
آئندہ مالی سال کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش
قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا اور کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کرنا ان کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔
بجٹ تقریر کے آغاز میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ حکومت کا تیسرا بجٹ ہے جو وہ معزز ایوان کے سامنے پیش کر رہے ہیں، انہوں نے اتحادی جماعتوں کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میاں محمد نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کی رہنمائی ان کے لیے قابلِ قدر ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان عالمی سطح پر ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے اور جس کی دوستی کی خواہش کی جاتی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرحدوں پر حالیہ جارحیت کے جواب میں مسلح افواج نے ایسا فیصلہ کن ردعمل دیا کہ دشمن چند ہی گھنٹوں میں جنگ بندی کی بات کرنے پر مجبور ہو گیا، یہ کامیابی دہائیوں کی پیشہ ورانہ تربیت اور تیاری کا نتیجہ ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق آج دنیا پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کی معترف ہے اور پاکستانی فضائیہ کے تھنڈر جیٹس متعدد ممالک کی دلچسپی کا مرکز بن چکے ہیں، جو انہیں اپنی فضائی افواج میں شامل کرنے کے لیے پاکستان سے رابطے میں ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی دفاعی صنعت اب زرمبادلہ کمانے کا بھی اہم ذریعہ بن رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ایمان اور بھائی چارے کا رشتہ پہلے سے موجود ہے تاہم اس معاہدے نے تعلقات کو ایک نئی اور مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق یہ پاکستان کے لیے اعزاز کے ساتھ ساتھ ایک بھاری اور مقدس ذمہ داری بھی ہے جس کی ادائیگی کے لیے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے اس پیش رفت پر وزیر اعظم، فیلڈ مارشل اور عسکری و سفارتی قیادت کا بھی شکریہ ادا کیا۔
وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ پاک چین تعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں، دونوں ممالک کی دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی معاشی چیلنجز، روس یوکرین جنگ اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر شدید دباؤ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ بوجھ مکمل طور پر عوام پر منتقل کرتی تو قیمتیں کہیں زیادہ ہوتیں، وزیر خزانہ کے مطابق حکومت نے 128 ارب روپے کی معاشی ڈھال کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کیا، جسے بعد میں ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے مزید بہتر بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی ضرورت مند طبقات کو پٹرولیم مصنوعات میں ریلیف فراہم کرتی رہے گی۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ پنشن کی مد میں 1169 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ملٹری پنشن کے لیے 822 ارب روپے اور سول پنشن کے لیے 272 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ دفاعی اخراجات کے لیے 3 ہزار ارب روپے جبکہ سبسڈی کی مد میں 1091 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
وفاقی حکومت کے سول اخراجات کے لیے 1071 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ہنگامی اور غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے 430 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجموعی جاری اخراجات کا حجم 17 ہزار 495 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1050 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام کی جانب گامزن، بجٹ 2026-27 ترقی اور عوامی ریلیف کا بجٹ ہے، حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر ڈالا، پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہوئی، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ہوا، معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر اور ایکسچینج ریٹ میں استحکام حاصل کیا گیا، مہنگائی میں نمایاں کمی اور مالی نظم و ضبط حکومت کی بڑی کامیابی ہے، صنعتی شعبے اور بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بہتری ریکارڈ کی گئی، برآمدات اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے نئی حکمت عملی متعارف کرائی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری عالمی اعتماد کا اظہار ہے، نجکاری پروگرام کو تیز کیا جا رہا ہے، قومی اداروں کی اصلاحات جاری ہیں، پی آئی اے سمیت اہم سرکاری اداروں کی نجکاری پر پیش رفت ہو رہی ہے، توانائی شعبے میں اصلاحات سے گردشی قرضے میں کمی لائی جا رہی ہے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ متعارف کرا دی گئی، ٹیکس چوری کی روک تھام اور شفافیت کیلئے اے آئی پر مبنی نظام نافذ کیا جا