارتی فورسز نے سری نگر کے بخشی سٹیڈیم کو مکمل طور پر حصار میں لے لیا۔

بخشی سٹیڈیم میں بھارتی یوم آزادی کی نام نہاد مرکزی تقریب ہوگی، سٹیڈیم کی ڈرون کیمروں سے نگرانی کی جارہی، ماہر نشانہ باز اہلکار بھی تعینات کر دیئے گئے۔
مشرقی پنجاب میں سکھ برادری اور ناگالینڈ، آسام و منی پور میں بھارتی یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ اور احتجاج کی اپیلیں سامنے آئی ہیں، مختلف گروہوں کی جانب سے بھارتی ریاستی پالیسیوں کے خلاف 15 اگست کو احتجاج اور یومِ سیاہ منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مختلف علیحدگی پسند تنظیموں اور گروہوں کی جانب سے لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ 15 اگست کو سیاہ پرچم لہرا کر اسے یوم سیاہ کے طور پر منائیں۔

ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ان کے دیرینہ علیحدگی پسند مطالبات اور حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث وہ بھارتی یومِ آزادی کی تقریبات کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔

آسام کے یونائیٹڈ نیشنل فرنٹ آف آسام، ناگالینڈ کی نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ اور منی پور کی الائنس فار سوشلسٹ یونٹی سمیت مختلف گروہوں نے یومِ آزادی کی تقریبات کے بائیکاٹ اور احتجاج کی اپیل کی ہے۔

Exit mobile version