
ایشیائی اتحادی ممالک چین کے مقابلے کیلئے دفاعی اخراجات بڑھائیں: امریکا
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایشیائی اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنے اور خطے میں اس کی بالادستی کو روکنے کے لیے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں۔
سنگاپور میں شانگری لا مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع ہیگستھ نے خبردار کیا کہ چین کی تیز رفتار فوجی ترقی پر جائز تشویش پائی جاتی ہے۔
شانگری لا مباحثہ ایشیا کے دفاعی رہنماؤں، فوجی حکام اور سفارت کاروں کا ایک اہم فورم ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ اتحادی ممالک کا ایک مضبوط اور زیادہ خودمختار نیٹ ورک جارحیت کو روکنے اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے، چین کی تاریخی نوعیت کی فوجی توسیع اور خطے سمیت دنیا بھر میں اس کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے جائز تشویش موجود ہے۔
ہیگستھ نے مزید کہا کہاگر بحرالکاہل پر کسی ایک طاقت کا غلبہ قائم ہو گیا تو خطے میں طاقت کا توازن بکھر جائے گا، چین سمیت کوئی بھی ملک اپنی بالادستی مسلط نہیں کر سکتا اور نہ ہی ہماری یا ہمارے اتحادیوں کی سلامتی اور خوشحالی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے ایشیائی اتحادیوں اور شراکت داروں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ دفاع پر اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 3.5 فیصد خرچ کریں، جبکہ امریکا خود اپنی فوج پر 1.5 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا عزم کر چکا ہے۔
ہیگستھ نے زور دیا کہ اتحادی ممالک کشیدگی نہیں بلکہ استحکام چاہتے ہیں، وہ جو چاہتے ہیں، اور جو امریکا فراہم کرتا ہے، وہ نظم و ضبط پر مبنی طاقت، ثابت قدم عزم، اور ایسا پُراعتماد قیادت ہے جو نرمی سے بات کرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط قوت بھی رکھتی ہو۔
پیٹ ہیگستھ نے امریکا اور چین کے تعلقات کے بارے میں نسبتاً متوازن مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی برسوں میں سب سے بہتر ہیں، فوجی سطح پر بڑھتے ہوئے رابطے کشیدگی کو قابو میں رکھنے میں مدد دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے چینی ہم منصبوں سے زیادہ باقاعدگی سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور فوجی رابطوں کے ذرائع کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع نے اپنے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس مؤقف کو دہرایا کہ اتحادی ممالک کو اپنی دفاعی ضروریات کے لیے زیادہ ذمہ داری خود اٹھانی چاہئے، ٹرمپ طویل عرصے سے یورپی اور نیٹو اتحادیوں پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ واشنگٹن پر انحصار کم کریں۔
ہیگستھ نے کہا کہ امیر ممالک کے دفاع کے اخراجات امریکا کے ذریعے برداشت کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے، ہمیں محافظت کے محتاج نہیں بلکہ حقیقی شراکت دار درکار ہیں، کوئی اتحاد اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک سب اس میں اپنا حصہ نہ ڈالیں۔ مفت فائدہ اٹھانے کی گنجائش نہیں۔
انہوں نے جنوبی کوریا، فلپائن، آسٹریلیا، سنگاپور، ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے دفاعی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ جاپان بھی اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔
ایران پر دوبارہ حملوں کے لیے تیار
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ہیگستھ نے کہا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں تو امریکا ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں تاکہ جوہری معاہدے کی راہ میں حائل اختلافات کو دور کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ کارروائی شروع کرنے کی ہماری صلاحیت مکمل طور پر موجود ہے، صدر ٹرمپ اب بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ایسا مضبوط معاہدہ چاہتے ہیں جو اس بات کو یقینی بنائے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
ہیگستھ نے یہ بھی واضح کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال امریکا کی ایشیا بحرالکاہل ترجیحات کو متاثر نہیں کرے گی، ہم ایک وقت میں دو کام کر سکتے ہیں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث امریکی ہتھیاروں کے ذخائر کم ہونے کے خدشات بے بنیاد ہیں۔
خیال رہے کہ تائیوان امریکا سے تقریباً 14 ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کے پیکیج کی منظوری کا منتظر ہے، ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ابھی اس پیکیج کی منظوری کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پائے ہیں، جس سے تائیوان میں کچھ غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔
ہیگستھ نے واضح کیا کہ آئندہ اسلحہ فروخت کے فیصلے صدر ٹرمپ کریں گے اور واشنگٹن کی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی، یہ فیصلے صدر اور دونوں ممالک کے تعلقات کی نوعیت پر منحصر ہوں گے، ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
19 مناظر