رہا ہے، کاروباری برادری کیلئے آسان اور شفاف ٹیکس نظام حکومت کی ترجیح ہے، ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت کیش لیس معیشت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں اور بینکنگ صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، نوجوانوں کیلئے ہنر، کاروبار اور روزگار کے مواقع بڑھائے جا رہے ہیں، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت لاکھوں نوجوان مستفید ہو رہے ہیں، نوجوانوں کیلئے آسان قرضوں اور زرعی فنانسنگ کے نئے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی ذخیرہ گاہوں اور فوڈ سکیورٹی کیلئے خصوصی فنانسنگ سہولت متعارف کرائی جا رہی ہے، تجارت اور ٹیرف نظام کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے، برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال سے تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس شرح میں کمی کر دی، 6 لاکھ سالانہ آمدن پر زیرو ٹیکس اور 12 لاکھ روپے آمدن پر 1 فیصد ٹیکس ہو گا، 12 لاکھ سے زائد اور 22 لاکھ روپے آمدن تک 11 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا۔
22 لاکھ سے زائد اور 32 لاکھ روپے آمدن تک 20 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، 32 لاکھ سے زائد اور 41 لاکھ روپے آمدن تک 25 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، 41 لاکھ روپے سے زائد اور 56 لاکھ سالانہ آمدن پر 29 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا۔
دستاویز کے مطابق 56 لاکھ روپے سے زائد اور 70 لاکھ سالانہ آمدن پر 32 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 35 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے 185 ارب روپے کے عوض پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو نجی شعبے کے حوالے کیا۔
بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے جبکہ پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کے بعد حکومت پانچ سالہ نجکاری منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ریاستی اداروں میں اصلاحات اور نجکاری کے ذریعے معیشت کو مزید مستحکم بنایا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے جبکہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں میں ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتصادی ترقی کی شرح 4 فیصد جبکہ افراط زر کی اوسط شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر محصولات کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے رکھا گیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق وفاقی حکومت کی خالص آمدن 11 ہزار 751 ارب روپے ہوگی جبکہ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 8 ہزار 848 ارب روپے ہوگا۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کیلئے 838 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے بجٹ میں اضافہ کرکے زیادہ سے زیادہ مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آزاد جموں و کشمیر کیلئے 146 ارب روپے، گلگت بلتستان کیلئے 88 ارب روپے جبکہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 95 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پسماندہ اور ترقی پذیر علاقوں کی ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے برآمدی شعبے کیلئے اہم ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایکسپورٹ انکم پر عائد ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ فنانس سکیم کے تحت مارک اپ کی شرح 19 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد کردی گئی ہے تاکہ برآمد کنندگان کی لاگت میں کمی لائی جا سکے اور ملکی برآمدات کو فروغ ملے۔
دوسری وفاقی حکومت نے پراپرٹی سیکٹر کیلئے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے فائلرز کیلئے جائیداد کی خریداری اور فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کر دی ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق پراپرٹی خریدنے پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد جبکہ فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کارپوریٹ سیکٹر کیلئے اہم ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے منافع کمانے والی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن والی کمپنیوں کیلئے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے آئی ٹی شعبے کو ریلیف دیتے ہوئے آئندہ مالی سال کیلئے آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت آئی ٹی برآمدات کے فروغ اور ڈیجیٹل معیشت کے استحکام کیلئے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا ہے کہ رواں سال 16 لاکھ 70 ہزار تاجر ڈیجیٹل پیمنٹ نظام سے منسلک ہوئے ہیں جبکہ 133 ملین صارفین ڈیجیٹل بینکنگ سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پروڈکشن مانیٹرنگ نظام 27 سیمنٹ فیکٹریوں اور 75 شوگر ملز میں نافذ کیا جا چکا ہے جس سے سالانہ 61 ارب روپے اضافی ٹیکس وصولی متوقع ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ زرخیزی پروگرام کے تحت 7 لاکھ 50 ہزار کسانوں کو 300 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے تعاون سے چھوٹے کاروباروں، نوجوانوں اور خواتین کیلئے بھی آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔
