
آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہاز پر حملہ، پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا: ایرانی فوج کا دعویٰ
ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں سخت وارننگ دے کر امریکی جنگی جہازوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب امریکی جنگی جہاز پر دو میزائل داغے گئے ہیں، امریکی جہاز نے وارننگ کو نظر انداز کیا، واقعہ جزیرہ جاسک کے قریب پیش آیا۔
اس سے پہلے ایرانی فوج نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکی افواج آبنائے ہرمز میں داخل ہوئیں تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔
ایرانی فوج کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ طور پر آمدورفت سے متعلق ایک آپریشن کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے مرکزی فوجی کمان کے سربراہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والی کسی بھی غیر ملکی مسلح فورس کو نشانہ بنایا جائے گا، ’خصوصاً امریکی فوج کو۔
ایرانی فوج کے میجر جنرل علی نے کہا ہے کہ ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے اور اس سے محفوظ آمدورفت کا عمل ہر صورت ایران کے ساتھ ہم آہنگی میں ہونا چاہئے۔
یہ بیان ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی جانب سے نشر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ پراجیکٹ فریڈم‘ کی حمایت کے لیے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز، 100 سے زائد زمینی و بحری طیارے، مختلف شعبوں میں استعمال ہونے والے بغیر پائلٹ پلیٹ فارمز اور 15 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج چار مئی سے اس منصوبے کی معاونت کا آغاز کریں گی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازرانی کی آمدورفت کو آزادنہ طور پر بحال کرنا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق دنیا بھر کی سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ اور ایندھن و کھاد کی بڑی مقدار آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔
سینٹ کام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ ہماری جانب سے اس دفاعی مشن کی حمایت علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہے جب کہ ہم بحری ناکہ بندی کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں، آبنائے ہرمز میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔
علاوہ ازیں ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے نئے بحری انتظام میں کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے الزام تراشی پر مبنی بیانیے کو مسترد کرتے ہیں، آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کسی بھی صورت ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر حقیقی پوسٹس کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا، یہ محض بیان بازی کی جگہ نہیں ہے۔
32 مناظر