
سندھ کو 18 برسوں میں 22 ہزار ارب روپے ملے، کراچی کو صرف 3 فیصد دیا گیا: مصطفیٰ کمال
ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ کراچی کو گزشتہ 18 برسوں میں سندھ کو ملنے والے 22 ہزار ارب روپے میں سے صرف 3 فیصد حصہ ملا، جبکہ سندھ کی آمدنی کا 95 فیصد کراچی سے حاصل ہوتا ہے۔
کراچی میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاق نے رواں بجٹ میں سندھ کو 2 ہزار 263 ارب روپے فراہم کیے، تاہم کراچی کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا جا رہا، 2010 تک وفاق کراچی کو براہ راست فنڈز فراہم کرتا تھا، لیکن اب شہر کے ساتھ مسلسل ناانصافی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ کراچی کے نام پر فنڈز لیے جاتے ہیں مگر شہر کی ترقی پر خرچ نہیں کیے جاتے، موجودہ سندھ حکومت کراچی کو پاکستان کی معاشی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے سے روک رہی ہے، حالانکہ کراچی ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ لاہور کی ترقی پر انہیں خوشی ہے، تاہم کراچی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، شہر کے شہری آج بھی صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں، بچے گٹروں میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جبکہ سندھ میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں بھی بچوں کی اموات تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے متعدد سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات، بشمول واش رومز، موجود نہیں، جبکہ ملک میں کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں، سندھ میں بدامنی اور لاقانونیت عروج پر ہے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کا مؤثر نظام موجود نہیں۔
ان کا کہنا تھا ہے کہ سندھ کو ملنے والا 22 ہزارارب روپے دبئی منتقل ہوگیا، 22 ہزار ارب روپے سے سندھ 50 ہزاردوبارہ بن سکتا تھا، آج دبئی میں پراپرٹی اس منتقل ہونے والے پیسے کی وجہ سے مہنگی ہے، ہم اپنی وزارت جوتی کی نوک پررکھتے ہیں، ہمیں لوگوں کے لیے حقوق چاہئیں، ایم کیو ایم تمام منظرکو خاموشی سے بیٹھ کر نہیں دیکھے گی، ظلم کی سیاہ رات کےخاتمے کاوقت آچکا ہے۔
نئے صوبوں کی بات تمام پاور کوریڈورز میں چل رہی ہے، نئے صوبوں کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تائید کرتا ہوں، نئے صوبوں کےعلاوہ پاکستان چلانے کا کوئی اور حل نہیں ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا فیلڈمارشل نے 3 سال قبل کاروباری کمیونٹی سے خطاب کیا، خطاب میں انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانا ناگزیر ہوچکا ہے، صوبے لوگوں کو نچلی سطح پر اختیارات اور وسائل نہیں پہنچارہے، اب انتہا ہوچکی یہ نظام نہیں چلے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے بل پیش کردیا ہے، اب سڑکوں پرآنے والا راستہ رہ گیا ہے، کل ہمارا شاہ فیصل ٹاؤن میں جلسہ ہے، کراچی کھڑا ہوگیا تو بڑی طاقتوں کوبہالے جائے گا، ریاست کو چلانے والوں کے پاس بھی اب اس مسئلے کا حل نظر نہیں آتا، ملک میں نئے صوبے اور لوکل گورنمنٹ کا نظام لانے کی ضرورت ہے، ایم کیو ایم نے ہی نئے صوبوں کی آئینی تحریک پیش کی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے خیرپور میں اپنے لاپتا بچوں کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والی ماؤں پر مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام زیر حراست افراد کو فوری رہا کیا جائے۔
9 مناظر