• صدر و سیکرٹری لاہور پریس کلب کے نام

    صدر و سیکرٹری لاہور پریس کلب کے نام

    تحریر: جاوید کمیانہ

    صدر محترم لاہور پریس کلب جناب ارشد انصاری بلاشبہ صحافت کا وہ باب ہیں جنہوں نے گزشتہ دو دہائیوں سے صحافی برادری کی عملی خدمت کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں جس کے جواب میں صحافی برادری بھی ان سے والہانہ محبت رکھتی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ میری زندگی میں کبھی ان سے ملاقات بھی نہیں ہے اور حالیہ پریس کلب کے انتخاب میں ہم ان کی فتح کے لیے عملی طور پر میدان میں نکلے اور ہمارے ادارے روزنامہ میرٹ نیوز لاہور کے دو ساتھی جن کے نام ملک شفیق اور افتخار خان ہیں جو لاہور پریس کلب کے ممبرز بھی ہیں ناصرف اپنے ووٹ دیئے بلکہ کشکول ہاتھ میں پکڑے اپنے دوستوں سے صدر و سیکرٹری صاحب کے لیے ووٹ مانگتے رہے اور یہ احقر ساتھ ہوتا تھا بلکہ انتخاب کے دن لاہور پریس کلب میں رات گئے تک دیگر ساتھیوں کے ہمراہ موجود رہا جس کی بطور ثبوت تصاویر بھی شائع کروں گا۔
    گزشتہ روز میں روزنامہ میرٹ نیوز کی مساوات بلڈنگ میں واقع پریس سے نکلا اور اپنے اخباری ساتھی کے ہمراہ لاہور پریس کلب کے گیٹ کے سامنے سے گزرا دفتعا خیال آیا کہ لاہور پریس کلب میں موجود انتہائی شفیق اور خوبصورت انسان عقیل صاحب کو سلام پیش کر لوں تو گیٹ پر موجود سیکورٹی اہلکار کو استفسار پر بتایا کہ عقیل صاحب کو ملنا ہے اگر وہ صاحب بتا دیتے کہ وہ موجود نہیں ہیں تو میں وہیں سے واپس چلا جاتا مگر استقبالیہ سے معلوم ہوا کہ وہ چلے گئے ہیں۔ میں ابھی موبائل نکال کر عقیل صاحب کو فون کر کے اپنی حاضری قبول کرنے کا کہنے ہی لگا تو مزکورہ سیکورٹی اہلکار نے کہا کہ لاہور پریس کلب کے ممبرز کے علاؤہ دیگر انسانوں کا داخلہ ممنوع ہے میں نے عرض کیا کہ میں صرف فون کرنے لگا ہوں مگر وہ بدتمیزی پر اتر آیا جس پر ان کی تسلی کے لیے اپنا ڈی جی پی آر اور ادارے کا کارڈ دکھایا کہ میرا تعلق شعبہ صحافت سے ہی ہے مگر میری نہ سنی گئی اور میرے جونیئر ساتھی سب ایڈیٹر کے سامنے بے عزتی کی گئی بلکہ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ دھکے مار کر باہر نکال دیتا جس پر میں نے عقیل بھائی سے بات بھی کروائی مگر بے سود رہی نتیجتاً میں پریس کلب سے باہر نکل آیا
    جناب صدر ارشد انصاری اگر آپ کے یہ سخت حکامات ہیں تو مجھے افسوس ہے کہ بنا ملاقات کے جس شخص سے والہانہ عقیدت رکھتے ہیں وہ محض لاہور پریس کلب کے معزز ممبران کے علاؤہ کسی کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ کوئی لاہور پریس کلب کے گیٹ سے داخل بھی ہو سکے تو کیا انتخابات سے قبل ووٹوں کے حصول کے لیے جو ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں وہ لاہور پریس کلب کے ممبرز ہوتے ہیں ؟ کیا جوڑ توڑ کے لیے لاہور پریس کلب کے ممبران کے سوا کوئی سہارا نہیں لیا جاتا ؟ کیا انتخابات کے دن موجود ہزاروں افراد کے ہجوم میں کوئی غیر ممبر نہیں ہوتا ؟
    کیا آپ کی جیت کا جشن منانے والے اور نعرے لگانے والوں میں تمام صحافی خواتین و حضرات یا لاہور پریس کلب کے ممبران ہوتے ہیں ؟
    ایک بات اور آپ جیسے صحافت کے سینیئر ترین صحافی میری رہنمائی فرما دیں کہ پاکستان کے کسی حساس ادارے میں بھی جانا ہو اور اگر وہاں کسی سے شناسائی ہے تو اس دفتر میں جانا قدرے آسان مگر لاہور پریس کلب میں داخل ہونا ممنوع ہے۔
    میرے ساتھ رات کیے گئے ناروا سلوک کا مجھے انتہائی افسوس ہے میں گزارش کرتا چلوں کہ نا ہمیں پریس کلب کی ممبرشپ کی خواہش ہے نا کسی پلاٹ کے حصول کی کیونکہ میرا اوڑھنا بچھونا صحافت نہیں ہے میں تین کاروبار کرتا ہوں تاکہ حلال روزگار کے ذریعے اپنی فیملی کی کفالت کر سکوں اور سارے کاروبار جائز طریقے سے کرتے ہوئے سالانہ بنیادوں پر اپنا ٹیکس ادا کرتا ہوں۔
    میری صدر و سیکرٹری لاہور پریس کلب سے اپیل ہے کہ گیٹ پر کوئی انسان کھڑے کیے جائیں جن کو بولنے کی تمیز ہو مجھے مکمل یقین ہے کہ سیکورٹی پر مامور ایسے بد تہزیب افراد کو ان کے گھر سے ایک وقت کی روٹی مانگنے پر بھی نہیں ملتی ہو گی مگر وہ پریس کلب کے گیٹ پر صدر صاحب کے سخت احکامات کا سہارا لے کر عزت دار عوام کے ساتھ بدتمیزی کے کلچر کو عام کر کے آپ لوگوں کی خدمات کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
    خدارا کوئی ایسا میکنزم یا طریقہ وضح فرما دیں کہ جس کے پاس صحافت کا کوئی مستند ثبوت موجود ہو وہ پریس کلب میں داخل ہو سکے۔

    28 مناظر