
ٹرمپ ایران کی جنگ کے خاتمہ کی نئی تجویز سے ناخوش ہیں: امریکی عہدیدار کا دعویٰ
ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے دو ماہ سے جاری جنگ کے حل کے لیے پیش کی گئی تازہ تجویز سے ناخوش ہیں۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق اس پیش رفت نے تنازع کے حل کی امیدوں کو کمزور کر دیا ہے، اس تنازع نے توانائی کی فراہمی کو متاثر کیا، مہنگائی میں اضافہ کیا اور ہزاروں افراد کی جانیں لے لیں۔
ایران کی نئی تجویز کے مطابق اس کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو جنگ کے خاتمے اور خلیج سے جہاز رانی سے متعلق تنازعات کے حل تک مؤخر کیا جائے گا، یہ بات امریکا کے لیے قابل قبول ہونے کا امکان کم ہے، کیونکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ جوہری معاملات پر ابتدا ہی سے بات ہونی چاہئے۔
ایک امریکی عہدیدار، جس نے صدر ٹرمپ کی مشیروں کے ساتھ ہونے والی ملاقات پر بریفنگ دی تھی اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسی وجہ سے ٹرمپ اس تجویز سے ناخوش ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا نے کہا کہ امریکا میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا اور یہ کہ ہم اپنی سرخ لکیروں کے بارے میں واضح ہیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ فروری میں ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ 2015 میں ایران اور امریکا سمیت کئی دیگر ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس نے ایران کے جوہری پروگرام کو نمایاں حد تک محدود کر دیا تھا، جس کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ یہ پرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم یہ معاہدہ اس وقت ختم ہو گیا جب ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی مدت میں یکطرفہ طور پر اس سے دستبرداری اختیار کر لی۔
امن کی کوششوں کی بحالی کی امیدیں اس وقت مزید کم ہو گئیں جب امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں اپنے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا، اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دو دن میں دو بار اسلام آباد کا دورہ کیا۔
عباس عراقچی نے نے عمان کا بھی دورہ کیا اور پھر روس گئے، جہاں انہوں نے صدر ولادیمیر پیوتن سے ملاقات کی جنہوں نے ایران کی ہر طرح سے حمایت کا اعلان کیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان اب بھی واضح اختلاف موجود ہے، اس لیے تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے اور آج ایشیائی تجارت کے ابتدائی اوقات میں اضافہ ہوا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کے تاجروں کے لیے اب بیانات اہم نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل کی حقیقی ترسیل اہم ہے، اور اس وقت یہ بہاؤ محدود ہے۔
جہازوں کے ڈیٹا کے مطابق حالیہ دنوں میں ایرانی تیل سے لدے کم از کم چھ ٹینکروں کو امریکی ناکہ بندی کے باعث واپس ایران جانا پڑا، جو اس جنگ کے بحری نقل و حمل پر اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پر امریکی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں کھلے عام سمندری قزاقی اور مسلح ڈکیتی کو قانونی شکل دینا قرار دیا۔
جنگ سے قبل روزانہ 125 سے 140 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، لیکن حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دن میں صرف سات جہازوں نے یہ راستہ استعمال کیا، اور ان میں سے کوئی بھی عالمی منڈی کے لیے تیل لے کر نہیں جا رہا تھا۔
دوسری طرف اپنی مقبولیت میں کمی کے باعث ٹرمپ کو اندرونِ ملک اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، جس کے لیے وہ عوام کو مختلف وجوہات پیش کرتے رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے روس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے مذاکرات کی درخواست کی کیونکہ امریکا اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
سینئر ایرانی حکام نے بتایا کہ عراقچی کی جانب سے اسلام آباد میں پیش کی گئی تجویز مرحلہ وار مذاکرات پر مبنی تھی، جس میں ابتدائی مرحلے میں جوہری مسئلے کو ایک طرف رکھا جائے گا۔
پہلے مرحلے میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کا خاتمہ اور یہ ضمانت شامل ہوگی کہ امریکا دوبارہ یہ جنگ شروع نہیں کرے گا، اس کے بعد مذاکرات میں امریکی بحریہ کی جانب سے ایران کی سمندری تجارت پر عائد ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کا تعین کیا جائے گا، جسے ایران اپنے کنٹرول میں دوبارہ کھولنا چاہتا ہے۔
اس کے بعد ہی دیگر مسائل پر بات ہوگی، جن میں ایران کے جوہری پروگرام پر دیرینہ تنازع بھی شامل ہے، جبکہ ایران اب بھی یورینیم افزودگی کے اپنے حق کے امریکی اعتراف کا خواہاں ہے۔
51 مناظر