
افغانستان سے شہریوں اور اداروں پر حملے برداشت نہیں، بھارت دریائے چناب کا رخ نہیں موڑ سکتا: دفتر خارجہ
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں قیام امن کیلئے بہترین اور مخلصانہ کردار ادا کر رہا ہے، فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہیں، چناب کے پانی پر اپنے حقوق کا تحفظ کریں گے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگرد حملوں کے تسلسل نے پاکستان کے صبر کا امتحان لیا ہے لہٰذا پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار ملک ہے، ہزاروں پاکستانی شہری دہشتگردی کے باعث جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں، پاکستانی سکیورٹی فورسز کو سرحد پار سے منصوبہ بندی، مالی معاونت اور سرپرستی یافتہ دہشتگردی کا سامنا ہے، کوئی بھی ذمہ دار ریاست اپنی خودمختاری اور شہریوں کی سلامتی کو نشانہ بنانے والے حملوں پر خاموش نہیں رہ سکتی۔
ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتے میں سفارتی سطح پر بہت مصروفیات رہیں، وزیراعظم نے چین کا کامیاب دورہ کیا، پاکستان اور چین مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے دورہ چین کے بعد امریکا کا دورہ کیا، امریکی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں، ملاقاتوں میں نائب وزیراعظم نے امن کے قیام کیلئے کوششوں پر گفتگو کی، مارکو روبیو نے پاکستان کے ثالثی کے کردار کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی، مشرقی القدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی گئی، اسرائیل سے فوری طور پر غیر قانونی اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا گیا، ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے مؤقف پر بدستور قائم ہے۔
دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی دریائے بیاس کی جانب موڑنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں سلال ڈیم کی ڈی سلٹنگ کا معاملہ انتہائی تشویشناک ہے، پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب پر اپنے حقوق کی حفاظت کرے گا، بھارت سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا پابند ہے۔
ترجمان نے کہا کہ 1978 کے سلال معاہدے کے تحت ڈیم کی ڈی سلٹنگ کی اجازت نہیں، بھارت کی جانب سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین اور سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں سلال ڈیم کی ڈی سلٹنگ کے حوالے سے پاکستان کو پیشگی آگاہ نہیں کیا، جو معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غذائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش سے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے، سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں کے پانی کے بلا روک ٹوک استعمال کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے جموں و کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بین الاقوامی شخصیت کا مقبوضہ کشمیر کا دورہ خطے کی قانونی اور سیاسی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا، پاکستان، بھارت میں تعینات سوئس سفیر کے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے معاملے پر سوئس حکام سے رابطے میں ہے اور اپنی تشویش سے انہیں آگاہ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اختلافات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے چین، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی رابطے کیے ہیں، جن کا مقصد علاقائی امن، عالمی تعاون اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا ہے، وزیراعظم پاکستان نے 23 سے 26 مئی کے دوران چین کا اہم دورہ کیا جس میں چینی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے چین سے واپسی پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی فورم میں شرکت کی اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور مشترکہ عالمی مسائل کے حل پر مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں پرتگال، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک شامل تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں اور مختلف دوست ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، پاکستان کا موقف واضح ہے کہ خطے کا استحکام مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام فریقین کو تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
دفتر خارجہ کے مطابق حالیہ دنوں میں مصر، ویتنام، ایران اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ٹیلیفونک رابطے ہوئے جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں دور بھی منعقد ہوا جس میں تعاون کے مختلف شعبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
22 مناظر