
امریکی دھمکیاں جاری رہیں تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہوں گے: ایران
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کی دھمکیاں جاری رہیں تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ لاکھوں باعزت ایرانی متحد ہو کر شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ نہ ایرانی عوام اور نہ ہی ہماری بہادر مسلح افواج کسی قسم کی دھمکی سے مرعوب ہوں گی، اگر دھمکیاں جاری رہیں تو حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔ اپنے دستخط کی پاسداری کریں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت بالکل واضح ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ میں امریکہ کے وہم میں مبتلا صدر سے مخاطب ہوں جنہوں نے آج 9 کروڑ 10 لاکھ ایرانیوں کو دھمکیاں دی ہیں۔
محمد باقر ذوالقدر نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ وہ ایرانی عوام سے احترام کے ساتھ بات کریں ورنہ ہم بھی آپ کو دوسری زبان میں بھرپور جواب دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے چکے ہیں لیکن اس کا نتیجہ امریکہ کے لیے ناکامی، مایوسی اور بالآخر مذاکرات اور جنگ بندی کی درخواست کی صورت میں نکلا تھا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر ایران معاہدہ کرلیتا ہے تو ٹھیک ہے ورنہ امریکہ اس کا کام تمام کر دے گا۔
33 مناظر