
دہشت گردوں سے بات چیت کی گنجائش نہیں، ہتھیار ڈال دیں ورنہ ختم کر دیئے جائیں گے: پاک فوج
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بتایا کہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں صرف 2 ہزار 91 آپریشن کیے گئے، 2026 میں بم دھماکوں کے 28 واقعات ہوئے، بم دھماکوں میں زیادہ تر افغان شہری ملوث تھے، دہشت گرد ریاست کے سامنے جھکیں ورنہ بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے جان بوجھ کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، پاکستان میں آئین اور قوانین سب کے لیے یکساں ہے، ریاست سے وفاداری ہر شہری کا حق ہے، پاکستان ہی ہماری آخری پہچان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے واقعات میں 322 پاکستانی شہری شہید ہوئے، دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے ہوں گے یا ہم انہیں ختم کردیں گے ، دہشت گردوں کو اب سمجھ آگیا ہے ان سے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کچھ جماعتوں کی جانب سے حقوق کی بات کی جاتی ہے لیکن کیا اپنے فرائض سے آگاہ ہیں، ملک کے دشمنوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، ہارڈ اسٹیٹ وہ ہے جہاں تمام معاملات آئین و قانون کے مطابق ہوں، ریاست ہے تو شہری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل پانچ کہتا ہے وفاداری صرف ریاست سے ہوگی، ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جان ہے، ریاست ہے تو نام ہے، بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص عناصر شامل ہیں، افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کا ایک قبیلہ ہے جس میں اسٹیٹس کو ہے، یہ اسٹیٹس کو یہ ہے کہ غریب کا بچہ پڑھے نہیں ہمیشہ ان کا غلام رہے۔
35 مناظر