وفاقی حکومت نے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کیلئے ای بائیکس اور ای رکشوں کی خریداری کیلئے سبسڈائزڈ فنانسنگ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ نیوٹیک کے ذریعے نوجوانوں کو فنی تربیت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت عامہ کیلئے 25.1 ارب روپے، ہائر ایجوکیشن کیلئے 46 ارب روپے اور تعلیم کے شعبے کیلئے 26.3 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ انسانی ترقی کے شعبوں میں سرمایہ کاری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور تعلیم و صحت کے منصوبوں کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا کہ حکومت ’نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت کینسر اور دیگر بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی مقامی تیاری کے لیے ایک اہم سہولت متعارف کرا رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ کینسر اور دیگر امراض کی ادویات کی مقامی پیداوار میں استعمال ہونے والی 100 سے زیادہ اقسام کے خام مال پر عائد کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کی جا رہی ہے۔
اُن کا اس بات پر زور دیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ کینسر جیسے موذی امراض نہ صرف مریضوں بلکہ ان کے خاندانوں پر بھی شدید مالی اور جذباتی بوجھ ڈال دیتے ہیں، جسے کم کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرون ملک ادائیگیوں پر عائد ٹرانزیکشن ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ غیر ملکی اثاثے رکھنے والے پاکستانیوں پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے 20 سال بعد آف شور لائسنسنگ کے 24 بلاکس الاٹ کئے ہیں جبکہ مقامی گیس پیداوار بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مارچ 2026 کے بعد قومی نظام میں 100 ایم ایم سی ایف ڈی اضافی گیس شامل کی گئی جس سے بجلی کی پیداوار میں ایندھن کی کمی کے مسئلے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا۔
بجٹ تقریر کے مطابق موجودہ 37 ہزار روپے ماہانہ کم از کم اجرت میں اضافہ کیا جائے گا جس کے بعد کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار 700 روپے ہو جائے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کم آمدن والے طبقے کو ریلیف ملے گا اور مہنگائی کے اثرات کم کرنے میں مدد ملے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے لیے مزید آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔
قومی اسمبلی میں مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ پیش کرنے کے موقع پر ایوان شدید ہنگامہ آرائی کی زد میں رہا، جس کے باعث اجلاس کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جیسے ہی بجٹ تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور حکومت کے خلاف بھرپور نعرے بازی شروع کر دی، جس سے ایوان میں شور شرابہ بڑھ گیا۔
اپوزیشن ارکان نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی، ‘عوام دشمن بجٹ نامنظور’ اور ‘آئی ایم ایف کا بجٹ نامنظور’ کے نعرے لگائے، احتجاج کرنے والے ارکان نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر مہنگائی اور تنخواہ دار طبقے کے مسائل سے متعلق نعرے درج تھے۔
اس دوران بعض ارکان نے بجٹ دستاویزات پھاڑ کر ہوا میں اچھال دیں جس سے سپیکر ڈائس کے سامنے کاغذات کا ڈھیر لگ گیا۔
اجلاس کے دوران بعض ارکان کے درمیان ہاتھا پائی کے واقعات بھی پیش آئے تاہم ہنگامے کے باوجود وزیر خزانہ نے اپنی تقریر جاری رکھی۔
اپوزیشن رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، اس لیے موجودہ بجٹ عوام دوست نہیں ہے۔
دوسری جانب حکومتی ارکان نے اپوزیشن کے طرز عمل کو غیر پارلیمانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ ایک اہم قومی دستاویز ہے جس پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بجٹ اجلاس اکثر سیاسی کشیدگی کا شکار رہے ہیں، اور ماضی میں بھی اپوزیشن کی جانب سے احتجاج، نعرے بازی اور واک آؤٹ کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
بجٹ سے قبل پارلیمنٹ کے باہر سرکاری ملازمین کا احتجاج
