اسرائیل نے لبنان جنگ بندی معاہدے کے بعد ایک بار پھر جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ کر دیا جس میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان میں زیفتا کفروہ سڑک پر ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی ڈرون حملے میں کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی حکام کی ثالثی میں ہونے والے متعدد مذاکرات کے بعد جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے مطالبے کے مطابق دریائے لیتانی کے جنوب سے اپنی فورسز واپس بلانے پر آمادہ ہوگی یا نہیں۔
ادھر اسرائیل کے سخت گیر قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے اسرائیل لبنان معاہدے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے سنگین غلطی اور مشیروں کا ایک خیالی منصوبہ قرار دیا ہے، جو ان کے بقول وزیر اعظم کو غلط فیصلوں کی طرف لے جا رہا ہے۔
قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل نے واشنگٹن میں مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے جس کا مقصد جاری لڑائی کا خاتمہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جنگ بندی اس شرط پر نافذ ہوگی کہ حزب اللہ کی جانب سے مکمل طور پر فائرنگ بند کی جائے اور جنوبی لِیطانی سیکٹر سے اس کے تمام جنگجوؤں کا انخلا یقینی بنایا جائے۔
