• قلعہ احمد آباد میں یوم عاشور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جلوسِ عزا برآمد

    قلعہ احمد آباد میں یوم عاشور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جلوسِ عزا برآمد، ماتم داری و زنجیر زنی

    شہر کی مختلف مساجد میں محافل شہادت امام حسین و ذکر اہلبیت کا انعقاد

    قلعہ احمد آباد (بیوروچیف) 10 محرم الحرام یوم عاشور کے موقع پر قلعہ احمد آباد میں مجلس عزا اور جلوس عزا انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر عزاداران حسنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور حضرت امام حسین، اہل بیت اطہار اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔مجلس سے خطاب کرتے ہوئے ذاکر اہل بیت قاضی جمشید فیصل نے واقعۂ کربلا کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ حضرت امام حسین اور ان کے جانثار ساتھیوں نے دین اسلام کی سربلندی، حق و صداقت اور انسانیت کے تحفظ کے لیے لازوال قربانیاں پیش کیں جو قیامت تک یاد رکھی جائیں گی۔ بعد ازاں وقار حسین نقوی نے اپنے خطاب میں فلسفۂ کربلا بیان کرتے ہوئے کہا کہ یوم عاشور صبر، استقامت، ایثار اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانیاں ہر دور میں حق و باطل کے درمیان فرق واضح کرتی رہیں گی۔شبیہہ ذوالجناح کے ساتھ جلوس عزا برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا چوک کلاں (چھوٹا چوک) مین بازار قلعہ احمد آباد پہنچا۔ جلوس کے دوران عزاداران حسنین نے سیدالشہداء حضرت امام حسین اور خانوادۂ رسالت پر ڈھائے جانے والے مظالم کے غم میں ماتم داری اور زنجیر زنی کی۔زنجیر زنی کے دوران ریسکیو 1122 کے اہلکار بھی ہمراہ موجود رہے جنہوں نے زخمی ہونے والے عزاداروں کو فوری فرسٹ ایڈ، مرہم پٹی اور طبی امداد فراہم کی۔ ریسکیو اہلکاروں نے جلوس کے اختتام تک اپنی خدمات سرانجام دیتے ہوئے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری برقرار رکھی۔ماتم داری اور زنجیر زنی کے بعد وقار حسین نقوی نے عزاداران اور شرکائے مجلس سے خطاب کیا اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔یوم عاشور کے موقع پر شہر بھر میں مختلف مقامات پر پانی، شربت، دودھ اور لنگر کی سبیلیں بھی لگائی گئیں۔ دوسری جانب امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے جبکہ پولیس تھانہ احمدآباد، سول ڈیفنس و ریسکیو 1122 اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکار امن و امان برقرار رکھنے کے لئے جلوس کے ہمراہ اور اہم مقامات پر تعینات رہے۔مجلس اور جلوس کے اختتام پر شہدائے کربلا کے درجات کی بلندی، ملک و قوم کی سلامتی، اتحاد امت اور عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

    572 مناظر