
ٹرمپ کا لبنان کی بھرپور حمایت کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں لبنان کے صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد ایران، لبنان، حوثیوں اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اہم بیانات دیے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے لبنان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں اور لبنان کئی دہائیوں سے شدید مشکلات کا شکار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا لبنان کی بھرپور مدد کرے گا اور اس کے ساتھ عزت اور مناسب سلوک کیا جائے گا، جبکہ لبنان کے ساتھ طویل عرصے سے ناانصافی ہوتی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لبنانی صدر چاہیں تو وہ حزب اللہ سے بات چیت کے لیے بھی تیار ہیں۔ ان کے مطابق حزب اللہ کے انخلا کے بعد جنوبی لبنان کے متعدد دیہات کا کنٹرول لبنانی فوج نے سنبھال لیا ہے، جبکہ جنوبی لبنان میں تجرباتی زونز سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ابراہم معاہدے انتہائی کامیاب رہے ہیں اور مستقبل میں مزید کئی ممالک ان میں شامل ہوں گے۔
ایران کے حوالے سے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ تہران شدت سے ان سے ملاقات کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان خفیہ ذرائع سے رابطے جاری ہیں، ان کے بقول ایران اس معاملے کو ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسے شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے، تاہم ایران کے خلاف کارروائی ابھی مکمل نہیں ہوئی، انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے اپنی جوہری تنصیبات دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تو امریکا دوبارہ حملہ کرے گا، حالیہ نقصانات کے بعد ایران کو تعمیرِ نو میں 20 سے 25 سال لگ سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے حوثیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے حوالے سے کہا کہ امریکا صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ سخت کارروائی کے لیے تیار ہے، حوثیوں کے خلاف گزشتہ کارروائی کے بعد امریکا کو ان کی جانب سے کسی بڑے مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا باب المندب میں کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، جبکہ ان کے بقول آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی جاری ہے اور وہاں سے کوئی بھی بحری جہاز گزر نہیں رہا۔
7 مناظر