ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کی تیل کی فروخت روکنے کے اقدامات کے باوجود تاحال صورتحال اس طرح نہیں بگڑی کہ تیل کے ذخائر اپنی مکمل گنجائش تک پہنچ گئے ہوں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی اقدامات کے نتیجے میں صرف عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہی ہوا ہے، 3 دن گزر گئے، کوئی کنواں تباہ نہیں ہوا، ہم اسے 30 دن تک بڑھا سکتے ہیں اور یہاں کنویں کی براہ راست نشریات بھی کر سکتے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر نے امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ سمیت امریکی حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالنے سے متعلق غلط اور بے بنیاد مشوروں پر عمل کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جن لوگوں نے ناکہ بندی کی تھیوری کو آگے بڑھایا، انہوں نے تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچا دیں، اب یہ 140 ڈالر تک جا سکتی ہیں، اصل مسئلہ نظریہ نہیں بلکہ سوچ کا انداز ہے۔
