
ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو چکی، وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا، اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہماری جنگ بندی ختم ہوچکی، ان کے ساتھ معاملات کرنا وقت کا ضیاع ہے، اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا۔
ترکیے کے دار الحکومت انقرہ میں نیٹو چیف جنرل مارک روٹے کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نیٹو چیف کے ساتھ تعمیری مذاکرات ہوئے، نیٹو امریکا کا مشکل ترین پارٹنز ہے، ہم نے ایران کو نیوکلیئر ہتھیاروں سے پاک کرنے کی بات کی، ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ میں نیٹو سے خوش نہیں ہوں کیونکہ انہوں نے ایران کے خلاف ہماری مدد نہیں کی، ہمیں مدد کی ضرورت نہیں تھی لیکن میں امتحان لے رہا تھا، ہم نیٹو کو 100 فیصد فنڈ دے رہے تھے جبکہ کچھ ممالک کچھ بھی حصہ نہیں ڈال رہے تھے۔
ان کا کہا تھا کہ نیٹو کو سب سے زیادہ مالی معاونت امریکا فراہم کرتا ہے، اس لئے اتحادی ممالک کو اپنی ذمہ داریاں مزید مؤثر انداز میں ادا کرنی چاہئیں۔
امریکی صدر نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ ’میرے خیال میں یہ ختم ہو چکی ہے، ان کے خیال میں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت ختم ہوگئی ہے، میں اب ان کے ساتھ مزید معاملہ نہیں کرنا چاہتا، ایران کے معاملے میں بہت زیادہ وقت ضائع کیا، اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ایران نے سعودی عرب اور دیگر ممالک کے جہازوں پر حملے کئے، ایران کے حملوں کے جواب میں امریکی فوج نے بھی کارروائی کی، ایران کی تمام قیادت کو ختم کر دیا، اب وہاں نئے لوگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے، سپین انتہائی خراب شراکت دار ہے، اس کے ساتھ تجارت ختم کر دی اب وہ گڑگڑا رہا ہے کہ ہمارے ساتھ تجارت کریں۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو گرین لینڈ واپس نہیں دینا چاہیے تھا، یہ خطہ ہمارے لئے ضروری ہے، میں ہوتا تو پاناما کینال بھی نہیں دیتا۔
25 مناظر