Site icon Meritnews

آبنائے ہرمز کی بندش عالمی امن اور ترقی پذیر ممالک کیلئے سنگین خطرہ ہے: پاکستان

پاکستان نے آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران سفارت کاری اور بحری تعاون پر زور دیا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ عالمی بحری راستوں میں رکاوٹ، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش، بین الاقوامی امن، معاشی استحکام اور ترقی پذیر ممالک کے لئے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بحری سلامتی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نمائندے عاصم افتخار احمد نے کہا سمندری راستوں کا تحفظ نہ صرف تجارت بلکہ وسیع تر ترقیاتی اور سلامتی کے اہداف کے لئے بھی ناگزیر ہے۔

عالمی بحری علاقے اکیسویں صدی کے اہم جغرافیائی و سٹریٹجک میدان ہیں جہاں موجودہ دور کے بڑے چیلنجز ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں یہ سمندری راستے عالمی تجارت کی شہ رگ ہیں اور زمین کے ماحولیاتی نظام کی صورتحال کا اہم پیمانہ بھی ہیں جبکہ جدید معیشتیں بڑی حد تک بلا تعطل بحری تجارت پر انحصار کرتی ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے آبنائے ہرمز میں جاری رکاوٹ کو اس کی واضح مثال قرار دیا کہ کس طرح بحری عدم استحکام عالمی بحرانوں کو جنم دے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور اس کے نتیجے میں خوراک اور توانائی کی سلامتی پر پڑنے والے اثرات، اور عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتی ہیں۔

پاکستانی مستقل مندوب نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے آئل، گیس کی ترسیل کا مسئلہ ہے، عالمی حالات سے ترقی پذیر ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں، پاکستان چین، سعودی عرب، ترکیہ، مصر جیسے برادر ملکوں کیساتھ رابطے میں ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ امریکا اور ایران کے معاملات میں استحکام لانے کیلئے کوشاں ہیں، پاکستان موجودہ بحران کے حل کیلئے ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی پر یقین رکھتا ہے، جنگ کے خاتمے، قیام امن کیلئے پاکستان ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔

Exit mobile version