وفاقی بجٹ پیش کرنے سے قبل سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان دھکم پیل اور ہاتھا پائی کے واقعات بھی پیش آئے۔ احتجاج میں مختلف سرکاری اداروں کے ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ملازمین کی تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ تنخواہوں اور الاؤنسز میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے، جبکہ پنشن سے متعلق تحفظات ختم کیے جائیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث ان کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومت فوری ریلیف فراہم کرے۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں لاء اینڈ جسٹس ڈویژن کیلئے مجموعی طور پر 240 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کر دیئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق قانون و انصاف ڈویژن کے جاری منصوبوں کیلئے 138 کروڑ روپے جبکہ نئی ترقیاتی سکیموں کیلئے 102 کروڑ 30 لاکھ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ لیگل فسیلی ٹیشن سینٹر کیلئے 22 کروڑ 83 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی باؤنڈری وال، گارڈ رومز اور ججز کی رہائش گاہوں کی تعمیر کیلئے 70 کروڑ 30 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں، چیف جسٹس اور ججز کی نئی رہائش گاہوں کی فزیبلٹی سٹڈی کیلئے 2 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی عدالتوں اور ٹریبونلز کے آٹومیشن فیز ٹو کیلئے ایک کروڑ 67 لاکھ روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔
وزارت قانون کے لیگل ونگز کی مضبوطی کیلئے 5 کروڑ روپے اور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ یونٹ کیلئے 30 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ وزارت قانون کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کیلئے ایک کروڑ 22 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس لٹیگنٹس فسیلٹیشن سینٹر کیلئے 26 کروڑ 17 لاکھ روپے سے زائد، سپریم کورٹ برانچ رجسٹری کوئٹہ کے ایڈمن بلاک کیلئے 22 کروڑ 67 لاکھ روپے اور سپریم کورٹ کراچی برانچ رجسٹری کی توسیع کیلئے 29 کروڑ 5 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مزید برآں کراچی وفاقی عدالتوں اور ٹریبونلز کمپلیکس کیلئے 20 کروڑ روپے، پشاور وفاقی شرعی عدالت کے کیمپ آفس کیلئے 3 کروڑ 91 لاکھ روپے سے زائد جبکہ پشاور وفاقی عدالت کمپلیکس (دوسری نظرثانی) کیلئے 3 کروڑ 47 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے قومی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کر دیئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق دفاع کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ خطے کی غیر یقینی صورتحال کے باعث دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔
وفاقی حکومت نے خواتین کی صحت سے متعلق اہم اقدام کرتے ہوئے سینیٹری پیڈز اور متعلقہ مصنوعات پر ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق حکومت آبادی کی منصوبہ بندی اور صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے جبکہ مانع حمل اشیا پر عائد ٹیکس بھی مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے قومی ترقیاتی پروگرام (PSDP) کا حجم 3 ہزار 675 ارب روپے مقرر کر دیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1 ہزار ارب روپے، صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ہزار 224 ارب روپے جبکہ سرکاری اداروں میں سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق ترقیاتی پروگرام میں انفراسٹرکچر، توانائی، پانی، تعلیم اور صحت کے منصوبے شامل ہیں۔
وفاقی ترقیاتی بجٹ میں ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے کے لیے 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق کراچی سے اندرون ملک شاہراہ N-25، سکھر-حیدرآباد موٹروے M-6 اور پشاور-کراچی ریلوے لائن ML-1 کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
گوادر بندرگاہ اور دیگر ٹرانسپورٹ منصوبوں کے لیے بھی 93 ارب روپے سے زائد رکھے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال میں بجلی کے شعبے کے لیے 116.2 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
بجٹ کے مطابق ہائیڈل، تھرمل اور ٹرانسمیشن منصوبوں کے ساتھ ساتھ قابلِ تجدید توانائی کے 9 منصوبوں کے لیے 50.2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
اسی طرح آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ہائیڈرو منصوبوں کے لیے 13.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت نے پانی کے شعبے کے لیے 103.1 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ڈیموں اور آبی منصوبوں میں داسو، مہمند، دیامر بھاشا اور کراچی واٹر سپلائی (K-4) منصوبے شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے PSDP میں کھیلوں کے انفراسٹرکچر کے لیے 1.85 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
اس میں ارشد ندیم ہائی پرفارمنس سپورٹس اکیڈمی، مختلف شہروں میں ہاکی ٹرفس، سکردو میں کوچنگ سینٹر اور بائیو مکینیکل لیب جیسے منصوبے شامل ہیں۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد کھلاڑیوں کی تربیت اور بین الاقوامی سطح پر بہتر کارکردگی کو یقینی بنانا ہے۔
25 مناظر