
اسرائیل کی لبنان میں موجودگی معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی: ایران
) ایران کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کی سرزمین پر اسرائیل کی مسلسل موجودگی جنگ کے خاتمے کے معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر ’قبضہ جاری رکھا تو ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری طرف اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان معاہدے کا حصہ نہیں ہے، جب کہ لبنانی صدر جوزف عون نے اصرار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ان کے ملک کی بات چیت امریکا اور ایران معاہدے سے آزاد ہے۔
ایران اور پاکستان، جنہوں نے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، اصرار کرتے ہیں کہ لبنان میں جنگ بندی مفاہمت کی یادداشت کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل
سینئر امریکی حکام کی جانب سے برطانوی نشریاتی ادارے کو فراہم کردہ معاہدے کے امریکی ورژن میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ادھر امریکی قومی انسداد دہشتگردی سینٹر کے سابق سربراہ جو کینٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران مفاہمتی یادداشت کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیلی اقدامات کو محدود کرنا ضروری ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ سے استعفیٰ دینے والے جو کینٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کا فیصلہ مثبت ہے، دعا ہے یہ امن اور خطے میں استحکام برقرار رہے، معاہدے کی کامیابی کا انحصار اسرائیل کو روکنے اور خطے میں توازن قائم رکھنے پر ہے۔
علاوہ ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ اسرائیل کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا، لبنان اور حزب اللہ سے متعلق معاملات میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
30 مناظر