
پنجاب انسداد دہشتگردی ایکٹ میں نئی دفعہ شامل، علیحدہ عدالتی طریقہ کار متعارف ہوگا
پنجاب حکومت نے انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 میں نئی دفعہ 21AAA شامل کرنے کی منظوری دے دی جس کا مسودہ دنیا نیوز نے حاصل کر لیا ہے۔
پنجاب حکومت نے خصوصی سکیورٹی کیسز کیلئے علیحدہ عدالتی طریقہ کار متعارف کرانے کی منظوری دی، ترمیم کے تحت مخصوص دہشتگردی مقدمات کو خصوصی سکیورٹی کیس قرار دیا جاسکے گا۔
نامزد اتھارٹی کو اختیار ہوگا کہ غیرمعمولی سکیورٹی خدشات والے مقدمات کو خصوصی سکیورٹی کیس قرار دے سکے، خصوصی سکیورٹی کیسز میں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اے ٹی سی ججز میں سے خصوصی جج نامزد کریں گے۔
خصوصی سکیورٹی کیسز میں پراسیکیوٹر جنرل پنجاب پانچ پراسیکیوٹرز پر مشتمل پینل فراہم کریں گے، نامزد اتھارٹی پراسیکیوٹرز کے پینل میں سے ایک پراسیکیوٹر مقرر کرے گی۔
خصوصی سکیورٹی کیسز میں گواہوں کو اصل نام کے بجائے مخصوص شناختی کوڈ دئیے جائیں گے، خصوصی سکیورٹی کیسز میں ججز اور پراسیکیوٹرز کے نام سرکاری گزٹ میں شائع نہیں کئے جائیں گے، دہشت گردی مقدمات کا مکمل عدالتی ریکارڈ سیل کرکے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے پاس محفوظ رکھا جائے گا۔
شناخت چھپانے کیلئے آواز تبدیل کرنے والی ٹیکنالوجی استعمال ہوسکے گی ، خصوصی سکیورٹی کیسز کی سماعت صرف محفوظ مقامات پر ہوگی، خصوصی سکیورٹی کیسز کیلئے عدالتوں میں خصوصی حفاظتی آلات اور سکیورٹی انتظامات لازمی ہوں گے۔
سکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کی صورت میں جیل سے ورچوئل ٹرائل کی اجازت ہوسکے گی ، ترمیم کے تحت اپیلٹ کورٹس میں بھی خصوصی سکیورٹی کیسز کی شقیں لاگو ہوسکیں گی۔
پنجاب حکومت گریڈ 20 یا اس سے اوپر کے افسر کو نامزد اتھارٹی مقرر کرے گی، نامزد اتھارٹی کو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کا اختیار دیا جائے گا، نامزد اتھارٹی کو خصوصی سکیورٹی کیس قرار دینے یا نہ دینے کا اختیار ہوگا، نامزد اتھارٹی حکومت کے ساتھ رابطہ اور عملدرآمد کی نگرانی بھی کرے گی۔
13 مناظر