Site icon Meritnews

پنجاب پراپرٹی اونر شپ ترمیمی ایکٹ فعال ، 36 اضلاع میں ٹربیونلز نامزد

زمینوں پر قبضوں کے خلاف پنجاب پراپرٹی اونرشپ ترمیمی ایکٹ فعال ہوگیا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب کے 36 اضلاع میں ایڈیشنل سیشن ججز کو ٹربیونلز مقرر کرکے فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کردی جبکہ مجموعی طور پر 575 کیسز میں حکمِ امتناعی ختم کرتے ہوئے تمام کیسز ٹربیونلز کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی ترمیمی ایکٹ کے تحت 36 ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونلز نامزد کیا ہے۔

لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل، قصور میں محمد اشفاق، اٹک میں ندیم احمد سہیل چیمہ، بہاولنگر میں محمد صلابت جاوید، بہاولپور میں ساحر اسلام، بھکر میں محمد اعظم جاوید، چنیوٹ میں نعیم عباس، چکوال میں قاسم علی بھٹی، ڈیرہ غازی خان میں سرفراز حسین، فیصل آباد میں عمران شفیع خان، گوجرانوالہ میں محمد فرحان نبی، گجرات میں مظفر نواز ملک، حافظ آباد میں عمر رشید، جھنگ میں عمر فاروق خان، جہلم میں مرزا اورنگ زیب، خانیوال میں عبداللہ عثمان، خوشاب میں محمد بشیر، لودھراں میں حمد ایاز۔۔۔

لیہ میں محمد پرویز نواز، منڈی بہائوالدین میں محمد فخر آفتاب احمد، میانوالی میں عبدالغفور، ملتان میں غزالہ یاسمین، مظفرگڑھ میں محمد احمد حسنین خان، نارووال میں عالم شیر، ننکانہ صاحب میں مجاہد شیر دل چیمہ، اوکاڑہ میں خلیل احمد خان، پاکپتن میں اسد حفیظ، راولپنڈی میں چودھری قاسم جاوید، راجن پور میں محمد اشرف، رحیم یار خان میں محمد بلال، ساہیوال میں محمد نعیم، سیالکوٹ میں عابد رضا خان، شیخوپورہ میں عبدالحمید، سرگودھا میں ظفر حیات، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں محمد کاشف اور وہاڑی میں محمد عمران فرائض انجام دیں گے۔

ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹی نے زمینوں پر قبضوں کے خلاف سفارشات مرتب کرکے ٹربیونلز کو بھجوا دی ہیں۔

ٹربیونلز کو اختیار ہوگا کہ وہ قبضہ پولیس کے ذریعے واگزار کروائیں اور جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو 3 سے 10 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دے سکیں، اگر کوئی کیس کسی عدالت میں زیر التوا ہوگا تو دونوں میں سے کوئی بھی فریق درخواست دے کر اسے ڈی سی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو منتقل کرنے کی استدعا کرسکے گا ،تاہم حتمی فیصلہ عدالت کا ہوگا۔

اس سے قبل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے مبینہ غلط استعمال پر حکم امتناعی جاری کیا تھا۔ بعد ازاں پنجاب حکومت نے قانون میں ترمیم کی، جس کے بعد ہائیکورٹ میں زیر التوا تمام حکم امتناعی ختم کر دئیے گئے۔

علاوہ ازیں ایڈیشنل سیشن ججز ٹربیونلز میں فرائض انجام د یں گے، فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے جبکہ حکم امتناعی ختم کرکے 575 کیسز ٹربیونلز کو بھیج دئیے گئے ہیں، ٹربیونلز کو قبضہ پولیس کے ذریعے واگزار کرانے ،جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو 3 سے 10 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔

Exit mobile version