
صدر شی ایران کے جوہری ہتھیار نہ رکھنے اور آبنائے ہرمز کھولنے پر متفق ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ سے آج دوبارہ ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ شاندار تجارتی معاہدے کیے ہیں، صدر شی ایران کے جوہری ہتھیار نہ رکھنے اور آبنائے ہرمز کھلنے پر متفق ہیں۔
یہ بیان انہوں نے اس وقت دیا جب شی جن پنگ انہیں ژونگ نان ہائی کے باغات کی سیر کرا رہے تھے، جو بیجنگ میں واقع ایک مرکزی قیادت کا کمپاؤنڈ ہے اور ممنوعہ شہر کے قریب واقع ہے۔
بعدازاں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے تاریخی سہ روزہ دورہ کے بعد واپس وطن روانہ ہو گئے۔
اس سے پہلے چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ نیا دو طرفہ تعلق قائم کیا ہے جو انتہائی تعمیری ہے، امریکہ کے ساتھ نیا تعلق ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، امریکی صدر ٹرمپ کو بطور تحفہ چینی گلابوں کے بیج بھیجیں گے۔
چینی صدرنے مزید بتایا کہ چہل قدمی کے دوران جس درخت کو انھوں نے دیکھا وہ 490 سال پرانا تھا۔ اسی دوران چینی صدر نے کہا کہ وہ باغ میں دیکھے گئے چینی گلابوں کے بیج ٹرمپ کو تحفے کے طور پر بھیجیں گے، اس پر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے یہ بہت پسند آیا، یہ بہت اچھا ہے۔
چینی صدر کے خطاب کے دوران صحافیوں کو کمرے سے باہر جانے کا کہہ دیا گیا، چینی صدر کے خطاب کے دوران براہ راست نشریات بھی ختم کر دی گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چینی صدر کے ساتھ بات چیت مثبت اور تعمیری رہی، اچھے تجارتی معاہدے کیے ہیں، ہم ایران کے بارے میں ایک جیسا محسوس کرتے ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں آبنائے ہرمز کھلی رہے، ہم نے بہت سے مسائل کا حل نکال لیا، جو کوئی نہیں کر سکتا تھا۔
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں اشارہ دیا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کی تلاش بنیادی طور پر سیاسی ساکھ اور عوامی دکھاوے کے لیے تھی جبکہ اسرائیل نے اسے جنگی ہدف بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ یورینیم مجھے مل جائے تو درحقیقت مجھے زیادہ بہتر محسوس ہو گا، لیکن میرا خیال ہے کہ یہ کسی بھی دوسری چیز کے مقابلے میں عوامی ساکھ کے لیے زیادہ ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران یا تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرے یا مکمل تباہی کے لیے تیار رہے، امید ہے ایران میرا پیغام سن رہا ہوگا، امریکہ کو معلوم ہے ایران نے اپنے ہتھیار کہاں منتقل کیے ہیں، جانتے ہیں کچھ میزائل زیرِ زمین تنصیبات سے نکالے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سب ایک دن میں ختم ہو جائے گا، موجودہ ایرانی قیادت ماضی کے مقابلے میں زیادہ معقول ہے، نئی ایرانی قیادت پہلے اور دوسرے درجے کے ان عہدیداروں سے زیادہ ذہین ہے جو اب موجود نہیں۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو جنہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ 28 فروری سے ایران پر حملے کا حکم دیا تھا، نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی کیونکہ حساس جوہری مواد کو ملک سے باہر نکالنا ضروری ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہُرمز کو کھلا رکھنے میں چین کی مدد کی پیش کش کی ہے اور وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں فوجی سازوسامان فراہم نہیں کریں گے۔
ٹرمپ نے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایک بڑا کاروباری معاہدہ ہو چکا ہے، جس کے تحت چین 200 بڑے بوئنگ طیارے خریدنے پر آمادہ ہوا ہے، تاہم اس اعلان کے بعد بوئنگ کے حصص میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ مارکیٹ کو چین کی جانب سے اس سے زیادہ بڑے آرڈر کی توقع تھی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ چین نے امریکی تیل اور سویابین خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
چین ایرانی تیل کا ایک اہم خریدار ہے، ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال ٹیرف عائد کیے جانے سے پہلے امریکی تیل کی معمولی مقدار خریدتا تھا، اسی طرح اس نے امریکی سویابین کی خریداری بھی کم کر دی تھی اور اس کی بجائے برازیل کا رخ کیا تھا۔
فاکس نیوز کے انٹرویو میں تائیوان کا ذکر نہیں کیا گیا، اور ٹرمپ نے بھی صحافیوں کے سوالات پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے سی این بی سی کو بتایا کہ صدر آئندہ دنوں میں اس موضوع پر مزید بات کریں گے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے تھیوسیڈائڈز ٹریپ کا حوالہ بھی دیا، جو ایک سیاسی نظریہ ہے جس کے مطابق ایک ابھرتی ہوئی طاقت اور ایک قائم شدہ عالمی طاقت کے درمیان جنگ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تاہم شی جن پنگ نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکا اور چین اس خطرے سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔
آج صبح سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ شی جن پنگ نے بہت نفاست سے امریکہ کو شاید ایک زوال پذیر قوم قرار دیا، ٹرمپ نے اصرار کیا کہ شی جن پنگ کا اشارہ ان کے دورِ حکومت کی طرف نہیں بلکہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور کی طرف تھا۔
ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ دو سال پہلے واقعی ہم ایک زوال پذیر قوم تھے، اب امریکہ دنیا کا سب سے زیادہ متحرک ملک بن چکا ہے، اور امید ہے کہ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات پہلے سے زیادہ مضبوط اور بہتر ہوں گے۔
35 مناظر