وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر امیر مقام اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف 19 جولائی کو میرپور کا دورہ کریں گے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات میں تمام مطالبات پورے کیے گئے، مہاجرین نشستوں کا معاملہ آزادکشمیر اسمبلی سے متعلق ہے، آئینی معاملات پاکستان حکومت نہیں بلکہ آزادکشمیر اسمبلی کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں عام انتخابات 27 جولائی 2026 کو ہوں گے، اسمبلی اپنی آئینی مدت 4 اگست کو مکمل کرے گی، انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ وقت پر ہوں گے اور کسی کو طاقت یا اسلحے کے زور پر انتخابات روکنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وہ انٹری پوائنٹس پر خوراک کی ترسیل روکنے کی اطلاعات کا جائزہ لینے آئے ہیں، سکیورٹی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ بند ہے اور سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، تاہم حالات بہتر ہوتے ہی انٹرنیٹ بحال کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چند افراد کی گفتگو نہ کشمیری قوم کی نمائندگی کرتی ہے اور نہ ہی تحریک آزادی کشمیر کی، عام انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ بہتر رہنے کی توقع ہے۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے پہلے 38 مطالبات پیش کیے اور بعد میں مزید 8 مطالبات شامل کیے، تاہم کمیٹی نے مطالبات سے الحاقِ پاکستان سے متعلق شق نکال دی، انہوں نے کہا کہ الحاقِ پاکستان ہمارے آئین کا حصہ ہے اور ہم اسی پر حلف اٹھاتے ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بغیر مطالبے کے آزادکشمیر کے لیے چار دانش سکول دیئے، 10 ارب روپے کی لاگت سے رتھوعہ ہریام برج مکمل کیا گیا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کشمیر سے خصوصی محبت رکھتی ہے، میرپور اور بھمبر میں حالات پُرامن ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ الیکشن ہی تمام مسائل کا حل ہیں۔
