ایران صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ بعض اندرونی اور بیرونی عناصر ایران کے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بات ایران کے مذہبی مرکز قم کے دورے کے دوران اعلیٰ مذہبی شخصیات بشمول آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی سے ملاقات میں کہی، یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں حکومت کے لیے حمایت کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
آیت اللہ مکارم شیرازی کو جنگ کے بعد کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر بریفنگ دیتے ہوئے مسعود پزشکیان نے ملک کے اندر اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ملک کے اندر اور باہر بعض حلقے قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور معاہدے کے عمل کو متاثر کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مفاہمتی یادداشت کے تحت واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات پر قدامت پسند حلقوں کی جانب سے تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت سے ملک کے معاشی اور سماجی مسائل کے ایک بڑے حصے کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے جنگ اور اس کے بعد کے معاملات سے نمٹنے میں حکومت کی کارکردگی کو سراہا اور حالیہ معاہدوں کے ممکنہ مثبت اثرات کا بھی ذکر کیا، تاہم انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایسے کسی قدم سے گریز کیا جائے جو دشمنوں کو حوصلہ دے سکتا ہو۔
اس کے علاوہ ایرانی صدر نے قم میں رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے آیت اللہ سید محمد سعیدی سے ایک الگ ملاقات کی جس کے دوران مسعود پزشکیان نے ان سیاسی اور سفارتی کوششوں کا جائزہ پیش کیا جس کے باعث ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاہدہ ہوا۔
ایرانی صدر نے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے تزویراتی اور رہنما کردار کو بھی اجاگر کیا۔
صدر مسعود پزشکیان نے اس معاہدے کے نتیجے میں لبنان میں نسبتی امن و استحکام اور کچھ اقتصادی مواقع کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس کا سہرا رہبرِ اعلیٰ کی رہنمائی اور حکومت کی عمل درآمد کو جاتا ہے۔
