صدر مملکت اور وزیراعظم پاکستان نے یومِ شہدائے کشمیر پر 22 شہدائے 1931ء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
اپنے بیان میں صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام کی قربانیاں تاریخ کا روشن باب ہیں، پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا، بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و جبر فوری بند کرے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری روکی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا اور فوجی محاصرہ ختم کیا جائے، بھارت مقبوضہ کشمیر کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں بند کرے، 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ بھارتی اقدامات غیر قانونی تھے۔
صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کردار ادا کرے، تنازع جموں و کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، پاکستان ہر حال میں اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ اللہ تعالیٰ شہدائے کشمیر کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 13 جولائی 1931 کے 22 کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں کشمیری عوام کی جدوجہد کا روشن باب ہیں، یوم شہدائے کشمیر عزم، جرات اور استقامت کی علامت ہے، کشمیری عوام حق خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہیں۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان جموں وکشمیر کے شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
