
طوفانی بارشیں، بادل پھٹنے سے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال
مون سون بارشوں اور بادل پھٹنے سے ملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
خیبر میں تیز بارش کے باعث مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں میں دو گاڑیاں بہہ گئیں، سوار خواتین اور بچوں کو بچا لیا گیا جبکہ پولیس کے مطابق تین افراد لاپتہ ہیں۔
پولیس کے مطابق علاقہ خوگہ خیل زکریا مسجد کے قریب بھی کار سیلابی ریلے کی نذر ہوئی، موٹر کار میں موجود تمام افراد کو بحفاظت نکال دیا گیا ہے۔
حافظ آباد ہیڈ قادرآباد کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے جہاں پانی کی آمد ایک لاکھ 38 ہزار کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 15 ہزار کیوسک ہے، یہی وجہ ہے کہ ہیڈ قادرآباد کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
لیہ کے موضع سمرانشیب میں دریائے سندھ کی بے رحم موجیں بےقابو ہوگئیں، پانی کے تیز بہاؤ میں دو بڑے سرکاری سکول دریا برد ہوگئے، دریائے سندھ کے کٹاؤ سے اب تک سینکڑوں ایکڑ فصلوں اور 300 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
دریائی پانی سے پانچ سے زائد بستیاں، 3 مساجد، بجلی کے کھمبے اور دوسری سرکاری املاک بھی متاثر ہوئیں۔
مون سون کی بارشیں اس سال بھی حسن ابدال کے نواحی علاقے کوہلیہ سمیت درجنوں دیہاتوں کے مکینوں کے لیے زحمت بن گئیں، مکینوں کی اپنی مدد آپ کے تحت چندے سے تعمیر کیا گیا کوہلیہ پل ایک بار پھر تیز سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا، جس کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سرحدی دیہات کا شہر سے رابطہ منقطع اور شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
کشمیر کی وادی نیلم کے نواحی گاؤں میں کلاووڈ برسٹ کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جس سے مکانات سمیت متعدد دکانیں سیلاب کی زد میں آگئیں۔
مینگل نالے کے قریب متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکل بہہ گئیں، نالے میں آنیوالے سیلاب سے لوگوں کے مال مویشی بھی نالے میں بہہ گئے، مرکزی شاہراہ نیلم پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
مانسہرہ کے علاقے جبوڑی میں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں متعدد ہوٹلوں اور رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے معمولاتِ زندگی متاثر کر دیے۔
وادی کاغان، وادی سرن اور دیگر حساس علاقوں میں ندی نالوں اور دریاؤں میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر سیاحوں کو دریائے کنہار اور دیگر آبی گزرگاہوں سے دور رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
مری اور گلیات میں بھی موسلا دھار بارش ہوئی، جس سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
نگر میں چھلت کے علاقے بڈہ لس میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 4 مزدور جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق مزدور کام کر کے شام کو گھروں کو واپس جا رہے تھے کہ لینڈ سلائیڈنگ ہوگئی اور ملبے تلے آگئے، جس کے نتیجے میں 3 مزدور زخمی جبکہ 4 جاں بحق ہوئے ہیں۔
مزدوروں میں ایک لیہ پنجاب کا تھا جس کی شناخت شفقت اور ایک چھلت رابٹ سے تھا جس کی فدا حسین کے نام سے ہوئی، جبکہ 2 مزدروں کا تعلق کوہستان سے بتایا جارہا ہے، جن کی میتوں کو کوہستان و پنجاب منتقل کیا گیا ہے۔
14 مناظر